قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۲ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے۔

ریکوڈک معاہدہ اس وقت عدالت عظمٰی میں زیر بحث ہے اس لیے اس کے بارے میں ہم ابھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن چیف جسٹس محترم نے بین الاقوامی معاہدات اور ملکی قوانین کے باہمی ربط و توازن کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے ہم اس کا خیر مقدم ضروری سمجھتے ہیں، اس لیے کہ عالمی نظام و قانون اور بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں قومی سطح پر ہماری فدویانہ پالیسی نے نہ صرف یہ کہ ہماری قومی خودمختاری پر سوالیہ نشان لگا رکھا ہے بلکہ ملک کا نظریاتی اسلامی تشخص بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ قومی خودمختاری اور پاکستان کے اسلامی تشخص دونوں حوالوں سے ہم پر بین الاقوامی معاہدات کا مسلسل دباؤ ہے، ہمارے حکمران طبقات ملک کی خودمختاری اور اسلامی تشخص کے حوالہ سے پیدا ہونے والے ہر حساس سوال پر بین الاقوامی معاہدات کی آڑ میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور رائے عامہ بلکہ منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلوں کو بھی نظر انداز کرتے جا رہے ہیں۔ ریکوڈک معاہدہ کے بارے میں ملکی قوانین کے احترام اور بالا دستی کی بات کر کے چیف جسٹس محترم نے جو سوال اٹھایا ہے اس کے تناظر میں ہم ان سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ صرف ریکوڈک معاہدہ کی بات نہیں بلکہ ڈرون حملوں اور ملکی معاملات میں بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت سے بھی ملکی قوانین کا احترام مجروح ہو رہا ہے اور قومی خودمختاری کا تقدس پامال ہو رہا ہے، اس لیے ان کا بھی اسی طرح جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے دستور و قانون میں ملک کی نظریاتی اسلامی حیثیت اور اسلامی تعلیمات و احکام کے نفاذ و ترویج کے بارے میں جو کچھ بھی طے شدہ ہے اس سب کچھ کو بین الاقوامی معاہدات کی دھند میں گم کر دینے کی کوشش مسلسل جاری ہے اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد کا راستہ روکنے کے ساتھ ساتھ سرے سے ان دفعات اور شقوں کو دستور و قانون کے صفحات سے گم کر دینے کی مہم موجود ہے۔ ہم ریکوڈک معاہدہ کے بارے میں چیف جسٹس محترم کے ان ریمارکس کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ گزارش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ریکوڈک معاہدے کے ساتھ ساتھ وہ قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کے حوالہ سے بھی بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لیں اور عدالت عظمیٰ کے فورم پر بین الاقوامی معاہدات اور ملکی دستور و قوانین کے درمیان ربط و توازن کی حدود طے کر کے ملک و قوم کو بین الاقوامی معاہدات کے اس دباؤ سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں جس کی آڑ میں حکمران طبقات قومی خودمختاری اور ملک کے اسلامی تشخص کے ناگزیر تقاضوں سے بھی بیگانہ دکھائی دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ چیف جسٹس محترم ہماری اس گزارش کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے۔