پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۷ء

روزنامہ الجریدہ لاہور نے ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں آن لائن کے حوالہ سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے تحت لاہور میں منعقد ہونے والی ایک ریلی کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز ‘‘کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ قومی یکجہتی ریلی کے عنوان سے یہ اجتماع لاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جس میں خبر کے مطابق تمام غیر مسلم اقلیتوں کے راہنماؤں نے شرکت کی اور ہزاروں افراد نے اس میں حصہ لیا۔ چارٹر آف ڈیمانڈز کا اعلان آل پاکستان مینارٹیزالائنس کے سربراہ شہباز بھٹی نے کیا جس کے مطابق دیگر بہت سے مطالبات کے ساتھ ساتھ بطور خاص یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پنجاب کی گورنر شپ اقلیتوں کے لیے مخصوص کر دی جائے اور ملک کے اس سب سے بڑے صوبے کا گورنر ہمیشہ اقلیتوں میں سے لیا جائے، جبکہ دیگر اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  • مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق قبول کی جائے گی اور نہ ہی آئین اور ملکی قوانین میں ایسی کوئی شق قبول ہے۔
  • تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ بی اور سی کو ختم کیا جائے۔
  • اقلیتوں اور خواتین کے خلاف حدود قوانین اور اس جیسے تمام امتیازی قوانین کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
  • جبر، دھونس اور اغوا سے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
  • بچوں اور نابالغ افراد کے لیے مذہب کی تبدیلی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل کی بجائے ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے نمائندہ افراد پر مشتمل ایک بین المذاہب کونسل تشکیل دی جائے۔
  • ملک کی تمام مذہبی اقلیتوں کے بڑے تہوار قومی سطح پر منائے جائیں، وغیرہ ذالک۔

اگرچہ یہ بات ایک مستقل بحث کی متقاضی ہے کہ:

  1. مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کی تفریق کو رد کر دینے کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر ہمیشہ کے لیے غیر مسلم مقرر کرنے کے مطالبہ کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے،
  2. اور اقلیتوں کے لیے الگ حیثیت اور نشستوں کے تعین کی باتیں مذہب کی بنیاد پر تفریق سے ہٹ کر آخر کیسے معقولیت کا درجہ حاصل کر سکتی ہیں؟

مگر اس بحث سے قطع نظر ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز‘‘ کا بنیادی ہدف پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو سرے سے ختم کر دینا اور اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اسلامی قوانین و نظام کے نفاذ کا راستہ مکمل طور پر روک دینا ہے، بلکہ اس چارٹر میں دستور پاکستان کی ان تمام دفعات کو ختم کر دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جو پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت اور اس کے تشخص کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے وقت غیر مسلم اقلیتوں بالخصوص مسیحی اقلیت نے تحریک پاکستان کا ساتھ دیا تھا اور اس جدوجہد میں عملی حصہ لیا تھا، لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کے ان واضح اعلانات کے بعد تحریک پاکستان کا ساتھ دیا تھا کہ اس نئے ملک کا قیام مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کی وجہ سے عمل میں لایا جا رہا ہے اور اس کا دستور و قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں طے پائے گا۔ قائد اعظم مرحوم کے ان دو ٹوک اعلانات کے بعد اقلیتوں کا تحریک پاکستان میں شریک ہونا ، پاکستان کے اسلامی تشخص اور اس میں اسلامی نظام کی عملداری کے ساتھ ان اقلیتوں کی کمٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا اظہار چیف جسٹس اے آر کارنیلس اور جوشو افضل دین جیسے ممتاز مسیحی راہنما قیام پاکستان کے بعد بھی مسلسل کرتے رہے ہیں۔

اس لیے معروضی صورتحال میں یہ ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز‘‘ تحریک پاکستان کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی اس کمٹمنٹ سے بھی انحراف کے مترادف ہے جس کا ملک کے قومی و دینی حلقوں کو نوٹس لینا چاہیے۔ ہم پاکستان کے اسلامی تشخص پر یقین رکھنے والے تمام حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے اس چارٹر آف ڈیمانڈز کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور تحریک پاکستان کے بنیادی تقاضوں سے واضح انحراف کے اس سلسلہ کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔