جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اس کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جون ۱۹۷۳ء

قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ نے جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ضلعی عہدہ داروں کے اجلاس اور بعد ازاں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کی تنظیم نو کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ آج کے دور میں دین اسلام کی سربلندی اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے سیاسی قوت کا حصول ضروری ہے۔

حضرت مفتی صاحب کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے اس لیے کہ آج کی دنیا سیاست کی دنیا ہے اور سیاسی قوت ہی آج دنیا سے اپنی بات منوا سکتی ہے۔ علم، شرافت، تقویٰ اور پرہیزگاری اپنے مقام پر تقرب الٰہی کا ذریعہ اور اسلامی زندگی کا تقاضا ضرور ہے مگر دنیا آج صرف ایک قوت کو مانتی ہے اور وہ ہے سیاسی قوت۔ اگر بات علم، شرافت اور بزرگی کی ہوتی تو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کو اسلامی آئین کے سلسلہ میں مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ان کی مساعی جمیلہ اگر بار آور نہ ہوئیں تو اس کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کی پشت پر سیاسی قوت نہ تھی۔ اور آج یہ سیاسی قوت ہی ہے جس نے نئے دستور میں جمعیۃ علماء اسلام اور دیگر دینی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کی پیش کردہ اہم اسلامی ترامیم کو شامل کرایا۔ ورنہ جہاں تک ارباب اقتدار کا تعلق تھا، ان کے نزدیک ان ترامیم کی نہ ضرورت تھی اور نہ گنجائش۔

صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط جماعت کے قائد کی حیثیت سے قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے اقتدار سنبھال کر اسلامی اصلاحات کی طرف عملی قدم اٹھاتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ اگر سیاسی قوت نیک لوگوں کے ہاتھ میں آجائے تو اصلاح احوال کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔ اور صدر آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پر استقامت کا مظاہرہ کر کے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ اگر جرأت مند اور غیور دیندار راہنما نیکی کی کسی بات پر ڈٹ جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کی جرأت اور غیرت کا سامنا نہیں کر سکتی۔ ان عملی تجربات کی روشنی میں یہ بات ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں کو ازسرِنو منظم کریں، ماضی کی غلطیوں اور خامیوں کا تدارک کریں اور اپنے تنظیمی ڈھانچہ اور جماعتی کارگزاری کا تنقیدی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر آئندہ سیاسی معرکہ آرائی کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔

جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم نو کا کام مرحلہ وار ہو رہا ہے۔ رکنیت سازی اور ضلعی انتخابات تک کا کام کم و بیش مکمل ہو چکا ہے اور اب صوبائی اور مرکزی انتخابات جلد ہونے والے ہیں اور یہی دراصل تنظیم نو کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ جمعیۃ کو صحیح معنوں میں ایک فعال، عوامی اور مضبوط جماعت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نمائندوں اور راہنماؤں کے چناؤ میں پوری احتیاط اور تدبر سے کام لیں، ایسے لوگوں کو آگے لائیں جو سیاسی دنیا میں کارکنوں کی راہنمائی کرتے ہوئے پورے حوصلہ اور جرأت کے ساتھ انہیں لے کر آگے بڑھ سکیں اور کسی خوف یا لالچ سے ان کے قدم ڈگمگا نہ جائیں۔ سیاسی عمل اور تحریکوں میں استقامت، حوصلہ اور اصول پرستی ہی سب سے بڑی متاع ہوتی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں اقتدار پرستی، مکاری اور بے اصولی کو سیاست کا نام دے دیا گیا ہے مگر جمعیۃ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس کے عظیم قائدین کا اصولی کردار مسلم ہے اور یہی اصول پرستی جمعیۃ کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی مرکزی قیادت کی معاونت کے لیے ایسے حضرات کو چننا ہوگا جو حق و صداقت اور دعوت و عزیمت کی راہ میں قائدین جمعیۃ کےدست و بازو بنیں۔

کارکنو! آگے بڑھو اور وقت کی زمام کو اپنے ہاتھ میں لے لو، وقت تمہارا منتظر ہے، اگر اس وقت سستی اور بے تدبیری سے کام لیا گیا تو اس کی تلافی عرصہ دراز تک نہیں ہو سکے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دیں، آمین یا الہ العالمین۔