سائنسی ایجادات، نعمت یا مصیبت؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
معاشرتی فساد کے اسباب

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۱۳ مئی ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں ’’انڈین ایکسپریس‘‘ ۵ مئی ۲۰۱۱ء کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون کا کثرت سے استعمال انڈیا میں طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اس لیے اس کے رجحان کو کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بھارتی پنجاب میں آئینی طور پر قائم ’’خواتین کمیشن‘‘ کی خاتون چیئر پرسن گورودیوکور سنگھ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ:

’’تقریباً نوے فیصد نئے شادی شدہ مرد و عورت صرف اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ دلہن فون پر کسی دوسرے مرد سے بات کر رہی ہے جبکہ بیشتر معاملات میں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سسرالی معاملات میں اپنے والدین سے مشورہ کر رہی ہوتی ہے۔ اس قسم کی غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی شدہ خواتین خود کو سسرالی ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور ان کے ماں باپ ان کے معاملات میں کم از کم مداخلت کریں۔‘‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ:

’’نئی ازدواجی زندگی کے ایڈجسٹ ہونے میں کم از کم دو سال درکار ہوتے ہیں، اس دوران نئی شادی شدہ دلہنوں کو کچھ ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرنی چاہیے اور اس دوران اپنے والدین سے فون پر کم از کم رابطہ کرنا چاہیے۔‘‘

موبائل فون بلاشبہ ایک بڑی سہولت اور نعمت ہے جس سے زندگی کے بہت سے پہلو آسان ہو گئے ہیں لیکن اس کا ضرورت کے بغیر اور کثرت سے استعمال ایک عذاب اور مصیبت کی شکل بھی اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی ایک جھلک مذکورہ بالا رپورٹ سے ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح الٹراساؤنڈ بھی ایک سہولت ہے جس سے عورت کے پیٹ میں بچے کی کیفیات معلوم کی جا سکتی ہیں اور پتہ چل جاتا ہے کہ ماں کے رحم میں پرورش پانے والا وجود لڑکا ہے یا لڑکی، لیکن یہ سہولت بھی بھارت میں مصیبت اور عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ معلوم ہونے پر کہ لڑکی کی ولادت متوقع ہے اکثر حمل گرا دیے جاتے ہیں۔ سہ روزہ دعوت دہلی کی اسی اشاعت میں شامل ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اس بات کو پوری قوم کے لیے شرمناک قرار دیا ہے کہ لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کی شرح پیدائش مسلسل کم ہوتی جا رہی جس پر بھارت کے قومی حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسلام نے لڑکی کو قتل کرنے اور اس کی پیدائش پر نا پسندیدگی کے اظہار کو ’’جاہلانہ رسم‘‘ قرار دیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے بیٹی دی اور اس نے اس کو قتل نہ کیا، اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی لڑکوں کو اس پر پرورش میں ترجیح دی، وہ جنت میں میرا اس طرح ساتھی ہو گا جس طرح ہاتھ کی دو درمیانی انگلیاں ہوتی ہیں۔

الٹراساؤنڈ کے ذریعے معلوم ہو جانے کے بعد لڑکی کا حمل گرا دینا قتل کی ہی ایک صورت ہے جس کا سب سے بڑا باعث ’’ الٹراساؤنڈ ‘‘ بن رہا ہے۔ اس رپورٹ میں ایک بینر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس پر ماں کے پیٹ میں ایک بچی حمل گرائے جانے کے خوف سے ڈاکٹر کے کلینک میں اسے کہہ رہی ہے کہ ‘‘انکل ڈاکٹر! مجھے ایک موقع دیں، میں ماں سے زیادہ آپ کو فیس دوں گی‘‘۔ یہ اس مسئلہ کی سنگینی کی انتہا ہے اور آج کے دور میں عورت کی مظلومیت کی ’’ترقی یافتہ علامت‘‘ ہے کہ اسے سرے سے زندگی کے حق سے ہی محروم کیا جا رہا ہے۔

یہ باتیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سائنسی ایجادات بلاشبہ نعمت ہیں اور انسانی زندگی میں ان سے بڑی سہولتیں آئی ہیں، لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ یہ دور دینیات اور اخلاقیات کا نہیں بلکہ مادیات کا سمجھا جاتا ہے اور ہر معاملہ کو کاروباری نظر سے دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سوسائٹی میں معاشرتی خرابیاں اور فساد کے اسباب بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ سوسائٹی کو مادہ پرستی اور کاروباری ذہنیت سے نکال کر آسمانی تعلیمات اور انسانی اخلاقیات کی طرف لانے کی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کی جائے، اس کے بغیر سوسائٹی کو فساد اور تباہی کے اس طوفان سے بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

درجہ بندی: