موجودہ ملکی صورت حال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم مشاورتی اجلاس 14 اکتوبر کو جامع مسجد عثمان غنیؓ بلند مارکیٹ اسلام آباد میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا عبد القیوم حقانی، مفتی محمد سیف الدین، مولانا محمد رمضان علوی، ڈاکٹر حافظ احمد خان، جناب صلاح الدین فاروقی، حافظ سید علی محی الدین، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا خلیق الرحمن چشتی، مولانا محمد اسحاق، مولانا حسین طارق، مولانا عبد العزیز، مولانا گل رحمان، جناب سعید اعوان، مولانا کریم بخش، حافظ محمد معاویہ، مولانا کریم اللہ، اور راقم الحروف نے شرکت کی جبکہ مولانا محمد رمضان علوی نے میزبانی کی خدمت سر انجام دی۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ مذہبی صورت حال بالخصوص دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے معاملات اور مولانا مفتی محمد امان اللہ کی المناک شہادت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء اجلاس نے مختلف خیالات و جذبات کا اظہار کیا، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

  • گزشتہ سال دارالعلوم تعلیم القرآن کے سانحہ کے بعد مسلکی سطح پر جس اجتماعی مشاورت کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں کوئی پیش رفت نہ ہونا پریشان کن ہے، جبکہ محرم الحرام قریب آرہا ہے اور گزشتہ برس کے سانحہ کے اسباب و عوامل بدستور موجود ہیں۔ مگر ان کے سدباب کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آرہی۔
  • سنی شیعہ کشیدگی مشرق وسطیٰ میں جس طرح مختلف دائروں میں پھیلتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات وطن عزیز پاکستان میں بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پر ہمارے ماحول میں مجموعی طور پر خاموشی اور اسے نظر انداز کرتے چلے جانے کی فضا پائی جاتی ہے جو درست نہیں ہے۔ ان معاملات پر نہ تو خاموشی مناسب ہے اور نہ ہی جذباتی اور سطحی رد عمل کے اظہار سے کوئی فائدہ ہوگا۔ بلکہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع سے دل چسپی اور ان معاملات کا تجربہ رکھنے والی چند سنجیدہ شخصیات مل بیٹھیں اور پوری صورت حال کا تفصیلی جائزہ لے کر اہل سنت کی فکری راہنمائی کی کوئی صورت نکالیں۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ معروضی حالات کا صحیح تناظر لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ اور ان حالات میں اہل سنت کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے جو کچھ کرنا ضروری ہے اس کی طرف علماء کرام اور دینی کارکنوں کی راہ نمائی کی جائے۔
  • اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ان امور و معاملات کے لیے 1988ء میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ کی قیادت میں جو ’’متحدہ سنّی محاذ‘‘ قائم کیا گیا تھا، کچھ دوست اسے دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کونسل کی طرف سے تعاون کے لیے مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا محمد رمضان علوی، مفتی سیف الدین، مولانا ثناء اللہ غالب، جناب صلاح الدین فاروقی اور راقم الحروف (ابوعمار زاہد الراشدی) پر مشتمل کمیٹی قائم کی ہے جو ’’متحدہ سنّی محاذ‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششوں میں معاونت کرے گی۔
  • اجلاس میں ملک کی عمومی صورت حال کو بھی افسوسناک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ نظام کی تبدیلی کے نعرے تو ہر طرف لگ رہے ہیں مگر اصل تبدیلی کی بات کسی طرف سے بھی سامنے نہیں آرہی۔ ایک دور وہ تھا جب ’’فک کل نظام‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ملکی نظام کی تبدیلی دینی جماعتوں کی جدوجہد اور تگ و دو کا اہم عنوان ہوا کرتی تھی۔ مگر اب یہ نعرہ کچھ اور لوگوں نے ہائی جیک کر لیا ہے اور ہماری طرف سے اس پر کوئی محنت نہیں ہو رہی۔ جبکہ موجودہ نو آبادیاتی نظام اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی معاملات میں روز افزوں بیرونی مداخلت نے قومی وملکی مسائل و معاملات کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ اور کوئی معاملہ سلجھنے کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم موجودہ ’’معروضی سیاست‘‘ کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جانے کی بجائے اس کے مضرّات سے نجات حاصل کرنے کی راہ نکالیں اور دستور پاکستان کے مطابق ملک میں قرآن و سنت کی دستوری اور قانونی بالادستی اور شریعت کے نفاذ کے لیے تمام مکاتب فکر اور دینی و سیاسی حلقوں کو متحد کر کے عوامی جدوجہد کی راہ ہموار کریں۔
  • پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں فحاشی، فکری بے راہ روی اور مغربی ثقافت کے مسلسل فروغ میں میڈیا کے کردار کا بھی جائزہ لیا اور اس امر پر تشویش و اضطراب کا اظہار کیا کہ میڈیا کے سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سب مل کر فحاشی اور فکری خلفشار کو بڑھانے میں مصروف ہیں۔ بلکہ اب سوشل میڈیا بھی نئی نسل کے اخلاق و کردار کو بگاڑنے اور اسلامی اقدار و روایات کو کمزور کرنے میں شریک کار ہوگیا ہے۔ ملک کے علمی و دینی مراکز اور محب وطن حلقوں کو یہ منفی تبدیلی محسوس کرنی چاہیے اور اس کے سد باب کے لیے زبانی بیانات کی بجائے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ پاکستان شریعت کونسل نے ملک کی تمام دینی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’ایڈہاک ازم‘‘ اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے ماحول سے باہر نکل کر حقیقی تبدیلیوں کے لیے محنت کریں۔