صدر اور وزیر اعظم کا عدالتی استثنا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۰ء

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۱ مئی ۲۰۱۰ء کی ایک خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں صدر، وزیر اعظم اور گورنروں کو عدالتی کاروائی سے مستثنٰی قرار دینے کو غیر اسلامی قرار دینے اور قرآن و سنت سے متصادم دیگر قوانین کو کالعدم قرار دینے سے متعلق انجمن اصلاح معاشرہ کے امیر حاجی گل احمد کی آئینی درخواست کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس زاہد حامد پر مشتمل بنچ نے کی۔ درخواست گزارنے موقف اختیار کیا ہے کہ:

  • ارکان قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 227.62(D-E)R-A کی خلاف ورزی کی ہے اور اسلامائزیشن پر مبنی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے پاس شدہ ۱۵ویں ترمیم ۱۹۹۸ کو تاحال سرد خانے میں ڈال رکھا ہے۔
  • حال ہی میں جوڈیشل کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ قرآن و سنت سے متصادم قوانین کو اعلیٰ عدالتیں کالعدم قرار دے سکتی ہیں، اس لیے عدالتی کاروائی سے صدر، وزیر اعظم اور گورنروں کی استثناء کو غیر اسلامی قرار دے کر ختم کیا جائے اور قرآن و سنت سے متصادم دیگر قوانین کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں خان ملک پیش ہوئے، خبر میں بتایا گیا ہے کہ معزز جج صاحبان کو گرمی زیادہ لگنے کی وجہ سے سماعت ۲۷ مئی ۲۰۱۰ء تک ملتوی کر دی گئی۔

جہاں تک درخواست گزار کے موقف کا تعلق ہے ہم اس کی دونوں باتوں سے پوری طرح متفق ہیں کہ عدالتی کاروائی سے ملک میں کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے، جب حضرات خلفاء راشدینؓ عدالتی کاروائی کا سامنا کرتے رہے ہیں اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بڑے لوگوں پر قانون کا اطلاق نہ ہونا اور کمزور لوگوں کا اس کی زد میں آنا قوموں کی تباہی کا باعث ہوتا ہے، تو پھر کسی اور کو عدالتی کاروائی سے کس طرح مستثنٰی قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسی طرح اسلامائزیشن کا تسلسل اور اس کے ساتھ قرآن و سنت سے متصادم قوانین کا خاتمہ حکومت و پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہونے کے علاوہ عدالت عظمٰی کے دائرۂ فرائض و اختیار میں بھی ہے۔ اس لیے ہم سندھ ہائی کورٹ سے توقع رکھتے ہیں کہ اس کے معزز جج صاحبان اس اہم آئینی درخواست کو اس کے منطقی نتیجے تک پہنچانے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کریں گے اور ملک کے دینی حلقوں بالخصوص کراچی کے علمی اداروں سے بھی ہماری درخواست ہو گی کہ وہ اس کیس میں دلچسپی لیں اور ایک جائز موقف کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کریں۔