اسلام مخالف مہم اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۵ء

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ تعالیٰ سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دو اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جس کی طرف نہ صرف رابطہ عالم اسلامی بلکہ عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں اور علمی و دینی مراکز کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایک بات یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے اور صدر محترم کے نزدیک رابطہ عالم اسلامی اس کے لیے موزوں فورم ہے۔ دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی ہے کہ مسلکی اختلاف فطری بات ہے اور اختلاف رائے سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اپنا مسلک دوسروں پر زبردستی لاگو کرنے کی کوشش درست نہیں ہے۔

ڈاکٹر ترکی سعودی عرب کی محترم شخصیت ہیں اور ایک عرصہ سے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کے سامنے صدر پاکستان کا ان دو امور کا بطور خاص تذکرہ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہم بھی اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

جہاں تک عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کا تعلق ہے اس کا دائرہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے، اور دین کے ساتھ کسی بھی حوالہ سے وابستگی رکھنے والے افراد و طبقات کی کردارکشی کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد و احکام کو بھی استہزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے بہت سے عالمی ادارے سیکولر لابیوں کی کمین گاہ بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے مورچوں میں بیٹھ کر اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف ہر سطح پر سازشوں کے جال پھیلا دیے گئے ہیں اور مسلمانوں پر اپنی تہذیب و ثقافت اور عقائد و احکام سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم ان صفحات میں متعدد بار اس کی تفصیلات پیش کر چکے ہیں اور ہر بار ہماری گزارش یہ رہی ہے کہ عالم اسلام کے علمی و دینی مراکز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کریں اور مسلمانوں کی تہذیبی روایات کے تحفظ نیز عقائد و احکام کی پاسداری کے لیے کوئی منظم لائحہ عمل طے کریں، مگر مسلم حکومتیں، قائدین اور دانشور زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہے جبکہ اسلام دشمن لابیاں پہلے سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں اور صورتحال دن بدن پہلے سے زیادہ بگڑتی جا رہی ہے۔

دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بگل بجایا گیا تھا جس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ انصاف کے تقاضوں کا ساتھ دینے کی بجائے اس جنگ میں خود فریق بن چکی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کوئی تعریف طے کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مطلب یہ ہے کہ بالادست قوتیں جسے چاہیں دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف طاقت کا استعمال کر لیں اور عملاً ایسا ہی ہو رہا ہے، پھر مبینہ دہشت گردی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان کے سدباب کی کوئی سنجیدہ کوشش کسی سطح پر دکھائی نہیں دے رہی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر پوری دنیا میں ایک حشر بپا کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے نام پر قرآن و سنت کے صریح احکام اور مسلمانوں کے عقائد و روایات کی نفی اور توہین کو ورلڈ میڈیا اور عالمی لابیوں نے اپنا وطیرہ اور وظیفہ بنا لیا ہے۔ پیرس میں گزشتہ دنوں ہونے والی دہشت گردی بلاشبہ قابل مذمت ہے اور دنیا کے ہر باشعور شخص نے اس کی مذمت کی ہے، لیکن عالم اسلام میں گزشتہ دو عشروں کے دوران لاکھوں افراد کے قتل عام اور متعدد مسلم ممالک کی بربادی پر تہذیب و شرافت کے علمبرداروں نے جو چپ سادھ رکھی ہے وہ بھی اسی طرح قابل مذمت اور قابل نفریں ہے۔

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے عالمی رائے عامہ کو اس طرف توجہ دلانے کی جو کوشش کی تھی وہ لائق تحسین ہے مگر اس کے لیے جس محنت اور مہم کی ضرورت ہے اس کے کسی طرف آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ہمیں صدر ممنون حسین کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ رابطہ عالم اسلامی اس مقصد کے لیے ایک مناسب فورم ہے مگر ہمارے خیال میں اس کی اصل ذمہ داری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، اور اس کے لیے جلد یا بدیر پاکستان اور سعودی عرب کو ہی مسلم حکمرانوں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فریضہ سرانجام دینا پڑے گا۔

مسلکی اختلافات کی حدود کے بارے میں بھی صدر پاکستان کی بات توجہ طلب ہے، انہوں نے بجا فرمایا ہے کہ اختلاف رائے فطری بات ہے لیکن اپنا مسلک دوسروں پر زبردستی مسلط کرنا درست طرز عمل نہیں ہے۔ مگر بدقسمتی سے معروضی صورتحال اس حوالہ سے حوصلہ افزا دکھائی نہیں دے رہی جس کا مظہر مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشیدگی میں روز افزوں اضافہ ہے اور پورے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے بلکہ اسے اپنے دائرہ میں شامل کرنے کے لیے ایرانی حکومت کی حکمت عملی اور پالیسیاں ہیں جن کے اثرات مشرق وسطیٰ سے ہٹ کر اردگرد کے دیگر ممالک تک پھیلتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بدقسمتی بھی ہمارے حصہ میں آئی ہے کہ مصر میں اخوانیوں اور سلفیوں کی کشمکش نے جو ماحول قائم کر رکھا ہے وہ بھی مسلسل کشیدگی کے حوالہ سے امید افزا نہیں ہے، اور مزید بد قسمتی یہ ہے کہ اس امر کا تذکرہ بھی اب بادل نخواستہ ضروری محسوس ہونے لگا ہے کہ سعودی عرب اور رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے دنیائے اسلام کے دینی و علمی حلقوں کے ساتھ ربط و تعاون کا جو نیٹ ورک اس وقت کام کر رہا ہے وہ بھی مسلکی ترجیحات کے تاثر سے خالی نہیں ہے، اور اس کے بارے میں غیر سلفی علمی و دینی حلقوں کی شکایات کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا ہے جس کی طرف سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

اس پس منظر میں ہم سعودی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں ایرانی جارحیت سے سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کے تقدس کو درپیش خطرات کے سدباب کے لیے عالم اسلام میں آگاہی اور بیداری کی ضرورت ہے، وہاں مصر کی اخوانی سلفی کشمکش کے نقصانات کی تلافی بھی ضروری ہے۔ اور اسی طرح عالم اسلام میں رابطہ عالم اسلامی کی سرگرمیوں کو مسلکی چھاپ کے دائرے سے نکال کر سب کے لیے قابل قبول بنانا بھی ملت اسلامیہ کے مفاد میں ہے۔

صدر پاکستان جناب ممنون حسین اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی باہمی گفتگو کی اخباری رپورٹ دیکھ کر جو تاثر ذہن میں قائم ہوا اس کا اظہار ہم نے مذکورہ بالا سطور میں کر دیا ہے، خدا کرے کہ ہمارے حکمران اس نازک وقت میں ملت اسلامیہ کی وحدت و یکجہتی اور اسلامی عقائد و روایات کے تحفظ کی کوئی مناسب صورت نکال سکیں، آمین یا رب العالمین۔