قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۲۰۱۹ء

چند روز قبل امریکہ کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکہ نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے وہ بہرحال توجہ طلب ہے۔

اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکہ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے اور کیا دنیا کے کسی ملک میں کسی فرد یا گروہ کو مسلمان قرار دینے کا فیصلہ صدر امریکہ نے کرنا ہے؟ یا ان کے پاس کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ دنیا کے کون سے ملک میں کس گروہ کو مسلمان تسلیم کر لینا چاہیے۔ کسی فرد، طبقہ یا گروہ کو مسلمان تسلیم کرنا یا غیر مسلم قرار دینا ایک مذہبی مسئلہ ہے جس میں فیصلہ کی اتھارٹی مسلّمہ مذہبی قیادت ہی ہوتی ہے، چنانچہ عالم اسلام کے تمام مذہبی مکاتبِ فکر نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار دیا ہوا ہے اور پاکستان میں تمام علمی اور دینی مراکز اس فیصلہ سے متفق ہیں۔

البتہ کسی گروہ کے معاشرتی اسٹیٹس اور سماجی درجہ کا تعین اس ملک کی پارلیمنٹ کرتی ہے یا عدالت عظمیٰ بوقت ضرورت فیصلہ صادر کرتی ہے، جیسا کہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ دونوں نے تمام مکاتبِ فکر کی مذہبی قیادت کے اس اجماعی فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے قادیانیوں کو دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ایک اقلیت کا درجہ دے رکھا ہے اور ملک بھر کی سول سوسائٹی بھی اس میں پارلیمنٹ، عدالت عظمیٰ اور مذہبی قیادت کے ساتھ ہے۔ اب ان چاروں مجاز اداروں کے فیصلہ کے بعد کسی شخصیت، ادارے یا گروہ کا کیا حق باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اس سے الگ کوئی فیصلہ کرے۔

مجھے نہیں معلوم کہ صدر ٹرمپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن میں ان کے سامنے یہ بات مثال کے طور پر پیش کرنا چاہوں گا کہ خود امریکہ کو اسی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے کہ اب سے دو صدیاں قبل ایک امریکی پادری جوزف اسمتھ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس پر ایک کتاب نازل ہو گئی ہے جسے اس نے بائبل کا حصہ قرار دیا اور مبینہ طور پر وہ کتاب لے کر آنے والے فرشتہ کے نام پر اس فرقہ کا نام ”مورمن“ رکھا۔ یہ مورمنز امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں، بڑی منظم اور مالدار کمیونٹی شمار ہوتی ہے اور نئی وحی اور کتاب کے عنوان سے دوسرے عیسائیوں سے مختلف عقائد رکھتی ہے مگر عیسائیت کے تینوں بڑے فرقوں کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھو ڈکس میں سے کوئی بھی انہیں اپنا حصہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ ان سب سے الگ تھلگ ایک نئے مذہب کے پیروکار شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے معاشرتی اور سماجی اسٹیٹس کا مسئلہ امریکہ کے سیکولر دستور کے حوالہ سے یقینا وہاں کی منتخب پارلیمنٹ یا عدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیار میں ہو گا مگر انہیں مسیحی تسلیم کرنا یا مسیحیت سے الگ ایک نیا مذہب قرار دینا بہرحال مذہبی قیادتوں کا کام ہے اور اس بارے میں فائنل اتھارٹی انہی کے پاس ہے۔ مجھ سے ایک بار امریکہ ہی کے ایک شہر ہیوسٹن کے ایک نشریاتی پروگرام میں ایک مسیحی مذہبی رہنما نے سوال کیا تھا کہ آپ لوگ احمدیوں کو مسلمان تسلیم کیوں نہیں کرتے حالانکہ وہ قرآن کریم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں، تو میں نے ان سے سوال کر دیا کہ کیا آپ مورمنز کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل مقدس پر ایمان کے باوجود مسیحی تسلیم کرتے ہیں؟ اور کیا ویٹی کن سٹی اس گروہ کو رکنیت دینے کے لیے تیار ہے؟ انہوں نے جواب نفی میں دیا تو میں نے عرض کیا کہ ہم بھی اسی بنیاد پر قادیانیوں کو مسلم امت کا حصہ تسلیم نہیں کرتے، اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس لیے اصولی گزارش ہے کہ اس سوال کو صدر ٹرمپ کے پاس لے جانے میں کوئی معقولیت نہیں ہے، یہ اتھارٹی انہیں تو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو مسلمان یا غیر مسلم بلکہ مسیحی اور غیر مسیحی قرار دینے کا فیصلہ کریں۔

میں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالہ سے تین مجاز اداروں کا ذکر کیا ہے کہ مسلمہ مذہبی قیادتیں یہ فیصلہ دے چکی ہیں، پارلیمنٹ کئی بار یہ فیصلہ کر چکی ہے، عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اسی سلسلہ میں دو ٹوک اور واضح ہے، جبکہ سول سوسائٹی بھی مکمل طور پر اس متفقہ موقف اور فیصلے سے متفق ہے۔ اس لیے قادیانیوں کو ان فیصلوں کو چیلنج کرنے اور ان کے خلاف دنیا بھر میں لابنگ اور پروپیگنڈا کی مہم کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ بات دستور سے انحراف اور ملک سے بغاوت کے دائرے میں آتی ہے۔ اور دنیا بھر کے اداروں اور جماعتوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ پاکستان کے قومی فیصلہ کا احترام کریں، اگر ان کی عدالتوں اور منتخب ایوانوں کے فیصلے قابل احترام ہیں تو پاکستان کی پارلیمنٹ اور عدالتوں کے فیصلے بھی قابل احترام ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ امریکہ عافیہ صدیقی کے مسئلہ پر صرف اس لیے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ وہاں کی عدالت کا فیصلہ ہے، تو اسے پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو بھی تسلیم کرنا چاہیے، اور اگر مغرب کا کوئی ملک اپنی پارلیمنٹ کے کسی فیصلہ کا اس لیے دفاع کرنا اپنا حق سمجھتا ہے کہ اس کی منتخب اسمبلی کا فیصلہ ہے تو پاکستانی قوم کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنی منتخب اسمبلیوں کے فیصلہ کا دفاع کرے اور ان کے خلاف کوئی بات سننے سے انکار کر دے۔

درجہ بندی: