امریکہ کی موجودہ صورتحال سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ تا ۱۹ ستمبر ۲۰۰۶ء

جمی کارٹر امریکہ کے سابق صدر ہیں اور صدارت کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی امریکہ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کے شہر اٹلانٹا (جارجیا) میں ’’دی کارٹر سینٹر‘‘ کے نام سے ایک مرکز ہے جس کے ذریعے وہ اور ان کی اہلیہ روزالن امریکی قوم کی علمی و فکری راہنمائی کے لیے مختلف موضوعات پر تحقیقی و مطالعاتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ امریکہ میں سابق صدور وائٹ ہاؤس سے تو ریٹائر ہوتے ہیں لیکن عملی زندگی میں بقیہ زمانہ ’’شو پیس‘‘ کے طور پر نہیں گزارتے بلکہ علمی اور فکری محاذ پر متحرک ہو جاتے ہیں اور قوم کو راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ رچرڈ نکسن، رونالڈ ریگن، جمی کارٹر اور بل کلنٹن کی دور صدارت کے بعد کی سرگرمیوں اور تگ و دو کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ امریکی صدور امریکہ اور امریکی قوم کے لیے دورِ صدارت سے زیادہ مصروف عمل ہوتے ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ ریسرچ سینٹر قائم کیے ہیں، وہ اپنی حکومتوں کو مشورے دیتے ہیں، ان کی غلطیوں پر ٹوکتے ہیں، خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور قوم کی بھرپور راہنمائی کرنے کے ساتھ عالمی فورم پر امریکی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں اس حوالہ سے بریفنگ کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔

یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی جدوجہد کو کامیابی کا رخ اختیار کرتے دیکھ کر جہادِ افغانستان کی کامیابی کی صورت میں ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے قیام کے ’’خطرے‘‘ کو سب سے پہلے امریکہ کے سابق صدر نکسن نے محسوس کیا، جنہیں واٹر گیٹ اسکینڈل کے نتیجے میں امریکی صدارت سے دستبردار ہونا پڑا تھا اور وہ اپنی مدت صدارت پوری نہیں کر سکے تھے، لیکن ان کا قائم کردہ سینٹر آج بھی امریکہ کے اہم فکری، تحقیقی اور مطالعاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے جب محسوس کیا کہ جہاد افغانستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے تو وہ امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متحرک ہو گئے۔ یہ تصور سب سے پہلے انہوں نے ہی اجاگر کیا کہ مسلم ممالک میں جہاد کے جذبہ سے سرشار مسلمان امریکہ اور روس دونوں کے لیے خطرہ ہیں اور اس خطرہ سے نمٹنے کے لیے انہوں نے روسی دانشوروں سے براہ راست روابط استوار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اور پھر یہ انہی کی مساعی کا نتیجہ تھا کہ امریکہ اور سوویت یونین نے جہاد افغانستان کے منطقی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک خودساختہ نتیجہ نکال لیا اور اتنی عجلت سے فیصلے کیے کہ افغان مجاہدین کو افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے باوجود اپنی گیارہ سالہ جدوجہد اور قربانیوں کے منطقی ثمرات حاصل نہ ہو سکے۔ اس سارے عمل کے پیچھے سوچ اور فکر رچرڈ نکسن کی کارفرما تھی جو وائٹ ہاؤس سے ایک اسکینڈل کے ذریعے نکالے جانے کے باوجود اپنے ملک اور قوم کے ساتھ مخلص رہے اور قومی مفادات کے لیے آخر دم تک متحرک اور فعال رہے۔

سابق صدور ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ وہ خود کو گروہی سیاست اور طبقاتی کشمکش سے بالاتر نہیں کر سکتے اور ملک کے اعلٰی ترین منصب پر فائز رہنے کے بعد بھی ان کی سوچ اور تگ و دو کا محور اقتدار میں کسی نہ کسی درجے میں دوبارہ شرکت ہی نظر آتا ہے۔ جبکہ ہمارے ایک سابق صدر تو ایسے نظروں سے غائب ہوئے ہیں کہ جیسے صدارت سے علیحدگی پر سکتہ کی کیفیت نے ہمیشہ کے لیے ان کے دل و دماغ کا حصار کر لیا ہو۔

گزشتہ سال ستمبر کے دوران مجھے اٹلانٹا میں ’’دی کارٹر سینٹر‘‘ دیکھنے کا موقع ملا تھا لیکن صرف دیکھنے اور کچھ ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ انگریزی زبان پڑھنے اور بولنے کی صلاحیت سے محرومی نے باقی تمام امکانات کا راستہ روک لیا اور کئی روز تک دل و دماغ پر یہ حسرت چھائی رہی کہ اگر میں انگریزی پڑھ سکتا اور بول سکتا تو ’’دی کارٹر سینٹر‘‘ کے تحقیقی ذخیرے اور دستاویزات سے استفادہ کرتا اور اپنی قوم کو یہ بتلاتا کہ زندہ قوموں کے حکمران کس طرح اقتدار سے محرومی کے بعد بھی اپنے ملک اور قوم کے لیے سرگرم رہتے ہیں اور اقتدار سے علیحدگی کس طرح ان کے قومی جذبات کے نشے کو دوآتشہ کر دیتی ہے۔

جمی کارٹر نے امریکہ اور امریکی قوم کے مسائل پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ وہ قومی مسائل پر وقتاً فوقتاً اہم افراد اور ماہرین کی مشاورت کا اہتمام کرتے رہتے ہیں اور اخبارات میں ان کے مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جمی کارٹر اب سے ربع صدی قبل امریکہ کے صدر تھے اور اب کم و بیش اسی برس کی عمر میں بھی اپنے مشن کے لیے پوری طرح چاق و چوبند ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ سابق امریکی صدور کو اپنی قوم اور ملک کے لیے اس طرح کام کرتے دیکھ کر مجھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا یاد آجاتی ہے جو انہوں نے مکہ مکرمہ میں ابوجہل اور عمر بن الخطاب کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پورے جوش و جذبہ اور حوصلہ و جرأت کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر بارگاہِ ایزدی میں اس طرح کی تھی کہ ’’یا اللہ! ان میں سے ایک تو مجھے دے دے‘‘۔ میرے دل میں بھی یہ تمنا بلکہ حسرت رہتی ہے کہ اے کاش! کوئی نکسن، کوئی کارٹر، کوئی ریگن اور کوئی کلنٹن ہمارے یہاں بھی ہو۔ مہاتیر محمد کو ملائیشیا کی وزارت عظمٰی سے سبکدوشی کے بعد اس رخ پر چلتے دیکھا تو بڑی خوشی ہوئی مگر اقتدار کی سیاست ابھی تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی اور موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر احمد عبد اللہ بداوی کے ساتھ ان کی ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی کشمکش کی خبروں نے اس خوش کن امید کو دھندلانا شروع کر دیا ہے۔

بات بہت دور نکل گئی ہے اور خلافِ معمول جذبات کی رو میں بہہ کر میں وہ بات ابھی تک شروع نہیں کر سکا جس کے لیے میں نے جمی کارٹر کا تذکرہ کیا ہے۔ دراصل جمی کارٹر کی ایک کتاب اس وقت میرے زیرمطالعہ ہے جس کا انگریزی نام America’s Moral Crisis ہے اور جناب محمد احسن بٹ نے ’’امریکہ کا اخلاقی بحران‘‘ کے نام سے اس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ پونے دو سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب ’’دارالشعور، ۴۲ مزنگ روڈ، بک اسٹریٹ، لاہور‘‘ نے شائع کی ہے۔ اور میرے نزدیک یہ کتاب جہاں باشعور امریکیوں کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتی ہے وہاں اسے بش سینئر اور بش جونیئر کے دورِ صدارت میں امریکی پالیسیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے خلاف چارج شیٹ اور فردِ جرم کا درجہ بھی حاصل ہے۔ جمی کارٹر موجودہ امریکہ کو قومی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کے حوالہ سے ماضی کے امریکہ سے مختلف قرار دیتے ہیں اور کسی تامل کے بغیر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکہ اقوامِ عالم کی برادری میں اپنے امتیاز و اختصاص اور مقام و کردار سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ جمی کارٹر کی عائد کردہ اس ’’فردِ جرم‘‘ کی اہم باتوں سے اپنے قارئین کو بھی آگاہ کروں مگر اس کی تمہید طویل ہو گئی۔ لیجئے! آپ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ صدر بش کی پالیسیوں اور کارروائیوں کے بارے میں امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کیا کہتے ہیں:

’’انتہائی تنگ نظری پر مبنی مذہبی عقائد کو سیاسی پارٹیوں کا بے لچک ایجنڈا بنا لیا گیا ہے۔ حکومت کے اندر اور باہر موجود لابی کاروں (Lobbyists) نے آزاد سوچ اور عمل کے قابل تحسین امریکی ایقان (Belief) کو انتہائی دولتمند شہریوں کے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے اور ساری کی ساری دولت صرف اپنے وارثوں کو ہی منتقل کرنے کے حق میں بدل دیا ہے۔‘‘ (ص ۱۹)

’’ہمارا ملک بین الاقوامی تنظیموں کی حدود سے آزاد رہنے کا اعلان کر چکا ہے۔ نیز بہت سے پرانے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے، جن میں عدالتی فیصلے، ایٹمی اسلحہ کے حوالے سے کیے گئے معاہدے، حیاتیاتی (Biological) ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدے، ماحول کے تحفظ کے معاہدے، انصاف کا بین الاقوامی نظام، اور قیدیوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنے کے معاہدات شامل ہیں۔‘‘ (ص ۱۹)

’’آج کل واشنگٹن کا منظر مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اور تقریباً ہر معاملے پر سخت جانبدارانہ بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ کلیدی نوعیت کے قانون سازی کے فیصلوں پر عوامی مباحثہ کرانا اب قصۂ ماضی بن چکا ہے۔ بنیادی معاہدے لابی کاروں اور قانون ساز لیڈروں کے مابین ہوتے ہیں، جن میں اکثر پارٹی کے بند کمروں کے اجلاسوں میں ہوتے ہیں کہ جہاں سخت پارٹی نظم حاوی ہوتا ہے۔‘‘ (ص ۲۴)

’’جب امریکیوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ ذاتی طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کا اپنی ہی صنف کے افراد کے ساتھ جنسی عمل کرنا قابل قبول ہے؟ تو ان کی اکثریت اثبات میں جواب دیتی ہے۔ اب سے بیس برس پہلے لوگوں کی رائے اس سے بہت مختلف ہوا کرتی تھی۔‘‘ (ص ۳۰)

’’میرا عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح نجات دہندہ اور خداوند کے بیٹے ہیں۔ پروٹسٹنٹ، رومن کیتھولک، مشرقی آرتھوڈکس، کوپٹس، سیونتھ ڈے ایڈوینٹسٹ، اور بہت سے دوسرے مذہبی لوگ بھی بغیر کوئی سنجیدہ سوال اٹھائے ان عقائد کو مانتے ہیں۔ ہم نے اپنے بیپٹسٹ فرقے کی کچھ خاص باتوں کو بھی دل و ذہن میں جذب کر لیا ہے۔ ہمارے نزدیک بپتسمہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اتنے پختہ اور بالغ نظر ہوں کہ یسوع مسیح پر شخصی ایمان لا سکتے ہوں۔ پانی میں غوطہ دینا ہمارے نجات دہندہ کی موت، تدفین اور حیاتِ نو کی علامت ہے۔ ہم کتاب مقدس کو مکمل طور پر خداوند کا ارادہ مانتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ یسوع مسیح کے الفاظ و اعمال ہی کے مطابق انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کی جانی چاہیے۔ چنانچہ کتاب مقدس کی اکثر و بیشتر مددگار ثابت ہونے والی انسانی تشریحات کو منزہ عن الخطاء، یا مصدقہ مذہبی ضوابط کا مجموعہ، یا ایمانی احتساب کے ذرائع نہیں مانا جاتا۔‘‘ (ص ۳۲)

ایوانجیلیکل کی حیثیت سے ہمارا عالمی مشن یہ ہے کہ بغیر کسی تعصب اور امتیاز کے اپنا عیسائی عقیدہ دوسروں تک پہنچائیں۔ ہم یسوع مسیح کی اس ہدایت پر اپنی ذاتی شہادت (Witnessing) کے ذریعے یا دوسروں کے لیے باقاعدگی کے ساتھ مالی قربانی دے کر عمل کرتے ہیں۔ میری زندگی کے بیشتر حصے میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہمارے بیپٹسٹ چرچ جنوبی بیپٹسٹ کنونشن کے رکن ہوں گے جس کا بنیادی مقصد امریکہ اور دنیا بھر میں ہمارے مشنری کام میں تعاون دینا تھا۔‘‘ (ص ۳۲)

’’ہمارا ایک اور پختہ عقیدہ چرچ اور ریاست کی مکمل علیحدگی ہے۔ یہ بہت اہم معاملہ تھا اور ہم نے ایسے عیسائی شہیدوں (Martyrs) کے بارے میں پڑھا تھا جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے دی لیکن کسی غیر مذہبی رہنما (سیکولر لیڈر) کو مذہبی آزادی میں دخل اندازی نہیں کرنے دی، اگرچہ کچھ عیسائی افراد کو (بشمول میرے والد کے) عوامی معاملات میں حصہ لینے کی آزادی دی گئی تھی۔ تاہم جانبدارانہ سیاسی دنیا میں چرچ کے داخلے کا تصور ہمیں بہت برا لگتا تھا۔ ہم مذہبی آزادی، عیسائی عقیدہ نہ رکھنے والوں کے لیے ہمدردی اور خداوند کے سامنے برابری کے حامل تمام انسانوں کے احترام پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (ص ۳۳)

’’جب میں بائبل کلاسوں کو پڑھاتا ہوں تو اپنے عقیدے کے جوہر کی تشریح کی کوشش کرتا ہوں، میں اپنے سامعین کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ عیسائیت کو اپنی روزمرہ زندگی سے جوڑنے پر آمادہ ہوں۔ اگرچہ جدید عیسائی کمیونٹی میں اختلافی مباحث زوروں پر ہیں تاہم میں عموماً ایسے پیغامات چنتا ہوں جو ان اختلافی مباحث سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک اتوار میری کلاس کے شرکاء کی تعداد بہت زیادہ تھی جن میں بیشتر مہمان تھے۔ میں نے ان سے ان کے مختلف فرقوں میں زیادہ زیر بحث موضوعات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فورًا بتایا، اسکولوں میں لازمی عبادت، مذہبی تعلیم کے لیے سرکاری فنڈز کا استعمال، لیڈروں کی حیثیت سے عورتوں کی سروس (عبادت)، نظریۂ ارتقا، احکام عشرہ کی عوامی نمائش، مقامی چرچوں کی خودمختاری، عقیدے کی جبری قبولیت، پاسٹروں کی برتری، چرچ اور ریاست کے درمیان سرحدوں کا ختم ہو جانا‘‘۔ (ص ۵۳)

’’جہاں مذہبی کمیونٹی میں فرقہ واریت، غلبہ و تسلط اور غصہ و نفرت پائی جاتی ہے، وہاں سیکولر، اور حد تو یہ ہے کہ حکومتی گروپوں میں بھی یہی رجحانات موجود ہیں۔ سیکولر ادارے اور افراد بھی ذاتی تعصبات رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب عورتوں کے خلاف کھلم کھلا اور عموماً امتیاز برتا جا رہا ہے جو کہ نہایت اشتعال انگیز عمل ہے۔ اس قسم کے مذہبی فیصلوں کی اساس غالباً سفید فام مردوں کی طرف سے کتاب مقدس کی منتخب عبارتیں ہیں، نیز یسوع مسیح اور اولین عیسائی چرچ کے لیڈروں کی تعلیمات اور اعمال کو فراموش کر دینا ہے۔‘‘ (ص ۵۴)

’’گزشتہ بیس برسوں کے دوران عیسائی بنیاد پرستوں نے یسوع مسیح کے اس فرمان کو کھلم کھلا چیلنج اور رد کیا کہ ’’قیصر کا کام قیصر پر چھوڑو اور خداوند کے کام کو خداوند پر‘‘۔ بیشتر امریکی اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ عوام سرکاری پالیسی پر اثر انداز ہوں، تاہم وہ اس امر کو درست نہیں سمجھتے کہ کوئی مذہبی گروہ کسی جمہوری حکومت کے کاموں پر کنٹرول پا لے، یا سرکاری اہل کار مذہبی معاملات میں دخل انداز ہوں، یا کچھ خاص مذہبی اداروں کے حق میں قوانین یا ٹیکس محاصل کو استعمال کریں۔‘‘ (ص ۶۲)

’’میں نے پوپ کی دوسرے عیسائیوں کے علاوہ یہودیوں اور مسلمانوں میں تبلیغ کی کوششوں کو سراہا، اور چرچ کو عالمی اہمیت دلوانے کی ان کی جدوجہد کی تحسین کی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کو پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نے عورتوں کو کمتر سمجھنے اور انہیں پادری نہ بنانے کے ان کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ اولین عیسائی چرچ کے لیے ان کے کردار کی توہین ہے۔‘‘ (ص ۶۳)

’’مجھ سے پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا کبھی میرے عیسائی عقائد اور صدر کی حیثیت سے میرے دنیاوی (سیکولر) فرائض کے درمیان تصادم پیدا ہوا تھا؟ کچھ معاملات میں ایسا ہوا تھا تاہم میں نے ہمیشہ اپنے اس حلف کا احترام کیا کہ میں ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کا تحفظ اور دفاع کروں گا‘‘۔ مثال کے طور پر میرا ایمان ہے کہ یسوع مسیح اسقاط حمل یا سزائے موت کو کبھی قبول نہ کرتے، تاہم میں نے اپنی بہترین اہلیت کے مطابق سپریم کورٹ کے اس نوع کے فیصلوں کی تعمیل کی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے خیال کے مطابق ان کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوششیں بھی کیں۔‘‘ (ص ۶۵)

’’۲۰۰۰ء میں جنوبی بیپٹسٹ کنونشن کے لیڈروں نے اپنے اصولوں میں سے اس اصول کو نکال دیا کہ ’’ریاست مذہب کی کسی بھی صورت (form) کی مدد کے لیے ٹیکس عائد کرنے کا حق نہیں رکھتی‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پرائیویٹ اسکولوں کے لیے واؤچر بنائے اور پبلک اسکولوں میں عبادت کو لازمی قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم کا مطالبہ کیا اور چرچ اور ریاست کی علیحدگی کو کھلم کھلا چیلنج کرنے لگے۔‘‘ (ص ۶۸)

’’جولائی ۲۰۰۵ء میں سپریم کورٹ کی جسٹس سانڈراڈے اوکونر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے فوری بعد کہا تھا ’’میں نے اپنی ساری زندگی میں کانگریس کے ارکان اور عدلیہ کے تعلقات کو اتنا داغدار کبھی نہیں دیکھا جتنا کہ اب ہیں ۔۔۔۔ اور میں یہ دیکھ کر بہت دل گرفتہ ہوں۔ موجودہ فضا ایسی ہے کہ میں وفاقی عدلیہ کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں۔‘‘ (ص ۷۰)

’’۲۰۰۶ء کے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران صدارت کے دونوں امیدواروں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کی مخالفت کی تھی۔ تاہم قانونی طور پر تسلیم شدہ یونینوں کے ذریعے مرد اور عورت ہم جنس پرست جوڑوں کو مساویانہ شہری حقوق دینے کی منظوری دی تھی۔‘‘ (ص ۷۴)

’’ہم سب خاندانی اقدار اور شادی کی روایت کے استحکام کو انتہائی اہم تصور کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کالج پہنچنے سے پہلے تک میں کسی طلاق یافتہ شخص سے واقف نہیں تھا۔ تاہم اب طلاق خطرناک حد تک عام ہو چکی ہے۔ تمام امریکی بالغوں میں سے ۲۵ فیصد کو کم از کم ایک مرتبہ طلاق ہو چکی ہے۔ طلاق کی تعداد میں کمی بیشی مذہبی وابستگی اور عمر کی مناسبت سے مختلف ہے۔ بڑے عیسائی گروپوں میں سے بیپٹسٹ سب سے اوپر ہیں ۲۹ فیصد، جبکہ کیتھولک اور لوتھرن طلاق یافتگان ۲۱ فیصد ہیں۔ ایشائیوں کے استثناء کے ساتھ صرف ۹ فیصد، پروٹیسٹنٹوں کے سینئر پیسٹر سب سے کم طلاق یافتہ گروپ تھا ۱۵ فیصد۔ بے بی بومرز (baby boomers) ۳۴ فیصد کو پہنچ چکے ہیں۔ ۵۳ سال سے ۷۲ سال کی عمر کے درمیان کی عمر والے افراد ۳۷ فیصد، جبکہ بوڑھے افراد میں صرف ۱۸ فیصد طلاق یافتہ ہیں۔ شادی کے تقدس کو لاحق اس خطرے کی وجوہ بہت سی ہیں لیکن بعض لوگ ہم جنس پرستی کو شادیوں کی ناکامی میں بہت زیادہ اضافے کا ایک اہم سبب تصور کرتے ہیں۔‘‘ (ص ۷۴)

’’نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا اور یورپ کے بچے بھی جنسی اعتبار سے امریکی بچوں ہی کی طرح فعال ہیں۔ تاہم مناسب سیکس ایجوکیشن سے محروم امریکی لڑکیاں فرانسیسی لڑکیوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ تعداد میں ایک بچے کی ماں ہوتی ہیں، سات گنا زیادہ امریکی لڑکیاں ایک مرتبہ اسقاط حمل کروا چکی ہوتی ہیں۔ اور نیدر لینڈ کی لڑکیوں کے مقابلے میں ۷۷ گنا زیادہ امریکی لڑکیاں سوزاک کا شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے ٹین ایجروں کے مقابلے میں ۵ گنا زیادہ امریکی ٹین ایجر ’’ایچ آئی وی ایڈز‘‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ (ص ۸۰)

’’اگرچہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بہت سے دوسرے پیچیدہ سیاسی عناصر نے منفی اثر ڈالا ہے، تاہم بنیاد پرستوں نے جذباتی معاملات پر شعلہ بیانی کر کے اور مخالفوں سے مذاکرات سے گریز کر کے امریکی خارجہ پالیسی کی صورت بگاڑ دی ہے۔ ایک اہم مثال یہ ہے کہ چند امریکی سیاسی لیڈروں نے فیڈل کاسترو کو ایک ولن کے طور پر قبول کر رکھا ہے اور انہوں نے کیوبا جیسے چھوٹے سے، عسکری اعتبار سے بانجھ ملک کو ہمارے ملک کی سلامتی اور ثقافت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بنا دیا ہے۔‘‘ (ص ۱۰۳)

’’مذہب اور حکومت کا ایک انتہائی عجیب امتزاج، امریکہ کی مشرق وسطٰی میں پالیسی پر کچھ عیسائی بنیاد پرستوں کا بھرپور اثر ہے۔ امریکہ میں تقریباً ہر شخص بارہ کتابوں پر مشتمل (Left Behind) سیریز سے واقف ہے جس کے مصنف ٹم لاہے اور جیری بی جینکنس ہیں۔ ان کتابوں نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے یہ کتابیں بائبل کی احتیاط سے منتخب کردہ عبارتوں خصوصاً ’’بک آف ریویلیشن‘‘ سے لی گئی عبارتوں کی اساس پر لکھی ہیں اور ان میں دنیا کے ختم ہونے کی منظر کشی کی گئی ہے۔ جب مسیح واپس آئے گا تو سچے ایمان والوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے گا، جہاں وہ خداوند کے ساتھ نیچے رہ جانے والے بیشتر انسانوں کی اذیتوں کا نظارہ کریں گے۔ یہ واقعہ لمحاتی ہو گا اور اس کا وقت پہلے نہیں بتایا جا سکتا۔ میرے لاکھوں ساتھی بیپٹسٹ اور دوسرے لوگ ایسے ہیں جو اس نظریے پر لفظًا یقین رکھتے ہیں اور خود کو چند منتخب لوگوں میں شامل سمجھتے ہیں، اور ’’دہشت و اذیت کے دور‘‘ میں نجات کے لیے منتخب نہ کیے جانے والے اپنے افراد خانہ، دوستوں اور ہمسایوں کو چھوڑنے اور ان کی مذمت پر تیار ہیں۔

امریکی حکومت کی پالیسیوں میں ایسے نظریات کا سمویا جانا تشویش کا سبب ہے۔ ان ایمان والوں کو یقین ہے کہ اس (Rapture) کی جلد آمد اُن کی شخصی ذمہ داری ہے تاکہ بائبل کی پیشگوئی پوری ہو۔ ان کے ایجنڈے میں مشرق وسطٰی میں اسلام کے خلاف جنگ کرنا اور یہودیوں کا ساری ارض مقدس کو چھین لینا شامل ہے۔ ساتھ ہی سارے عیسائیوں اور غیر یہودیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ اس کے بعد کافر (اینٹی کرائسٹ ) اس علاقے کو فتح کر لیں گے اور مسیح فتح پائے گا۔ Rapture کے زمانے میں سارے یہودی یا تو عیسائیت قبول کر لیں گے یا انہیں جلا دیا جائے گا۔

انہی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے چند عیسائی لیڈر عراقی جنگ کو بڑھانے میں پیش پیش رہے ہیں اور بار بار اسرائیل کے دورے کرتے رہے ہیں۔ وہ اس کی مدد کے لیے اسے چندے بھی دیتے رہے ہیں اور فلسطینی علاقے کو نوآبادی بنانے کے لیے واشنگٹن میں لابنگ کرتے رہے ہیں۔ یہ دائیں بازو کا مذہبی دباؤ تھا کہ امریکہ نے اسرائیلی بستیاں اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں ہائی ویز کو قبول کر لیا۔ چند اسرائیلی لیڈروں نے یہودیوں کی آخری مصیبت کو نظرانداز کرتے ہوئے اس امداد کو قبول کر لیا۔‘‘ (ص ۱۱۲)

’’گھر میں شہری حقوق کی اس فتح کے باوجود امریکہ نے مشرقِ وسطٰی اور دوسرے خطوں کی انتہائی ظالمانہ حکومتوں کو قبول کیے رکھا اور ان کی مدد بھی کرتا رہا۔ حالانکہ حکومتیں اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی تھیں۔‘‘ (ص ۱۱۵)

’’گزشتہ چار سو برسوں میں ان حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارے ملک کی پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ہمارے بیشتر شہریوں نے دہشت گردانہ حملوں کے خوف سے ان عدیم النظیر پالیسیوں کو قبول کر لیا ہے۔ تاہم امریکی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ، جسے پہلے انسانی حقوق کے ممتاز ترین چیمپئن کی حیثیت سے تقریباً آفاقی طور پر سراہا جاتا تھا، اب جمہوری زندگی کے ان بنیادی اصولوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کی تنقید کا سب سے بڑا ہدف بن چکا ہے۔

نائن الیون کے حملے کے بعد امریکی حکومت نے غیر ضروری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پورے امریکہ میں ۱۲۰۰ سے زیادہ بے گناہ افراد کو گرفتار کروا لیا۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پہلے کسی دہشت گردی سے مربوط جرم میں ملوث نہیں ہوا تھا۔ ان کی شناخت راز میں رکھی گئی اور انہیں اپنے خلاف الزامات سننے یا قانونی مشاورت حاصل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ گرفتار ہونے والے تقریباً سارے افراد عرب یا مسلمان تھے اور بیشتر کو امریکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ شہری آزادیوں کی ایسی پالیسیوں کو قانونی روپ دینے کے لیے ’’پیٹریاٹ ایکٹ‘‘ بہت جلدی میں منظور کیا گیا۔‘‘ (ص ۱۱۵)

’’افغانستان اور عراق میں جنگوں کے دوران بالغ مردوں کے علاوہ بہت سے کم عمر لڑکوں کو گرفتار کر کے گوانتاناموبے (کیوبا) میں واقع ایک امریکی قید خانے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس قید خانے میں ۴۰ ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۵۲۰ افراد کو قید میں رکھا گیا ہے۔ انہیں اس قید خانے میں تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے جبکہ نہ تو ان پر باقاعدہ کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں قانونی مشاورت حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ کئی امریکی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ان قیدیوں پر جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔‘‘ (ص ۱۱۶)

’’عراقی میجر جنرل عید حامد مہوش نے اپنے بیٹوں کو ڈھونڈنے کی کوشش میں بغداد میں امریکی افسروں کو رضاکارانہ طور پر گرفتاری دی، اسے گرفتار کر کے اس پر تشدد کیا گیا اور اسے ایک سبز سلیپنگ بیگ میں بند کر دیا گیا جس میں دم گھٹنے سے وہ ۲۶ نومبر ۲۰۰۳ء کو مر گیا۔‘‘ (ص ۱۹۹)

’’اتنی ہی پریشان کن وہ رپورٹیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت بعض دوسرے ملکوں کی حکومتوں کو دہشت گردی کو روکنے کے لیے جارحانہ پالیسیاں اپنانے پر اکسا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں جمہوری اصول اور قانون کی حکمرانی خطرے میں پڑ گئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بڑھ گئی ہے۔ امریکی پشت پناہی سے جابرانہ اقدامات کرنے والی حکومتوں کی کاروائیاں پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت ہونے والی کاروائیوں سے بھی بڑھ گئی ہیں۔‘‘ ( ص ۱۲۰)

’’جو کچھ ہو رہا ہے امریکی حکام کو اس کا علم تھا۔ محکمہ خارجہ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پہلے ہی بتا چکا ہے کہ سابقہ قیدیوں اور حراست میں رکھے جانے والے افراد نے بتایا کہ قیدیوں پر تشدد کے طریقوں میں شامل ہے: بجلی کے جھٹکے لگانا، ناخن کھینچنا، مارنا پیٹنا، چھت سے لٹکانا، ریڑھ کی ہڈی کو بہت زیادہ کھینچنا، کرسی پر بٹھا کر پیچھے جھکانا جس سے قیدی کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے سرک جاتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۴)

’’اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 30,000 (تیس ہزار) ایٹم بم موجود ہیں جن میں سے بارہ ہزار ایٹم بم امریکہ کے پاس ہیں۔ روس کے پاس سولہ ہزار، چین کے پاس چار سو، فرانس کے پاس ساڑھے تین سو، اسرائیل کے پاس دو سو، برطانیہ کے پاس ایک سو پچاسی، اور ہندوستان اور پاکستان کے پاس چالیس چالیس ایٹم بم ہیں۔ اس امر کا یقین کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس اتنا نیوکلیئر ایندھن ہے جس سے نصف درجن ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۹)

’’گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ایٹمی اسلحہ پر کنٹرول کے لیے جتنے معاہدوں پر مذاکرات کیے گئے ہیں امریکہ ان میں سے تقریباً تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے، اور ایٹمی اسلحہ کے عالمگیر پھیلاؤ کا سب سے بڑا مجرم (Prime Culprit) بن چکا ہے۔ سابق وزیردفاع میکنامارا نے مئی، جون ۲۰۰۵ء کے فارن افیئرز میں اپنے خدشات کا یوں اظہار کیا تھا کہ میں امریکہ کی موجودہ ایٹمی اسلحہ پالیسی کو غیر اخلاقی، غیر قانونی، فوجی اعتبار سے غیر ضروری اور ہولناک حد تک خطرناک سمجھتا ہوں۔‘‘ (ص ۱۲۹)

’’ایک اور تاریخی و بین الاقوامی عہد کو توڑ دیا گیا ہے۔ اور وہ عہد یہ تھا کہ موجودہ ایٹمی ہتھیاروں کی آزمائشیں نہ کی جائیں اور نئے ایٹمی ہتھیار نہ بنائے جائیں۔‘‘ (ص ۱۳۵)

’’اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے کسی کنٹرول میں اور زیرنگرانی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پڑوسی ملکوں ایران، شام، مصر اور دوسرے عرب ملکوں کے لیڈر ایٹمی ہتھیاروں کی مالک برادری میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘ (ص ۱۳۷)

’’موجودہ امریکی پالیسی ان بین الاقوامی معاہدوں کے مؤثر ہونے کے لیے خطرہ بن رہی ہے جن کے لیے تقریباً تمام سابق صدور نے جانفشانی سے مذاکرات کیے تھے۔ عالمی استحکام کو درپیش اس سے بھی بڑا خطرہ پیش بندی کے لیے کی جانے والی جنگ کی پالیسی ہے جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی۔ یہ حالیہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کی تاریخی پالیسیوں سے انحراف ہے بلکہ ان بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہے جن کے احترام کا ہم وعدہ کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا دستور خودمختار قوموں کو اپنے انفرادی اور اجتماعی دفاع کا حق دیتا ہے، لیکن صرف مسلح حملے کی صورت میں۔ ہمارے صدر نے ہمارے قریب تین اتحادیوں کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ جنگ کو ’’آخری چارۂ کار‘‘ کے طور پر رد کرتے ہوئے فوجی حملوں میں پہلے کرے گا۔‘‘ (ص ۱۴۰)

’’دوسرے ملکوں کو ’’بدی کا محور‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں امکانی ہدف قرار دے دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی سفارتکاری کے ذریعے ان کے ساتھ اختلافات کو سلجھانے کے عمومی دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ۲۰۰۱ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہمارے لیے ہر ملک نے جو تقریباً یک زبان ہو کر ہمدردی کا اظہار اور حمایت و امداد کا وعدہ کیا تھا، وہ ہماری اس پالیسی کے اپنانے سے ختم ہو گیا ہے۔ اب ہم دہشت گردی کے خطرے کو محدود اور کم کرنے کی اپنی طویل اور اہم ترین کوشش میں نسبتاً اکیلے ہو گئے ہیں۔‘‘ (ص ۱۴۱)

’’ایک عیسائی اور بین الاقوامی بحران سے حد درجہ متاثر سمجھے جانے والے صدر کی حیثیت سے میں ایک منصفانہ جنگ کے اصولوں سے پوری طرح واقف ہوں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ عراق پر یکطرفہ حملہ ان معیارات پر پورا نہیں اترتا۔‘‘ (ص ۱۴۳)

’’ہم اور ہمارے اتحادی برطانوی فیصلہ کر چکے ہیں کہ سویلین ہلاکتوں کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ حقیقی اور مطبوعہ اعداد و شمار میں بہت فرق ہے۔ برطانیہ کے ایک مؤقر جریدے لینسیٹ (Lancet) نے رپورٹ دی ہے کہ اتحادی فوجیوں (خصوصاً ایئرفورس) نے ایک لاکھ غیر فوجی عراقیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی سرکاری ذرائع نے صرف چوبیس ہزار کا تخمینہ لگایا ہے۔ یعنی صرف انہی ہلاکتوں تک محدود رکھا ہے جن کی خبریں مغربی ذرائع ابلاغ دے چکے ہیں، اصل تعداد ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔‘‘ (ص ۱۴۷)

’’ہماری حکومت کا ایک سب سے زیادہ عجیب فیصلہ امریکیوں کے جانی نقصان سے عوام کو لاعلم رکھنا ہے۔ ہمارے لیڈر شاذ ہی زخمیوں کا ذکر کرتے یا ان کی عیادت کرنے جاتے ہیں۔ اور ڈوور ایئرفورس بیس ڈیلاویئر کے مضافاتی قبرستان میں پہنچائے جانے والے تابوتوں کے بارے میں عوام کو خبر نہ ملنے دینے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کی ماؤں اور بیویوں کی جانب سے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں جنہیں ڈوور یا دوسرے فوجی اڈوں پر اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھنے نہیں دی گئیں۔‘‘ (ص ۱۴۶)

’’جب امریکہ نے ۲۰۰۵ء کے شروع میں عراق میں جمہوریت کی طرف پہلا قدم اٹھایا تو شیعہ اور کردوں نے سنی منحرفین اور دہشت گرد گروپوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود جرأت اور آزادی کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ اگلے مراحل یعنی آئین کو تحریر کرنے اور پھر ایک نمائندہ حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے میں اس وقت یہ کتاب لکھتے ہوئے تو کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا، تاہم اس حوالے سے بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے کہ سنی تعاون کریں گے یا نہیں، اور یہ کہ مذہبی قوانین کتنے غالب ہوں گے؟

حکمران شیعہ جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ شادی، طلاق اور وراثت کے معاملات میں شریعت کو اعلٰی اتھارٹی ہونا چاہیے۔ اگر عورتوں کے حقوق، جو کہ صدر صدام حسین کے دور میں محفوظ تھے، امریکہ کی سرپرستی اور حفاظت میں قائم ہونے والی نئی جمہوری حکومت کے دور میں ختم ہو جائیں گے تو یہ ستم ظریفی ہو گی۔‘‘ (ص ۱۴۹)

’’ایک بنیادی سوال جو آخری حاصل (Final outcome) کا تعین کرے گا، یہ ہے کہ کیا امریکی لیڈر عراق میں مستقل فوجی اڈوں کے قیام اور معیشت پر غلبہ پانے پر اصرار کریں گے، یا یہ واضح کریں گے کہ ہم نے اپنے فائدے کے لیے مستقل موجودگی کو برقرار رکھنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہوا؟ ہماری قوم ہمیں درپیش بین الاقوامی چیلنجوں کا بنیادی جواب دینے کے معاملے پر واضح طور پر تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ بات تقریباً متفقہ طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ امریکی سرزمین کبھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو گی۔ امریکہ کو ایسی نسبتاً کمزور تنظیموں کی طرف سے دہشت گردی کا خطرہ رہے گا جو امریکہ کی بے پناہ فوجی قوت کے کسی بھی پہلو کو چیلنج کرنے کی امید نہیں کر سکتیں۔ ہمارا بہترین جواب کیا ہے؟ کیا انسانی حقوق کے تاریخی چیمپئن کا کردار ادا کرنا ہمارے لیے بہتر ہے، یا خطروں کا جواب دینے کے لیے اپنے اعلٰی ملکی اور بین الاقوامی معیارات کو ترک کر دینا؟‘‘ (ص ۱۵۱)

’’اس وقت امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والا ملک ہے۔ ہماری حکومت کی طرف سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انکار عالمی ماحول کے تحفظ کے دو جماعتی تاریخی وعدوں سے انحراف کے سلسلے کی محض ایک اور المناک کڑی ہے۔ خداوند کی دنیا کا تحفظ ہماری ایک ذاتی، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘‘ (ص ۱۶۷)

’’یہ بات فخر کیے جانے کے قابل ہے کہ امریکہ میں اوسط خاندان کی سالانہ آمدنی پچپن ہزار ڈالر ہے، لیکن ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے آدھے سے زیادہ لوگ دو ڈالر روزانہ سے بھی کم پر زندہ ہیں، جبکہ ایک ارب بیس کروڑ لوگوں کو صرف ایک ڈالر روزانہ پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ صرف لمحہ بھر کے لیے تصور کریں کہ ہمیں ایک ڈالر روزانہ پر گزارا کرنا ہو تو کیا ہو گا؟ صرف ایک ڈالر کھانے کے لیے، رہائش کے لیے اور لباس کے لیے۔ واضح بات ہے کہ حفظان صحت اور تعلیم کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور ہماری عزت نفس اور روشن مستقبل کی امید کا باقی رکھنا تو مشکل ہو گا۔‘‘ (ص ۱۶۶)

’’ہمارا پورا معاشرہ زیادہ سے زیادہ تقسیم ہو رہا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ تقسیم کالے، گورے یا ہسپانوی کے درمیان ہو، بلکہ یہ تقسیم امیر اور غریب کے درمیان ہے۔ ہم میں سے بے شمار لوگوں کو تو کسی ایک غریب سے بھی واقفیت نہیں ہے۔‘‘ (ص ۱۷۰)

یہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی کتاب ’’امریکہ کا اخلاقی بحران‘‘ کے چند اقتباسات ہیں۔ جو نہ صرف گزشتہ ربع صدی کے دوران امریکی پالیسیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ امریکی قوم کی اجتماعی نفسیات کا بھی اس سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ اور عالم اسلام اور مغرب کے درمیان اس وقت جو کشمکش جاری ہے اس کا ایک مجموعی منظر بھی نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی قوم نے چرچ اور ریاست کی علیحدگی اور آسمانی تعلیمات سے لاتعلق جمہوریت اور سیکولرازم کے فلسفے کے ساتھ جس قومی سفر کا اب سے کم و بیش اڑھائی سو برس قبل آغاز کیا تھا، اسے نہ صرف بریک لگ چکی ہے بلکہ ’’ریورس گیئر‘‘ کا استعمال بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہ بات ہمارے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ خدا کرے کہ ہم تاریخ کے اس نئے موڑ کا بروقت اور صحیح ادراک کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: