حضرت درخواستیؒ کا سبق آموز پیغام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ مارچ ۲۰۰۳ء

۵ مارچ کو ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں ایک تقریب تھی جو مختلف سیاسی و دینی رہنماؤں اور اسلام آباد و راولپنڈی کے علماء کے ایک بھر پور اجتماع کا ذریعہ بن گئی۔ تقریب کے بعض شرکاء کا کہنا تھا کہ ایک بڑے عرصہ کے بعد اسلام آباد میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کا اتنا بھر پور اجتماع دیکھنے میں آیا ہے۔

حضرت درخواستیؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے فرزند و جانشین مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر نگرانی جامعہ انور القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’انوار القرآن‘‘ نے ایک ضخیم اور جامع حافظ الحدیث نمبر شائع کیا ہے جو سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ خوبصورت جلد اور عمدہ کمپوزنگ و طباعت سے مزین ہے اور نامور اہل قلم اور اصحاب دانشوروں کی نگار شات کا مجموعہ ہے۔ مذکورہ بالا تقریب اسی’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کی رونمائی کی تقریب کے طور پر منعقد کی گئی تھی جس کی صدارت پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے کی اور اس سے حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدظلہ، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن، اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب قاضی حسین احمد کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام کے دیگر رہنماؤں سینیٹر مولانا سمیع الحق، مولانا عبد الغفور حیدری ایم این اے، حافظ حسین احمد ایم این اے، شاہ عبدالعزیز ایم این اے، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا محمد عبدالرؤف فاروقی، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا محمد صابر سرھندی، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا عبدالرؤف ملک اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ ماہنامہ انوارالقرآن کراچی کے مدیر مولانا عبدالرشید انصاری نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے۔

حضرت درخواستیؒ نے کم و بیش پون صدی تک مسلسل دینی و علمی خدمات سر انجام دی ہیں اور نصف صدی کے لگ بھگ قافلہ حق کی نمائندہ جماعت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر رہے ہیں۔ ان کی امارت میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ ، حضرت مفتی عبد القیوم یوسف زئیؒ ، حضرت مولانا عرض محمدؒ آف کوئٹہ، حضرت مولانا پیر محسن الدین احمدؒ آف ڈھاکہ، حضرت مولانا سید حامد میاںؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہؒ ، حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ ، اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ جیسے اکابر علماء نے دینی و جماعتی خدمات میں حصہ لیا ہے۔

مجھے بھی تقریباً تیس سال تک ایک کارکن کے طور پر اور اس دوران سترہ سال کا عرصہ ان کی ٹیم اور کابینہ کے خادم رکن کی حیثیت سے ان کی امارت میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے مقررین جب ان کی خدمات اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کر رہے تھے تو میری نگاہوں کے سامنے ماضی کے مناظر ایک ایک کر کے گھومتے جا رہے تھے۔ اجتماع میں زیادہ تر وہ علماء کرام اور کارکن تھے جو حضرت درخواستیؒ کے براہ راست یا بالواسطہ شاگرد تھے اور عقیدت و ارادت کے جذبات کے تو سبھی حامل تھے کہ یہی جذبہ انہیں اس محفل میں لے کر آیا تھا۔

حضرت درخواستیؒ کی جدوجہد اور تگ و تاز کے مختلف میدان تھے، وہ اپنے وقت کے ایک بڑے مدرس اور محدث تھے جنہیں ’’حافظ الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور اس اعزاز میں وہ اپنے تمام معاصرین میں منفرد تھے۔ وہ دینی فتنوں کے خلاف ایک شمشیر برآں تھے اور جہاں بھی عقیدہ اور ایمانیات کے حوالہ سے کوئی فتنہ اور خطرہ دیکھتے تھے بلا خوف و خطر اس کے خلاف میدان میں کود جایا کرتے تھے۔ وہ حکومتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے اور ہر غلط بات پر حکمرانوں کو برملا ٹوک دیا کرتے تھے۔ وہ علماء کرام اور کارکنوں کے حالات کو بھی نگاہ میں رکھتے تھے اور کسی قسم کی رد رعایت کے بغیر خلوت و جلوت ہر جگہ انہیں تنبیہ کر دیتے تھے۔ وہ عوام کی دینی و اخلاقی حالت کی مسلسل نگرانی کرتے تھے، ان کے خطبات کا بیشتر حصہ اصلاح و تذکیر پر مشتمل ہوتا تھا۔ وہ ایک عظیم مربی اور روحانی شیخ تھے جو اپنے مرشد حضرت دین پوری قدس اللہ سرہ العزیز کی پیروی میں لوگوں کو اللہ اللہ کا ذکر سکھانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔ اور وہ ایک عظیم مجاہد تھے جن کی زبان ہمیشہ جہاد اور مجاہدین کے تذکرہ سے تر رہتی تھی۔

مقررین اپنے خطابات میں حضرت درخواستیؒ کی اس چومکھی لڑائی کا تذکرہ کر رہے تھے جو انہوں نے زندگی بھر باطل کے خلاف لڑی اور ان کی بصیرت افروز باتوں کو یاد کر کے ایمان کی تازگی کا سامان کر رہے تھے جن کے ذریعہ انہوں نے اہل وطن کو آنے والے فتنوں سے بر وقت خبردار کر دیا تھا۔ جہاد افغانستان میں حضرت درخواستیؒ کے سرگرم کردار کا بھی تذکرہ ہوا اور ایک مقرر نے بتایا کہ ابھی افغانستان سے مہاجرین کی آمد شروع ہوئی تھی اور روسی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت کا کوئی واضح پروگرام سامنے نہیں آیا تھا کہ افغان مہاجرین کے ایک کیمپ میں حضرت درخواستیؒ تشریف لے گئے اور وہاں اپنے خطاب کے دوران مہاجر سامعین کی مسلسل اٹھک بیٹھک شروع کرادی۔ بعد میں فرمایا کہ انہوں نے اب جہاد کرنا ہے اور میں ان کو تربیت دے رہا ہوں۔ یہ ان کی خداداد بصیرت کی بات تھی کہ انہوں نے آنے والے دور کی ضروریات سے بر وقت لوگوں کو خبر دار کرنا شروع کر دیا تھا۔

حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے حرم پاک کا قصہ سنا کر بہت سے سامعین کو آبدیدہ کر دیا کہ حضرت درخواستیؒ وہاں ایک محفل میں مسلسل احادیث نبویؐ پڑھتے جا رہے تھے اور بڑے بڑے عرب علماء دانتوں میں انگلیاں دبائے ان کا چہرہ دیکھ رہے تھے کہ دنیائے عجم میں بھی حدیث رسولؐ کا اتنا بڑا شیدائی اور اتنا بڑا حافظ ہو سکتا ہے؟

راقم الحروف کو بھی اس اجتماع میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی اور میں نے عرض کیا کہ اس موقع پر اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے حضرت درخواستیؒ کا ہی ایک پیغام پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کا امیر منتخب ہوتے وقت قوم کو دیا تھا اور جس کی تازگی، ضرورت اور اہمیت چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ صرف برقرار ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مرد درویش قبر سے اٹھ کر ہمارے آج کے حالات کو دیکھ رہا ہے اور ہمیں سنبھلنے اور ہوش میں آنے کا پیغام دے رہا ہے۔

یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا انتقال ہوا تھا اور ان کے جنازہ میں شرکت کے بعد حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ نے مدرسہ مخزن العلوم عیدگاہ خانپور میں جمعۃ المبارک کے پہلے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اس خطاب کی کیسٹ حضرت درخواستیؒ اور جامعہ مخزن العلوم کے نائب مہتمم حضرت مولانا حاجی مطیع الرحمن درخواستی کے پاس محفوظ ہے اور میں علماء کرام و طلبہ کو اکثر تلقین کیا کرتا ہوں کہ وہ یہ کیسٹ حاصل کریں اور اسے کبھی کبھی ایمان کی تازگی کے لیے ضرور سن لیا کریں۔ اس کیسٹ میں سے چند اقتباسات پیش کر رہا ہوں جو آج کے حالات میں بھی ہمارے لیے سبق اور پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اس پیغام کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل کا عہد ہی حضرت درخواستیؒ کے ساتھ ہماری عقیدت و محبت کا عملی اظہار ہوگا۔ حضرت درخواستیؒ اس خطاب میں فرماتے ہیں کہ

’’اہل باطل خوش نہ ہوں کہ حق کہنے والے چلے گئے۔ نہیں بلکہ ایک جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ حق کہنے والا کھڑا ہوگا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ ہمارے لیے سعادت کی بات ہوگی کہ ہم جانے والوں کے مشن کو سینے سے لگائے رکھیں اور انہی کی طرح محنت اور جدو جہد کرتے ہوئے ان سے جا ملیں‘‘۔

’’دینی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، رمضان المبارک کی بے حرمتی ہو رہی ہے، ناچ گانا عام ہے، فلمیں بن رہی ہیں، سینما آباد ہیں، لوگوں کو بے حیا بنایا جا رہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کا انکار ہو رہا ہے، نبیؐ کے یاروں صحابہ کرامؓ کی توہین ہوتی ہے اور حضورؐ کے گھرانے کی بے احترامی کی جاتی ہے لیکن کوئی اس کا نوٹس نہیں لیتا۔ اس زندگی سے موت بہتر ہے۔ ہمارے ملک کو پہلے فرنگی نظام کے ذریعہ برباد کیا جاتا رہا اور اب امریکی نظام کے ذریعہ ملک کو تباہ کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں مگر ہم نے نہ فرنگی نظام کو قبول کیا تھا اور نہ ہی امریکی نظام قبول کریں گے۔ ہمارے بزرگوں نے فرنگی نظام کے خلاف جنگ لڑی تھا اور ہم امریکی نظام کے تسلط کے خلاف جنگ لڑیں گے اور ہمارا اعلان ہے کہ ہم سولی پر چڑھ جائیں گے، دار و رسن کو منظور کر لیں گے مگر امریکی نظام کا تسلط برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

’’میں صدر پاکستان سے، ملک کے افسروں سے، ججوں سے اور حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، ہمارا بھی ہے، آپ کا بھی ہے۔ اس لیے ہم سب کو اس ملک کی فکر کرنی چاہیے اور سب کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ نہ تم ہمارے لیے غیر ہو نہ ہم تمہارے لیے غیر ہیں، ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ہم سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور غلام ہیں۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حضور اکرمؐ کا نظام اور قانون نافذ کر کے اس ملک کو بچا لیں، یہ ملک اسی نظام سے بچے گا۔ فرنگیوں اور امریکیوں کے نظام سے یہ ملک باقی نہیں رہے گا۔ لڈو کھا کر ملک کو بدنام کرنے والوں سے میں کہتا ہوں کہ تمہاری آنکھیں بند ہیں، تم نے دوست کو دشمن سمجھ لیا ہے اور دشمنوں کو دوست بنا لیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہے اور شیطان تم پر مسلط ہو گیا ہے۔ اس حالت سے باہر نکلو، قرآن و سنت کو سینے سے لگاؤ، اور اللہ کے بندوں کی بات مانو تاکہ یہ ملک دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ ہو جائے‘‘۔