جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اپریل ۲۰۰۲ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بہت کچھ فرمایا ہے اور ریفرنڈم مہم کے لیے جن پبلک جلسوں کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی صدر محترم کچھ فرمائیں گے۔ انہوں نے آئندہ سیاسی نظام کے لیے اپنی ذات کو محور بنانے اور آئینی ترامیم کے حوالہ سے اپنی سوچ کو واحد بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی روایات کی پاسداری معروضی حالات میں ان کا ”حق“ بنتا ہے کیونکہ پاکستان کے ہر چیف آف آرمی سٹاف کو عملاً ملک میں سب سے بڑے ”پاور بروکر“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جن دوسرے دو افراد کو صدر محترم نے ’’ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی‘‘ کے مصداق پاور بروکر ہونے کا الزام دیا ہے وہ غریب تو صرف ”بروکری“ کرتے ہیں، اور ان میں سے جس نے بھی کبھی ”پاور“ کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی ایک ہی جھٹکے نے ان کا کام نمٹا دیا ہے۔

مگر اس سے ہٹ کر ہم صدر محترم کے طویل خطاب کے صرف ایک حصہ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے ”آئیڈیل ازم“ اور ”ریئل ازم“ کو موضوع بحث بنایا ہے اور قوم کو یہ سبق دیا ہے کہ آئیڈیل ازم کے پیچھے بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور ریئل ازم ہی سب کچھ ہے جس کے بغیر ہم قوموں کی موجودہ برادری میں جگہ حاصل نہیں کر سکتے، اس لیے عالمی برادری کی خواہشات اور مطالبات پر وہ جو کچھ کر رہے ہیں یا جو کچھ کرنا چاہ رہے ہیں اس پر صاد کیا جائے اور ان کا اس میں ساتھ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کالم نویسوں کو طعنہ دیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں سوچے سمجھے بغیر بہت کچھ لکھتے جا رہے ہیں اور ان کو حالات کا کچھ علم نہیں ہے۔

جہاں تک کالم نویسوں کا تعلق ہے ان کے حوالہ سے ہم صدر محترم سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ کالم نویسوں کی ایک بڑی مجبوری ہے، وہ یہ کہ انہیں لکھنے سے قبل پڑھنا بھی پڑتا ہے اور جو کچھ وہ پڑھتے ہیں اس کے بارے سوچنا بھی ان کی ایک مجبوری ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جو پڑھے گا اور اس کے بارے میں کچھ سوچے گا بھی وہ صرف ”معروضی حالات“ پر قناعت نہیں کرے گا، وہ ان حالات کے پس منظر کا جائزہ لے گا اور ان کے اسباب معلوم کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔ پھر وہ ریئل ازم ہی کو سب کچھ قرار دے کر مستقبل سے آنکھیں بند نہیں کر لے گا بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے یا جو کچھ لوگ کرنے جا رہے ہیں ان کے نتائج و عواقب کا بھی اندازہ لگائے گا، اور ان کے مثبت و منفی ثمرات تک فکری رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔ اور یہ بات طے ہے کہ جو کالم نویس ان سب مراحل سے گزرے گا وہ یقیناً وہ کچھ نہیں لکھے گا جس کی صدر محترم کالم نویسوں سے توقع کر رہے ہیں۔ البتہ صدر محترم کو مکمل مایوسی نہیں ہوگی کیونکہ ان کی توقعات پر پورا اترنے والے قلم کاروں کی بھی کسی دور میں کمی نہیں رہی، نہ اب اس کا میدان خالی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی اس کا خلا پیدا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب دھند چھٹے گی تو انہیں اپنا نیا قبلہ تلاش کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا، صرف اتنا وقت جتنا کسی پریس کے مشین مین کو روشنائی کا رنگ تبدیل کرنے میں لگتا ہے۔

باقی رہی بات آئیڈیل ازم یا ریئل ازم میں سے کسی ایک کے انتخاب کی، تو ہم بصد ادب و احترام یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے حوالہ سے یہ بات اسی روز طے ہوگئی تھی جب مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے معروضی حالات اور ان کے منطقی نتائج کو قبول کرنے سے قطعی انکار کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے جنوبی ایشیا میں الگ سلطنت کا تصور پیش کیا تھا، اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اس تصور کی تکمیل کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سیاسی مشن قرار دے کر پاکستان کے نام سے ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ یہ ریئل ازم سے آئیڈیل ازم کی طرف سفر تھا اور اس سفر کے بیس کیمپ کے طور پر ”پاکستان“ کی الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہم اس سے قبل بھی اس کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ گزشتہ صدی کے آغاز میں عالم اسلام کو دو لیڈر ملے تھے:

  • ایک مصطفی کمال اتاترک، جنہوں نے آئیڈیل ازم کو ترک کرنے کا راستہ اختیار کیا تھا اور خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے عالمی برادری کے تقاضوں اور خواہشات کے مطابق ریئل ازم کے تحت ترکی کو سیکولر جمہوریہ قرار دیا تھا،
  • اور دوسرے قائد اعظم محمد علی جناحؒ تھے جنہوں نے ریئل ازم کو مسترد کر کے آئیڈیل ازم کی طرف قدم بڑھایا اور جدوجہد کرتے ہوئے عین اس دور میں اسلام کے نام پر ایک ریاست بنا ڈالی جب پوری دنیا میں اسلام بلکہ نفس مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ کیا جا رہا تھا، اور مذہبی اقدار و روایات کو حکومتی معاملات سے لاتعلق کرنے کا عمل عالمی سطح پر آخری مراحل میں داخل ہو گیا تھا۔

اس وقت کا ریئل ازم وہی تھا جس کا اظہار مصطفی کمال اتاترک نے کیا تھا اور جس کو اپنا کر عربوں نے خلافت کا ادارہ ختم کرنے کے بعد نئے عالمی سسٹم کی سرپرستی میں علاقائی قومیتوں کے عنوان سے الگ الگ ریاستی تشخصات قائم کر لیے تھے۔ علامہ اقبال ؒ اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒبھی ریئل ازم پر صاد کر دیتے تو اس سارے بکھیڑے میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، نہ برصغیر تقسیم ہوتا، نہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا، نہ کروڑوں مسلمان بے گھر ہوتے، نہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے نام سے کشیدگی اور تصادم کے دو الگ الگ کیمپ قائم ہوتے، نہ کشمیر کا مسئلہ ہوتا، نہ اسلحہ کی دوڑ لگتی، نہ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے دونوں طرف جرنیلوں کی ظفر موج وجود میں آتی اور نہ ہی دونوں طرف بڑی بڑی فوجیں ملکی وسائل اور عوامی دولت کے ایک بڑے حصے پر ہاتھ صاف کر کے دونوں ملکوں کی معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کا راستہ روکتیں۔ یہ سب کچھ ریئل ازم سے دستبردار ہونے اور آئیڈیل ازم کو منزل مقصود قرار دینے کا نتیجہ ہے اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں مسلمان گزشتہ پون صدی سے یہ ساری قربانیاں صرف اور صرف آئیڈیل ازم کے لیے دے رہے ہیں، جس آئیڈیل ازم کی وضاحت خود قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۴۳ء میں آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ جلسہ میں ان الفاظ کے ساتھ کی تھی کہ:

”مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کا طرز حکومت متعین کرنے والا میں کون؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو برس قبل قرآن کریم نے فیصل کر دیا تھا۔“

اس لیے ہم صدر جنرل پرویز مشرف سے اس حوالہ سے دو گزارشات کرنا چاہتے ہیں ایک یہ کہ آئیڈیل ازم سے قوم کی توجہ ہٹا کر اسے ریئل ازم پر لانے کے لیے انہیں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی گزشتہ پون صدی کی جدوجہد، قربانیوں اور ملی سفر کی نفی کرنا ہو گی کیونکہ پاکستان ریئل ازم کے لیے نہیں بلکہ آئیڈیل ازم کے لیے وجود میں آیا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جب ان کے ذہن میں ایجنڈا مصطفی کمال اتاترک والا ہے تو اس کے اظہار اور اعتراف میں وہ حجاب کیوں محسوس کر رہے ہیں اور اس کے لیے انہیں قائد اعظمؒؒ کا نام لینے اور ان کی چھتری استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟