دو لڑکیوں کی باہمی شادی کا افسوسناک واقعہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۷ء

ان دنوں اخبارات میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کا تذکرہ چل رہا ہے جنہوں نے آپس میں شادی رچا لی ہے، شہزینہ اور نازیہ نامی دو لڑکیوں نے ایک دوسرے کی محبت میں باہمی شادی کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے ایک نے لڑکا بننے کے لیے آپریشن کرایا جس سے اس کے چہرے پر داڑھی وغیرہ کے آثار نمودار ہوئے اور دونوں نے آپس میں شادی کر لی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ داڑھی نمودار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک لڑکی ہے تو خاندان کی طرف سے بات عدالت تک جا پہنچی۔ عدالت نے معائنہ کرایا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ خود کو لڑکا ظاہر کرنے والی لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہے، اس پر عدالت نے شادی کو منسوخ قرار دے کر دونوں کو جیل بھجوا دیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق متعدد این جی اوز اس سلسلہ میں متحرک ہوگئی ہیں اور اس کیس کو عالمی سطح پر میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے لا کر پاکستان کے خلاف مختاراں مائی طرز کے ایک اور کیس کو آگے بڑھانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

جہاں تک لڑکی کی لڑکی کے ساتھ شادی کا تعلق ہے یہ اسی ’’ہم جنس پرستی‘‘ کی ایک شکل ہے جسے تمام مذاہب میں حرام قرار دیا گیا ہے اور دنیا کے تمام شریف حلقے اسے انسانی فطرت کے خلاف سمجھتے ہوئے اس سے نفرت کرتے ہیں۔ بائبل اور قرآن کریم دونوں نے اسے ’’فحش عمل‘‘ قرار دیا ہے اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کا باعث بتایا ہے، جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مساحقہ‘‘ کے عنوان سے اس کی واضح طور پر مذمت فرمائی ہے اور اسے لعنتیوں کا عمل قرار دیا ہے۔ البتہ بعض روایات کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے یہ پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ قیامت سے پہلے یہ عمل عام ہوجائے گا اور امت کی بربادی کے اسباب میں اضافہ کرے گا۔

دوسری طرف مغرب کے آزاد فلسفہ میں اسے انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے اور نہ صرف یہ کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہم جنس پرستی کو ایک انسانی حق قرار دے کر اس کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں بلکہ بہت سے مغربی ملکوں کی پارلیمینٹیں باقاعدہ قانون سازی کرکے اس مکروہ عمل کو قانونی جواز فراہم کر رہی ہیں۔

اس پس منظر میں اس شرمناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ایک مسلمان سوسائٹی میں دو لڑکیوں کا اس حد تک آگے بڑھ جانا، اولاد کی دینی تعلیم و تربیت سے ماں باپ کی غفلت اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ مسلسل پھیلائی جانے والی فحاشی کا نتیجہ ہے۔ یہ ملک بھر کے ان مسلم خاندانوں کے لیے الارم کی حیثیت رکھتا ہے جو آزادی اور روشن خیالی کے عنوان سے اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت سے کوتاہی برت رہے ہیں اور جنہوں نے اپنی اولاد کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا چینلوں کے فحش اور عریاں ماحول کے حوالے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نئی پود کے دین و اخلاق کی حفاظت فرمائیں، آمین۔