دینی اقدار کو درپیش حالیہ خطرات کے حوالہ سے مشاورتیں

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳ اکتوبر ۲۰۲۰ء

یکم اکتوبر کو لاہور میں مصروف دن گزارا۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق سے فارغ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے لاہور پہنچا جہاں لارنس روڈ پر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ کے قائم کردہ مرکز اہل حدیث میں کل جماعتی مجلس تحفظ ناموس علماء کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشاورتی اجلاس تھا جس کی صدارت علامہ شہیدؒ کے فرزند علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کی اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ مجلس عمل کے کنوینر مولانا عبد الرؤف فاروقی، حاجی عبد اللطیف خالد چیمہ اور مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر بھی شریک تھے۔ ۱۸ اکتوبر کو ناصر باغ لاہور میں منعقد ہونے والی عظمت صحابہ کرام و اہل بیت عظامؒ ریلی کے انتظامات زیرغور آئے اور اس کے مختلف شعبوں کی تشکیل کی گئی جبکہ ۱۲ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں اسی عنوان کے تحت منعقد ہونے والی ریلی کے انتظامات بھی زیر بحث آئے۔

وہاں سے فارغ ہو کر مولانا فاروقی اور قاری جمیل الرحمان اختر کے ہمراہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے دفتر میں بعض معاملات پر باہمی مشاورت ہوئی اور وہاں سے ہم نے حاجی عبد اللطیف چیمہ اور میاں محمد اویس کی معیت میں جامعۃ الخیر جوہر ٹاؤن میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے ملاقات کی اور انہیں ملتان میں عظمت صحابہ کرامؓ ریلی کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اس کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کی۔ گوجرانوالہ اور لاہور کی ۱۲ اور ۱۸ اکتوبر کی ریلیوں کے انتظامات کے سلسلہ میں ان سے صلاح مشورہ کیا اور ریلیوں میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ قاری صاحب محترم نے ان اجتماعات کے اہتمام پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان اجتماعات کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کریں۔

اس موقع پر باہمی گفتگو اور مشاورت میں اس امر کا بطور خاص اظہار کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی شخصیت کی کسی طور پر اہانت و تحقیر برداشت نہیں کی جائے گی لیکن ملک کو فرقہ وارانہ کشمکش کی آماجگاہ بھی نہیں بننے دیا جائے گا۔ اس بات پر بھی اتفاق رائے کا اظہار ہوا کہ عظمت صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے عنوان سے یہ اجتماعات نہ تو کسی کے خلاف ہیں اور نہ ہی فرقہ وارانہ ہیں۔ اس لیے کہ عزت و ناموس کا تحفظ اور عظمت و منقبت کا اظہار امت کے تمام بزرگوں کا حق ہے جبکہ کسی بھی گروہ کے بڑوں کی بے حرمتی اور توہین یکساں جرم ہے۔ بالخصوص صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ سے تعلق رکھنے والی ہر شخصیت اہل سنت کے نزدیک قابل احترام اور واجب التعظیم ہے۔ اس لیے ان اجتماعات اور ان میں ہونے والے بیانات کو مثبت دائروں میں اور قانون کی پابندی کی حدود میں رکھنا ضروری ہے اور کسی قسم کی منفی یا خلافِ قانون سرگرمیوں سے گریز ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اسی روز ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے پارلیمنٹ سے حال ہی میں منظور کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قانون پر مشاورت کے لیے مشاورتی اجلاس طلب کر رکھا تھا جو گارڈن ٹاؤن لاہور کے معروف اہل حدیث مرکز جامعہ الاسلامیہ میں منعقد ہوا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کے علاوہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی اور مولانا عبد الرؤف ملک نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مذکورہ وقف املاک قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی متعدد شقوں کو شرعی، قانونی اور بین الاقوامی مسلّمات کے منافی قرار دیا گیا اور اس بات کا بطور خاص نوٹس لیا گیا کہ ملک کے عوام بالخصوص علماء کرام اور دینی راہنماؤں کی اکثریت اس قانون کے مندرجات اور نتائج و عواقب سے آگاہ نہیں ہیں جبکہ واضح طور پر یہ قانون دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور مساجد کے آزادانہ دینی ماحول پر اثرانداز ہو رہی ہے اور دینی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ خطبہ و وعظ کو بھی بیوروکریسی کے مکمل کنٹرول میں دے دیا گیا ہے، جو شرعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہماری ملی و معاشرتی روایات سے بھی انحراف ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا اور اس کا راستہ روکنا بہرحال ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کے عنوان سے قومی نصاب تعلیم سے دینی تعلیم کو آہستہ آہستہ خارج کرتے چلے جانے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ دینی مدارس کے تمام وفاقوں کی قیادتوں سے گزارش کی جائے کہ وہ اس سلسلہ میں پائے جانے والے ابہام اور خدشات پر ملک کے عمومی ماحول کو اعتماد میں لیں اور حکومت کے ساتھ اب تک ہونے والے معاہدات پر وفاقوں کی پوزیشن واضح کریں۔ کیونکہ شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو دینی مدارس اور نظام تعلیم کے مستقبل کے حوالہ سے کسی طرح بھی بہتر نہیں ہے۔
اجلاس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اسلامی دینی تعلیم کے مروجہ نظام کے خلاف بعض بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں اور ہمارے حکومتی حلقوں میں بیٹھے ہوئے بہت سے ذمہ دار لوگ ملکی و قومی مفادات کی پروا کیے بغیر اس ایجنڈے میں شریک کار دکھائی دے رہے ہیں۔

اجلاس میں طے پایا کہ اس سلسلہ میں عوام اور دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ملی مجلس شرعی پاکستان کردار ادا کرے گی جس کے لیے پہلے مرحلہ میں دینی مدارس کے منتظمین کے مشاورتی اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ انہیں آنے والے خطرات و خدشات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں طے پایا کہ اکتوبر کے آخری ہفتہ کے دوران لاہور میں دینی مدارس کے مہتممین کا ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا اور تمام وفاقوں کی قیادتوں سے رابطہ قائم کر کے انہیں اپنے موقف اور خدشات سے آگاہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے علماء کرام اور خطباء مساجد کی اجتماعی مہم کی تحسین کی گئی اور ان سے ہر ممکن تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، دینی مدارس کے مہتممین اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قانون کا فی الفور مطالعہ کر کے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں اور اپنے ماحول میں بیداری پیدا کرنے کا اہتمام کریں۔