اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اگست ۲۰۱۴ء
اصل عنوان: 
رکاوٹوں سے نبرد آزمائی!

اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی اس کے نتائج کا منتظر ہوں اور مسلسل دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ملک و قوم کو کسی نقصان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو واضح ہوگا کہ کون کون کہاں کہاں اور کس کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ:

فسوف ترٰی اذا انکشف الغبار
افرس تحت رجلک ام حمار

یعنی عن قریب جب دھند چھٹ جائے گی تو تم خود دیکھ لو گے کہ تمہارے پاؤں کے نیچے گھوڑا ہے یا گدھا ہے۔

سرِ دست اس افراتفری میں خود پر بیتنے والی تھوڑی سی کہانی قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ شوال المکرم کے تیسرے ہفتے کے دوران ہمارے ہاں مدرسہ کے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور میرا معمول ہے کہ سفر کے حوالہ سے دو دراز کے ضروری تقاضے اس سے قبل نمٹا لیا کرتا ہوں۔ اس سال بھی اسی نوعیت کا پروگرام طے تھا مگر راستوں کی رکاوٹوں اور کچھ دنوں تک پٹرول کی عدم دستیابی کے باعث کئی اہم وعدوں کی تکمیل نہ کر سکا۔ ۹ اگست کو ایک نئے مدرسہ کے افتتاح کے لیے مجھے کوٹلہ ضلع گجرات جانا تھا مگر نہ جا سکا۔ ۱۰ اگست کو منچن آباد ضلع بہاول نگر میں تحریک پاکستان میں علماء دیوبند کے کردار کے حوالہ سے محترم ڈاکٹر محمد سعد صدیقی صاحب کے ہمراہ ایک سیمینار میں شریک ہونا تھا جس میں ہم دونوں میں سے کوئی بھی شریک نہ ہو سکا۔ ۱۱ ۔ ۱۲ اگست کے دو دن کندیاں شریف کی خانقاہ سراجیہ میں حاضری کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ خانقاہ شریف میں ایک بڑی اور قدیمی لائبریری ہے جس سے مجھے بھی متعدد بار استفادہ کا موقع ملا ہے۔ اب اسے نئی عمارت میں نئی ترتیب کے ساتھ وسیع کیا جا رہا ہے، سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد نے فرمائش کی کہ میں اس سلسلہ میں ان کی مشاورت میں شریک ہوں۔ میں نے انہیں لکھا کہ خود حاضر ہو کر پرانی روایت تازہ کروں گا اور ایک دو روز قیام بھی کروں گا۔ مگر راستوں کی رکاوٹوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔

البتہ ۱۲ اگست کو شام اسلام آباد میں وزارت اوقاف و مذہبی امور کے تحت منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع مل گیا، وہ بھی اس طرح کہ مجلس صوت الاسلام کراچی کے مولانا مفتی ابوذر محی الدین نے فون کیا کہ یہ سیمینار مجلس صوت الاسلام کے تعاون سے ہو رہا ہے، اس لیے آپ بھی شریک ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر سفر کی کوئی صورت نکل آئی تو پہنچنے کی کوشش کروں گا۔ گوجرانوالہ بس اسٹینڈ پر پہنچا تو ایک ویگن جانے کے لیے تیار تھی، میں بھی سوار ہوگیا، مگر چلنے سے پہلے ڈرائیور نے اعلان کیا کہ راستے میں رکاوٹیں ہو سکتی ہیں، جہاں بھی کوئی رکاوٹ ہوئی میں سب سواریوں کو اتار دوں گا، اور کسی کا کرایہ بھی واپس نہیں کروں گا۔ سواریوں نے بہت چیخ و پکار کی مگر وہ اپنے آرڈر پر قائم رہا۔ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ جہاں تک لے جائے گا وہاں تک تو جاؤں گا۔ احتیاطاٍ میں نے اسلام آباد میں بھی کسی کو اطلاع نہ کی۔ جب ویگن دینہ کراس کرنے لگی تو اسلام آباد میں مولانا جمیل الرحمن فاروقی کو فون کیا کہ جہلم کراس کر لیا ہے اور امید ہے کہ ڈیڑھ دو گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا۔

یہ سیمینار ایک ہوٹل میں ’’علماء و مشائخ استحکام پاکستان سیمینار‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان اور دیگر وزراء جنرل (ر) عبد القادر بلوچ، صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات کے علاوہ مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا محمد خان شیرانی، پروفیسر ساجد میر، حافظ عبد الکریم، مولانا مفتی ابوہریرہ محی الدین اور دوسرے سرکردہ راہ نماؤں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کا موضوع یوم پاکستان کے حوالہ سے استحکام پاکستان اور قومی وحدت و سالمیت کے ساتھ ساتھ آزادی مارچ و انقلاب مارچ سے پیدا شدہ صورت حال بھی تھا۔ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا کہ قومی وحدت و سالمیت، دستور کی بالادستی اور ملکی سیاسی استحکام سب امور پر مقدم ہیں، اور تمام مسائل دستور و قانون کے دائرے میں طے کیے جانے چاہئیں۔ جبکہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ ملکی نظام کی تبدیلی اور انتخابی نظام کی اصلاح سمیت ضروری مسائل کو مزید تاخیر کے بغیر جلد از جلد حل کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اور نفاذِ اسلام کے لیے دستوری تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

۱۳ ۔ ۱۴ اگست کو مجھے چارسدہ جانا تھا جہاں ہمارے فاضل دوستوں پیر محمد اشفاق صاحب، مولانا تحمید جان اور مولانا شبیر احمد نے مختلف پروگراموں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس لیے اسلام آباد کے سیمینار سے فارغ ہو کر رات میں نے ٹیکسلا میں اپنے دیرینہ دوست صلاح الدین فاروقی صاحب کے ہاں گزاری تاکہ اسلام آباد کے گرد قائم ہونے والے سکیورٹی حصار کے باعث کہیں اس سفر سے بھی محروم نہ ہو جاؤں۔

۱۳ اگست کو عصر کے بعد دارالعلوم اسلامیہ چارسدہ میں جمعیۃ علماء اسلام کی تاریخ کے بارے میں علماء کرام کی ایک بھرپور نشست میں کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے کہا کہ یہ تو بہت طویل مضمون ہے، میں صرف اپنی ذاتی یادداشتیں بیان کروں تو تیس بتیس نشستیں درکار ہیں۔ اس لیے ۱۹۷۲ء میں قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وزارت اعلیٰ اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی تشکیل میں جمعیۃ علماء کے راہ نماؤں کے کردار کے حوالہ سے مختصر گفتگو پر اکتفا کیا۔ رات کو عشاء کے بعد ترناب روڈ گلشن آباد میں نئے دینی مدرسہ احسن المدارس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ ترناب چینہ میں حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی قبر پر حاضری اور فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل ہوئی جن کے ساتھ مرکزی جامع مسجد اور مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک میری رفاقت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین۔

۱۴ اگست کو صبح نو بجے مسلم کالج چارسدہ میں منعقدہ کالجز اور سکولوں کے اساتذہ کی ورکشاپ میں ’’عصر حاضر میں نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ظہر کے بعد شب قدر کی مرکزی جامع مسجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع چارسدہ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا اور قادیانی گروہ کی سرگرمیوں اور دجل و فریب سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ عصر کے بعد شیرپاؤ کے مدرسہ ابوہریرہؓ میں دینی مدارس کے دینی و تعلیمی کردار کی ضروریات اور تقاضوں پر گفتگو کی، جبکہ مغرب کے بعد جامعہ فریدیہ عمر زئی میں ’’دیوبندیت کیا ہے؟‘‘ کے عنوان پر گزارشات پیش کیں۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جب مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے دیوبندیت کے علمی و فکری تعارف و کردار پر تفصیلی بات کرنی ہے تو میں نے عرض کیا کہ کچھ نہ کچھ ضرور عرض کروں گا مگر میرے بھائی مجھے یہاں سے واپس بھی جانا ہے۔

بہرحال اس دو روزہ دورے میں مختلف سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتوں اور پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا، خاص طور پر مولانا سید گوہر شاہ ایم این اے، مولانا مفتی گوہر علی شاہ، مولانا پیر حزب اللہ نقشبندی، مولانا ایاز احمد حقانی، پیر محمد اشفاق صاحب، پروفیسر شہزاد الدین اور جناب عزت خان ایڈووکیٹ نے جس محبت و شفقت کا اظہار کیا، اس پر ان سب دوستوں کا شکر گزار ہوں۔