’’اسلام اور مسلمانوں کا غدار‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ نومبر ۱۹۹۹ء

اسامہ بن لادن اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور اس کی سعودی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے اس لیے اگر اسے امریکہ کے حوالہ کر دیا جائے تو سعودی حکومت کو کوئی تشویش نہیں ہوگی۔ خبر کے مطابق سعودی وزیردفاع نے یہ بات واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ہے۔

اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے ایک عرصہ سے جو مہم چلا رکھی ہے اس کے پس منظر میں سعودی شہزادے کی یہ بات کسی طور پر بھی خلاف توقع نہیں ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کے علاوہ وہ کچھ اور کہہ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ہم بڑے ادب کے ساتھ سعودی حکمرانوں سے یہ گزارش کریں گے کہ نہ صرف یہ کہ یہ بات قطعی طور پر خلاف واقعہ ہے بلکہ اسلام کی غلط ترجمانی اور اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش ہے جسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بات صرف سعودی حکومت یا سعودیہ کے مروجہ سسٹم اور قواعد و ضوابط کی ہوتی تو اسے سعودی حکمرانوں کی مجبوری قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا مگر بات اسلام کے حوالہ سے ہوئی ہے اور اسامہ کی مذمت کرنا ہمارے نزدیک اسلام سے غداری اور مجاہدین کے مقدس خون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا جسے کم از کم بے حمیتی اور بے غیرتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

اسامہ بن لادن سعودی عرب کے ایک متمول خاندان کا فرد ہے جس نے سالہا سال تک روسی جارحیت کے خلاف جہاد افغانستان میں بنفس نفیس حصہ لیا اور مختلف مجاہد گروپوں کی خطیر مالی امداد کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں مسلم اور عرب نوجوانوں کو جہاد کی عملی ٹریننگ دلوانے کا اہتمام کیا۔ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جب مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے تربیت یافتہ مجاہدین کی فہرستیں ان ممالک کی حکومتوں کو امریکی سی آئی اے نے فراہم کیں اور یہ طے پایا کہ ان مجاہدین کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا کر ریاستی قوانین کے شکنجے میں جکڑ دیا جائے تو اسامہ بن لادن نے سوڈان میں ڈیرہ لگا لیا۔ اور وہ سوڈان کی حکومت کا زراعت میں خودکفالت اور سڑکوں کی تعمیر میں ہاتھ بٹانے کے علاوہ ان مجاہدین کی پناہ گاہ بن گیا جن کو امریکہ اور اس کے حواری مسلم حکومتوں کے دباؤ پر پاکستان سے نکال دیا گیا تھا مگر وہ اپنے ملکوں میں واپس جانے کی بجائے اسامہ بن لادن کے پاس جا پہنچے اور اس کی جدوجہد میں شریک ہوگئے۔

اسامہ بن لادن نے سعودی عرب کے اندر ان علماء کرام اور دانشوروں کی جدوجہد کی حمایت کی جو مطلق العنان بادشاہت اور مختلف سرکاری اداروں میں رائج غیر شرعی قوانین کے خاتمہ اور مکمل شرعی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور خلیج عرب میں امریکہ اور اس کی اتحادی ممالک کی مسلح افواج کی موجودگی کو عرب عوام کی آزادی اور عرب ممالک کی خودمختاری کے منافی اسرائیل کی ناجائز حکومت کے تحفظ اور حرمین شریفین کی آزادی و تقدس کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے خلیج سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں جو بلاشبہ ایک جائز اور ناگزیر مطالبہ اور عرب علماء و عوام کا مسلمہ حق ہے۔

اس لیے سوڈان پر امریکہ کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا کہ اسامہ کو سوڈان سے نکال دیا جائے اور اس میں اس حد تک اضافہ کیا گیا کہ خود اسامہ بن لادن نے سوڈان کو مشکلات سے بچانے کے لیے اسے چھوڑ دیا اور افغانستان آگئے۔ یہاں انہیں نظریاتی طور پر ان سے ہم آہنگ طالبان کی اسلامی حکومت کی اخلاقی حمایت میسر آئی جو امریکہ اور اس کے حواری مسلم حکومتوں کے لیے سوہان روح بن گئی اور اسی کرب و اضطراب میں امریکہ نے تمام اخلاقی و قانونی حدود کو پھلانگتے ہوئے سوڈان اور افغانستان کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ مگر اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور اب وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے افغانستان کے خلاف پابندیان لگانے کا اعلان کر رہا ہے۔

اسامہ پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کے خلاف مختلف مقامات پر دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ دنیا بھر کے دہشت گردوں کو امداد دے رہا ہے۔ جبکہ اس کا اصل قصور یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے اندر مکمل اسلامی نظام کے نفاذ اور خلیج عرب سے امریکی افواج کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اور امریکہ یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہے کہ سعودی عرب میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت کے قیام اور خلیج سے امریکی فوجوں کی واپسی کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو پورے عالم اسلام سے دیس نکالا مل جائے گا اور اس نے نیو ورلڈ آرڈر کے نام پر دنیا کی واحد چوہدراہٹ اور اجارہ داری کا جو پلان بنا رکھا ہے وہ ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی امریکہ کے لیے یہ بات بھی کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کو نظر انداز کرتے ہوئے مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو پروگرام شروع کر رکھا ہے وہ پایہ تکمیل تک پہنچے اور دنیا کے سامنے ایک نظریاتی اسلامی حکومت اور مثالی اسلامی معاشرہ کانمونہ ابھرے۔ اس لیے امریکہ اسامہ بن لادن کو ہدف قرار دے کر اسے سزا دینے کے جنون میں اس حد تک مبتلا ہو چکا ہے کہ اس کے لیے قانونی اصولوں اور اخلاقی قدروں کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی اور وہ طالبان کو بائیکاٹ اور دیگر کارروائیوں کی مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔

امارت اسلامی افغانستان اور اسامہ بن لادن کے درمیان موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے کیا ترتیب طے پاتی ہے اس کا رخ ان سطور کی اشاعت تک واضح ہو چکا ہوگا۔ مگر ہم اس بارے میں کسی خوش فہمی کا شکا رنہیں ہیں، یہ آزادی کے حصول اور خودمختاری کے تحفظ کی جنگ ہے اور اسلام کی بالادستی اور اسلامی احکام و قوانین کی بالادستی کا معرکہ ہے، جنگوں اور معرکوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ اور معاملات جہاں تک پہنچ گئے ہیں وہاں اسامہ بن لادن کی ذات اور اس کی جان کا مسئلہ اب کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا، اس مرد مجاہد نے اپنے مشن او رجذبات دونوں کو دنیائے اسلام کے ہزاروں مجاہدین کے سینوں میں منتقل کر دیا ہے اور اگر اسے شہادت کی وادی سے بھی گزرنا پڑا تو وہ نہ صرف سرخرو ہوگا بلکہ دنیا بھر میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف صف آراء مجاہدین کے جذبات او رعزم میں اس کی شہادت سے اضافہ ہوگا۔

البتہ اسامہ بن لادن کو اسلام کا غدار قرار دینے والے نام نہاد مسلم حکمرانوں کو نوشتہ دیوار ضرور پڑھ لینا چاہیے کیونکہ اسلام امریکہ کا نام نہیں کہ اس کے ناپاک مفادات اور مکروہ عزائم کی مخالفت اسلام سے غداری قرار پائے۔ وہ مسلم حکمران جنہوں نے اپنے ملکوں میں اسلامی احکام و قوانین کا راستہ روک رکھا ہے، خلیج میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی مسلح افواج کو بٹھا رکھا ہے، عرب عوام کی آزادی اور عرب ممالک کی خودمختاری کو دنیاوی مفادات کی خاطر امریکہ کے لاکروں میں گروی رکھا ہوا ہے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف عالمی استعمار کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، انہیں اپنے چہروں سے امریکی نقاب ہٹا کر ایک بار معروضی حالات کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لینا چاہیے تاکہ انہیں ’’اسلام کا غدار‘‘ تلاش کرنے میں دقت نہ ہو۔

درجہ بندی: