وراثت میں خواتین کے ساتھ نا انصافی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ فروری ۲۰۱۵ء

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے وراثت کے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بیٹی اور بہن کو وراثت میں حصہ نہ دینے کا رجحان عام ہے جو شریعت کے منافی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ۱۸ فروری کو سبھیل نامی خاتون کے بچوں کی وراثت کے بارے میں ماتحت عدالت کے ایک فیصلے کے خلاف جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس اقبال حمید الرحمن پر مشتمل بینچ نے رٹ کی سماعت کی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی روایت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ایک ٹکہ بھی نہیں دیا جاتا۔ انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے۔ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت بچانے کے لیے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دیے ہیں اس سے کوئی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، وقت آگیا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

محترم جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ان ریمارکس میں معاشرہ کی ایک بہت بڑی خرابی اور نا انصافی کی عکاسی کی ہے جو ہمارے ہاں اس قدر سرایت کیے ہوئے ہے کہ اچھے خاصے مذہبی اور دیندار گھرانے بھی اس کا شکار ہیں۔ اور یہ بات بھی ایک معاشرتی حقیقت ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت کے حصے سے محروم رکھنے کے لیے طرح طرح کے حیلے کیے جاتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر زبان سے نہ بھی کہا جائے تو یہ معاشرتی دباؤ ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وراثت میں حصہ لینے والی خواتین کو اپنے بھائیوں کا ہمدرد تصور نہیں کیا جاتا، اور بہت سی بیٹیاں اور بہنیں اس طعنے سے بچنے کے لیے وراثت کے حق سے دستبرداری اختیار کر لیتی ہیں۔ ہمارے ہاں پنجاب میں بعض گھرانوں کے افراد اپنی بہنوں کو وراثت سے دستبرداری کے لیے یہ کہہ کر بھی تیار کر لیتے ہیں کہ ’’اگوں متھے لگنا ایں‘‘ یعنی آئندہ بھی ہمارے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہو؟ اب وہ کونسی بہن ہوگی جو زندگی بھر بھائیوں سے لا تعلق رہ سکے؟

کچھ عرصہ قبل مجھ سے ایک خاتون نے فون پر سوال کیا کہ وہ ایک کالج میں لیکچرار ہے، اسے والد کی وراثت میں ایک بڑے شہر کے بازار میں کچھ دکانیں مل سکتی ہیں۔ مگر بھائیوں کا کہنا ہے کہ وراثت کا حصہ لینے کی صورت میں بھائیوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق آئندہ برقرار نہیں رہے گا۔ اس کا سوال یہ تھا کہ میں وراثت کا حصہ لوں یا بھائیوں کے ساتھ تعلق برقرار رکھوں؟ میں نے اس سے کہا کہ بیٹا، میں آپ کو موجودہ معاشرتی ماحول میں بھائیوں سے دستبرداری کا مشورہ تو نہیں دے سکتا اس لیے اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرنا۔ ایک دفعہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے پاس ایک زمین دار صاحب بیٹھے تھے، والد محترمؒ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے والد کی وفات کے بعد بہنوں کو زمینوں میں حصہ دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ دست بردار ہو گئی ہیں۔ والد صاحبؒ نے پوچھا کہ کیا وہ زمین ان کے قبضے میں تھی جس سے وہ دستبردار ہوئی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ان کے قبضہ میں تو نہیں تھی۔ والد صاحبؒ نے فرمایا کہ وہ پھر دستبردار کس چیز سے ہوئی ہیں؟ پھر فرمایا کہ بھائی دستبرداری اسے نہیں کہتے، ان کے حصہ کی زمین ان کے نام کرا کے کاغذات ان کی تحویل میں دے دو، پھر ان سے کہو کہ وہ اپنے حصہ کی زمین تمہیں ہبہ کر کے واپس کر دیں۔ حضرت والد محترمؒ کے اس ارشاد پر میں کافی دنوں تک سوچتا رہا کہ فقہی طور پر شاید بعض مفتیان کرام اتنی سختی کی حمایت نہ کریں، لیکن معاشرتی صورت حال اور وراثت سے دستبرداری کے لیے عورتوں پر ڈالا جانے والا دباؤ جس طرح متنوع شکلوں میں موجود ہے اس کے پیش نظر یہی جواب زیادہ صحیح بنتا ہے۔

جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں اس قدر واضح ہدایات دی ہیں کہ ان سے آگاہی رکھنے والا کوئی مسلمان اس قسم کی حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ خیرات اور خیر کے کاموں کے لیے اپنی جائیداد وقف کر دینے کے حوالہ سے بھی پابندی لگائی ہے کہ کوئی شخص اپنی جائیداد کے تیسرے حصے سے زیادہ وقف کی وصیت نہیں کر سکتا۔ اور اس موقع پر فرمایا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ تم اپنی جائیداد صدقہ اور وقف کر جاؤ اور تمہارے ورثاء لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔ گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت کو ورثاء کا حق قرار دے کر اصل مالک کو بھی ان کے حصے میں مداخلت سے روک دیا ہے۔ یہ روایت امام بخاریؒ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کی ہے۔ وراثت کی تقسیم اور وصیت ناموں میں عام طور پر جو زیادتیاں اور نا انصافیاں روا رکھی جاتی ہیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اندازہ تھا، اس لیے انہوں نے اس کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ مسند احمدؒ میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جوڑا یعنی میاں بیوی ساٹھ سال تک مسلسل اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، لیکن آخری وقت میں وراثت کی تقسیم میں نا انصافی کر کے جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ وراثت میں نا انصافی یہ ہے کہ ورثاء کے جو حصے قرآن کریم میں مقرر کیے گئے ہیں انہیں نظر انداز کر کے اپنی طرف سے حصے مقرر کیے جائیں۔

وراثت شریعت کا واحد مسئلہ ہے جس کا قرآن کریم نے نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ اس کی تمام ضروری تفصیلات خود بیان کر دی ہیں۔ جبکہ باقی شرعی احکام حتیٰ کہ نماز جیسے اہم ترین فریضہ کی ساری تفصیلات قرآن کریم نے بیان نہیں کیں۔ اس سے وراثت کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سنن ابن ماجہؒ میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے کسی وارث کو وراثت میں اس کے حصے سے محروم کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کے جنت کے حصے سے کٹوتی کر کے وارث کو اس کا حق دلوائیں گے۔ میں اسے یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت فرما رہے ہیں کہ جو حصے میں نے مقرر کیے ہیں ان سے کوئی شخص حقدار کو محروم نہیں کر سکتا۔ اور اگر کوئی شخص دنیا میں وارث کو محروم کرے گا تو میں اسے محروم نہیں رہنے دوں گا اور آخرت میں اس کے حصے سے کاٹ کر محروم کو دے دوں گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا مذکورہ فیصلہ اس صورت حال میں انتہائی حوصلہ افزا ہے، البتہ اس کے لیے ایک زبردست معاشرتی تحریک کی ضرورت ہے کہ وراثت اور دیگر معاملات میں باہمی حقوق کی ادائیگی کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے اور اس کے لیے مسجد و مدرسہ کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی متحرک کیا جائے۔

درجہ بندی: