سودی نظام پر بحث

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

۴ مارچ کو قومی اسمبلی میں سودی نظام کے حوالہ سے بحث ہوئی اور مختلف ارکان نے اس سلسلہ میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہ بحث صاحبزادہ محمد یعقوب کی پیش کردہ اس قرارداد کے ضمن میں ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں صاحبزادہ طارق اللہ، شیر اکبر خان، عائشہ سید، جمشید دستی، قیصر احمد شیخ، قاری محمد یوسف، علی محمد خان اور نعیمہ کشور خان شامل ہیں۔ مقررین نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت اور دستور پاکستان میں سودی نظام کی مخالفت کی گئی ہے اور پاکستان کو سودی نظام سے پاک کرنا حکومت کی شرعی و دستوری ذمہ داری ہے۔ یہ قرارداد اگرچہ منظوری کے بغیر ہی نمٹا دی گئی لیکن اس سے چند روز قبل قومی اسمبلی ایک قرارداد منظور کر چکی ہے جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی کے اہتمام کے لیے کہا گیا ہے اور ان سفارشات میں سودی نظام کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ان قراردادوں کی حیثیت اگرچہ اخلاقی اور سفارشی ہوتی ہے لیکن اس سے عوام کے منتخب نمائندوں کے رجحانات کا ضرور اندازہ ہو جاتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام اور اس کے نمائندے کسی مسئلہ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟

سود کو قرآن و سنت میں قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور دستور پاکستان میں بھی کہا گیا ہے کہ ملک کو سودی نظام سے جلد از جلد نجات دلائی جائے گی۔ اس لیے اس مسئلہ پر بار بار عوامی رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اس سے ان بین الاقوامی اور بعض سیکولر قومی حلقوں کے اس بہانہ کا جواب ضرور سامنے آجاتا ہے جو ہر بات پر سول سوسائٹی اور رائے عامہ کو آڑ بنا کر اسلامی قوانین کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی مذکورہ دو قراردادوں پر ہونے والی بحث اور ان میں سے ایک کی منظوری سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے ملک میں نفاذ اسلام کے سلسلہ میں اس عوامی رجحان اور موقف کی نمائندگی کر رہے ہیں کہ ملک کے قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق تبدیل کرنا اور خاص طور پر معاشی نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ملک کی اہم ترین ضرورت ہے۔

دوسری طرف مختلف مکاتب فکر کی طرف سے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کی غرض سے قائم کیے جانے والے مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کی سرگرمیاں بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہیں اور رفتار اگرچہ بعض وجوہ کے باعث سست ہے لیکن تھوڑا بہت کام جاری ہے اور ملک کے مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سنجیدہ حضرات بتدریج اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

۲۴ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ اجلاس مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہ نما حافظ محمد ثاقب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، پاکستان شریعت کونسل، کالعدم سپاہ صحابہؓ، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ او دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور شہر میں تحریک انسداد سود کے سلسلہ میں رابطہ مہم کے لیے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کی سربراہی میں ’’رابطہ کمیٹی‘‘ قائم کی گئی جس میں مولانا حافظ محمد عارف، مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر، مولانا اظہر حسین فاروقی، مولانا مجیب الرحمن، مولانا مشتاق احمد چیمہ، میاں فضل الرحمن چغتائی اور مفتی محمد نعمان شامل ہیں۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ مارچ کے آخر میں اس سلسلہ میں ایک کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے نمائندے شریک ہوں گے۔ راقم الحروف بھی اجلاس میں شریک ہوا اور شرکاء کو انسدادِ سود کی مہم کے حوالہ سے پروگرام سے آگاہ کیا۔

۲۵ فروری کو جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد میں فیصل آباد کے سرکردہ علماء کرام، تاجر حضرات اور بینکنگ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا ایک بھرپور سیمینار منعقد ہوا۔ جامعہ تعلیمات اسلامیہ ہمارے محترم بزرگ مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف رحمہ اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ حکیم صاحبؒ زندگی بھر دینی تحریکات، اصلاح معاشرہ اور وحدت امت کے لیے سرگرم عمل رہے اور اب ان کے فرزندگان بالخصوص ڈاکٹر زاہد اشرف اور جناب حامد اشرف انہی مقاصد کے لیے محنت کر رہے ہیں اور انہوں نے اشرف لیبارٹریز کے سات ساتھ جامعہ تعلیمات اسلامیہ کے تعلیمی نظام اور ماہنامہ ’’المنبر‘‘ کی اشاعت کا تسلسل بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

’’انسدادِ سود سیمینار‘‘ میں سودی نظام کے خلاف جدوجہد کی ضرورت و اہمیت اور اس کے حوالہ سے مبینہ خدشات و تحفظات کے بارے میں کھل کر گفتگو ہوئی اور راقم الحروف نے عرض کیا کہ یہ تحریک غیر سودی نظام کی اسلامی صورتوں کے بارے میں پائے جانے والے فقہی اختلافات میں کسی طرف سے بھی فریق نہیں ہے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ سودی نظام کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ صادر کیا تھا اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار کی جائے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ جب اصولی طور پر یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق سودی نظام اور اس کے قوانین سے عملی طور پر نجات حاصل کرنی ہے تو اس کے بعد اسلامی بینکاری کی عملی صورتوں کے بارے میں دکھائی دینے والی مشکلات اور تحفظات کو اہل علم مل بیٹھ کر باہمی مشاورت کے ساتھ حل کریں گے اور اس سلسلہ میں صحیح حل وہی ہوگا جو باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس سیمینار میں ڈاکٹر زاہد اشرف، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا یاسین ظفر، جناب حامد اشرف، جناب معظم خلیل، جناب محمود احمد کمبوہ، جناب محمد آفاق شمسی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر تحریک انسداد سود کے سلسلہ میں جناب ڈاکٹر زاہد اشرف کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو فیصل آباد میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے راہ نماؤں سے رابطہ قائم کر کے اس مہم کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ کمیٹی میں مولانا یاسین ظفر، مولانا عبد الرزاق، ڈاکٹر محمد طاہر، مفتی سعید احمد اور دیگر حضرات شامل ہیں۔

یکم مارچ کو جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ھمک اسلام آباد میں سودی نظام کے خلاف مہم کے سلسلہ میں عمومی نشست ہوئی جس سے راقم الحروف کے علاوہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری حافظ سید علی محی الدین نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ کے بہت سے شرکاء یہ مہم بہت دیر سے شروع کرنے پر شاکی تھے لیکن خوش تھے کہ دیر سے سہی مگر اس کارِ خیر کا آغاز تو ہوا۔ امید ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور مخلص دوستوں کے تعاون سے اس مہم کو منظم کرنے میں کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔