جہاد، دہشت گردی اور جد و جہد آزادی میں فرق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۰ء

میں نے عرض کیا کہ یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ جہاں تک پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک میں نفاذ شریعت کے لیے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات ہے ہم نے ہر موقع پر یہ کہا ہے کہ اسے ہم درست نہیں سمجھتے اور اس کی حمایت نہیں کرتے۔لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بگل بجانے والوں نے دہشت گردی کی کوئی تعریف عالمی سطح پر طے کیے بغیر یہ اختیار اپنے پاس رکھ لیا ہے کہ وہ جسے چاہیں دہشت گرد قرار دے کر اس پر چڑھ دوڑیں۔ یہ طرز عمل درست نہیں ہے کہ اس نے جہاد، دہشت گردی اور قومی آزادی کی جنگ کو گڈمڈ کر کے رکھ دیا ہے اور ایک ایسا کنفیوژن دنیا بھر میں پیدا کر دیا ہے کہ دہشت گردی کی متفقہ تعریف طے کیے بغیر اسے دور کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے جب ہم سے دہشت گردی کے خلاف یکطرفہ بات کرنے اور غیر مشروط فتویٰ جاری کرنے کا تقاضہ کیا جاتا ہے تو ہمارے تحفظات ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہم جہاد افغانستان، جہاد فلسطین اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کوئی ایسی بات نہیں کر سکتے جس کی زد میں جہاد اور قومی آزادی کی تحریکات بھی آتی ہوں۔

میں نے وکلاء سے عرض کیا کہ اس سلسلہ میں علماء کرام اور وکلاء دونوں کو کام کرنا چاہیے کہ وہ جہاد، دہشت گردی اور قومی آزادی کی تحریکات کے درمیان فرق کو واضح کریں اور استعماری قوتوں نے جو کنفیوژن پیدا کر دیا ہے اسے دور کرنے کے لیے ہر سطح پر علمی اور فکری طور پر محنت کریں۔ جبکہ میرے خیال میں آزاد کشمیر کے علماء کرام اور وکلاء کی ذمہ داری اس سلسلہ میں زیادہ ہے کہ جہاد، دہشت گردی اور آزادی کی جنگ کو گڈمڈ کر کے استعماری قوتوں نے جو الجھاؤ اور کنفیوژن پیدا کر رکھا ہے اور جسے وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے مسلسل بڑھاتی اور پھیلاتی جا رہی ہیں، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد اس سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لیے آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد کو اس کنفیوژن سے نکالنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے علماء کرام اور وکلاء اس سلسلہ میں کردار ادا کریں اور علمی و فکری دائرے میں جد و جہد کر کے دنیا کو بتائیں کہ جہاد اور آزادی کی جنگ کا دائرہ اور ہے اور دہشت گردی کا دائرہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔

میں نے گزارش کی کہ علماء کرام اور وکلاء کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی میل جول کا ماحول پیدا کریں اور سوسائٹی میں قانون کی بالا دستی، اسلامی قوانین کے نفاذ اور دیگر ملی مقاصد کے لیے طبقاتی معاصرت کے ماحول سے نکل کر مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کریں۔

درجہ بندی: