جمعیۃ علماء اسلام اور شرعی عدالتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۹ء

عید الاضحٰی کی تعطیلات میں مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا جہاں علاقہ کے علماء کرام کے سالانہ اجتماع میں شرکت اور گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے، پہلے چند سال ضلع صوابی کے مقام باجہ میں ہوتا رہا، اس سال صوابی سے آگے ضلع بونیر کی حدود میں طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں ہوا، علاقہ بھر کے علماء کرام جمع تھے، دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب مدظلہ العالی اور راقم الحروف کے علاوہ بہت سے دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔

طوطالئی تحریک مجاہدین کے معروف مرکز پنج تار کے دامن میں ہے جہاں امیر المؤمنین حضرت سید احمد شہیدؒ رئیس المجاہدین حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اپنے قافلہ سمیت کم و بیش چار سال تک قیام پذیر رہے اور سکھوں کی فوج سے نبرد آزما رہے۔وہاں بھی حاضری ہوئی، پنج تار کی مسجد میں نماز ظہر ادا کی اور دو بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔ایک بزرگ حافظ عبد الرحیم دہلوی ؒ ہیں جو حضرت شاہ صاحبؒ سے پہلے جہاد کی تیاری کے لیے اس علاقہ میں آئے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہو گیا تھا، ان کی قبر پر ان کی سن وفات ۱۸۲۵ء درج ہے۔ دوسرے بزرگ اس علاقہ کے بڑے خان فتح خان پنج تاری ؒ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ علاقہ کے دوسرے بہت سے خوانین نے تحریک مجاہدین سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، مگر فتح خان پنج تاری مرحوم حضرت شاہ صاحبؒ کے وفادار رہے اور آخر دم تک اس وفاداری کو نبھایا۔

علماء کے اجتماع میں میری گفتگو کا عنوان ’’علماء دیوبند کی خدمات‘‘ تھا، میں نے اکابر علماء دیوبندی کی دینی و ملی جد و جہد کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر میں آج اس پہلو کی طرف علماء کرام کو توجہ دلانا چاہوں گا کہ اسی سال اگست کے دوران مجھے نیویارک میں ’’شریعہ بورڈ ‘‘کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، جس میں شکاگو کے شریعہ بورڈ کے حضرات نے بھی شرکت کی۔ یہ شریعہ بورڈ امریکہ میں مسلمانوں کو خاندانی اور مالیاتی تنازعات میں شریعت اسلامیہ کے مطابق ثالثی اور تحکیم کی طرز پر عدالتی فیصلوں کی سہولت مہیا کرتا ہے اور شریعہ بورڈ کے فیصلوں کو امریکی عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔ شکاگو کے شریعہ بورڈ کے سر براہ حضرت مولانا مفتی نوال الرحمن صاحب دار العلوم دیوبند کے فاضل ہیں۔ جبکہ اسی سال نومبر میں مجھے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں مسلم جوڈیشل کونسل کے راہنماؤں سے ملاقات کا موقع ملا، یہ کونسل جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کو اسی طرز کی سہولتیں اور نظام فراہم کیے ہوئے ہے اور اس کے سر براہ مولانا یوسف بھی فاضل دیوبند ہیں۔ اس طرح دیوبند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ آج کے دور میں بھی امریکہ اور جنوبی افریقہ جیسے ملکوں میں مسلمانوں کو ان کے مالیاتی اور خاندانی تنازعات میں شریعت اسلامیہ کے مطابق عدالتی فیصلوں کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں نے عرض کیا کہ شرعی نظام اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلوں کے تین درجات ہیں: (۱) امارت (۲) قضا اور (۲) تحکیم۔ امارت اور قضا کے درجہ میں نفاذ اسلام کے لیے ہماری جد و جہد ملک بھر میں جاری ہے مگر تحکیم کے درجہ میں تو ہم خود بھی امریکہ، جنوبی افریقہ اور بھارت کی امارت شرعیہ کی طرح اپنا نظام قائم کر سکتے ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اس کو منظم طریقہ سے قائم کر کے چلا سکیں تو امارت اور قضا کے درجہ میں نفاذِ شریعت کے لیے بھی ہماری جد و جہد کو تقویت حاصل ہو گی۔ میں نے صوابی کے علماء سے گزارش کی کہ وہ اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور اگر اس کام کا آغاز پنج تار کے علاقہ سے ہو تو زیادہ با برکت ہوگا کیونکہ یہاں امیر المؤمنین حضرت سید احمد شہید ؒ، حضرت شاہ اسماعیل شہید ؒ جیسے عظیم بزرگ ایک دور میں لوگوں کے مقدمات و تنازعات کے فیصلے قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے مطابق کرتے رہے ہیں۔

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے چنیوٹ میں ایک اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جامعہ انوار القرآن چنیوٹ کے مہتمم مولانا قاری عبد الحمید حامد، مولانا محمد عمیر اور ان کے رفقاء نے کیا تھا۔ یہ کانفرنس حضرت والد محترم مولانا محمد سر فراز خان صفدر دامت برکاتہم کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ’’امام اہل سنت سیمینار‘‘ کے عنوان سے جامع مسجد صدیق اکبر میں منعقد ہوئی، جس سے برادرم مولانا قاری عبد القدوس قارن، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبد الحمید حامد اور راقم الحروف کے علاوہ شاعر اسلام الحاج سید سلمان گیلانی نے بھی خطاب کیا۔

راقم الحروف نے اپنی معروضات میں بطور خاص اس بات کا ذکر کیا کہ اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں منعقدہ کنونشن میں ملک بھر میں ’’پرائیویٹ شرعی عدالتیں‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے مرکزی سطح پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا عبد الکریم قریشی آف بیر شریف (لاڑکانہ)، اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم پر مشتمل مجلس قضا قائم کی گئی تھی۔ اور اس کے بعد جامعہ مدنیہ لاہور میں حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدر دامت برکاتہم کی زیر صدارت منعقدہ ملک کے جید علماء کرام کے اجلاس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ان شرعی عدالتوں کے طریق کار اور قواعد و ضوابط کا خاکہ مرتب کیا گیا تھا، مگر اس سلسلہ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا تھا۔ یہ پیپر ورک آج بھی موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بنیاد پر آج بھی کام شروع کرنے اور اسے ہر سطح پر منظم کرنے کی ضرورت موجود ہے بلکہ یہ جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کے ذمہ شریعت اور قوم کا قرض ہے۔ اگر یہ کام امریکہ، جنوبی افریقہ اور بھارت میں ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا اور یہ ہمارے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔