دینی مدارس کے جداگانہ نظام و نصاب کا مقصد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ ستمبر ۲۰۰۳ء

رجب المرجب کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں دینی مدارس کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ختم بخاری شریف، تقسیم اسناد، دستار بندی اور سالانہ اجتماعات کے عنوان سے یہ تقریبات شعبان المعظم کے اختتام تک جاری رہیں گی جن میں مختلف دینی و تعلیمی موضوعات پر گفتگو کے علاوہ مدارس کے منتظمین اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹیں پیش کریں گے اور آئندہ عزائم کا تذکرہ کریں گے۔ میں اسی حوالہ سے دو روز سے حیدر آباد سندھ میں ہوں اور نصف درجن سے زائد دینی مدارس کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں۔ اس دوران بعض دوستوں نے مجھ سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے کی گئی دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں حالیہ ترجیحات اور اضافوں کے بارے میں دریافت کیا ہے جس پر میں نے ان سے عرض کیا ہے کہ ابھی ان ترجیحات اور اضافوں کا کوئی باقاعدہ پیپر ورک میری نظر سے نہیں گزرا، وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے ایک ملاقات میں بھجوانے کا وعدہ کیا تھا اور میں اس کے انتظار میں ہوں، اس کے مطالعہ کے بعد ہی کوئی رائے دے سکوں گا۔

البتہ دینی مدارس کے جداگانہ نظام و نصاب کے اہتمام سے ہمارے اکابر اور بزرگوں کا جو مقصد تھا اور اس حوالہ سے ان کے ذہنوں میں جو اہداف تھے ان میں سے بعض امور کا تذکرہ اس موقع پر ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ہم اس سلسلہ میں جو قدم بھی اٹھائیں اس میں وہ اصل مقاصد و اہداف ہمارے پیش نظر رہیں جو دینی مدارس کے اس جداگانہ نظام و نصاب کے بارے میں ہمارے اکابر اور بزرگوں کے ذہن میں تھے۔ اس نظام و نصاب کی تدوین و تشکیل میں ہمارے اکابر کا اصل مقصد اس معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کے اداروں اور دینی تعلیم و تربیت کے فروغ کی ضروریات کے لیے رجال کار کی فراہمی تھا۔ ان کے پیش نظر یہ بات تھی کہ معاشرہ کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعلیم یافتہ حضرات ہر جگہ عام مسلمانوں کو ملتے رہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کی یہ خواہش بھی تھی کہ ذہین افراد اس شعبہ کو زیادہ سے زیادہ میسر رہیں تاکہ مسجد و مدرسہ اور دینی تعلیم و تربیت کا نظام کسی خلا اور تعطل کے بغیر چلتا رہے۔ چنانچہ اس مقصد سے ہمارے ہاں اس بات کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے حضرات عصری تعلیم کے شعبوں کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اس میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ چونکہ دوسری طرف ملازمت کا تحفظ، مراعات اور سہولتیں زیادہ ہیں اس لیے فطری طور پر دینی مدارس سے تعلیم پانے والے نوجوان دوسرے شعبوں میں منتقل ہو جائیں گے اور ہمارے ہاں رجال کار کا خلا باقی رہ جائے گا جسے ختم کرنے کے لیے دینی مدارس کا جداگانہ نظام قائم کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے بزرگوں کا ذہن کس انداز سے سوچتا تھا اس کا اندازہ حضرت مولانا مناظر احسنؒ گیلانی کی اس روایت سے کر لیجئے جو مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی نے ’’حیات مولانا گیلانی‘‘ میں مولانا مرحوم سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ٹونک کے زمانہ قیام میں ٹونک کے نواب کے طبیب خاص مولانا حکیم برکات احمدؒ ان کے استاد تھے۔ مولانا گیلانیؒ دینی تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں امتیازی ذہانت سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ ان کا خیال ہوا کہ استاد محترم سے طب کی تعلیم حاصل کریں تاکہ ذریعہ معاش طب کو بنائیں اور دینی خدمات جتنی ہو سکے رضاکارانہ طور پر سرانجام دیتے رہیں، مگر استاد محترم نے انہیں طب پڑھانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے حکیم صاحب مرحوم کے بھائی صاحب سے رجوع کیا وہ بھی بڑے طبیب تھے لیکن حکیم برکات احمدؒ نے انہیں بھی سختی کے ساتھ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کو طب پڑھانے سے منع کر دیا۔ مولانا گیلانیؒ کے بقول استاد مرحوم نے طب پڑھانے سے خود انکار اور دوسروں کو منع اس لیے کیا کہ ذی استعداد اور ذہین مولوی ہے، استاد بنے گا تو ملک و ملت کو عظیم فائدہ ہوگا، طبیب بن کر کیا کرے گا؟ علاج و معالجہ کے راستے سے اچھے پیسے کما لے گا مگر اس کام کے لیے بہت سارے اطباء موجود ہیں، اس میں جوہر گراں مایہ کا برباد ہونا بڑا علمی خسارہ ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اکابر اپنے ہاں کے ذہین افراد کو دوسرے شعبوں میں منتقل ہونے سے عملاً روکتے تھے اور یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے ذہین افراد اسی شعبہ میں رہیں اور ایثار و قربانی سے کام لیتے ہوئے مراعات اور سہولتوں کے فقدان کے باوجود دین کی خدمت کو ترجیح دیں۔

اسی کتاب سے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی ایک اور روایت بھی ملاحظہ کر لیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ جب شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ تحریک آزادی کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے گرد برطانوی حکومت کا ریاستی حصار تنگ ہوتا جا رہا تھا، حضرت شیخ الہندؒ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس تھے اس لیے اس صورتحال سے دارالعلوم دیوبند کے منتظمین کا پریشان ہونا فطری بات تھی اور ممکنہ خطرات و خدشات سے دارالعلوم کو بچانے کی سعی ان کی ذمہ داری بھی تھی۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ ان دنوں حضرت شیخ الہندؒ کے قریبی حلقے میں تھے، دارالعلوم کے نائب مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کو اپنا نمائندہ بنا کر حضرت شیخ الہندؒ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ اس معاملہ میں وہ کہاں تک آگے جانا چاہتے ہیں اور ممکنہ خطرات سے دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی نظام و ماحول کو بچانے کی کیا صورت ہوگی؟ مولانا گیلانیؒ کے بقول حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ ان کے نزدیک دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کی تلافی کی کوشش کرنا تھا، اسی لیے تعلیم و تعلم اور درس و تدریس جن کا مقصد اور نصب العین ہے میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں لیکن خود اپنے لیے اسی راہ کا انتخاب کیا ہے جس کے لیے یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے قائم کیا تھا، فرائض الٰہیہ جس حد تک بن پڑا ادا کرتا رہا اب آخری کام رہ گیا ہے جسے آخر حد تک کر گزروں گا۔

چنانچہ اس کے ڈیڑھ دو برس بعد حضرت شیخ الہندؒ تحریک ریشمی رومال کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے اور انقلابی تحریک کا راز فاش ہوجانے کی بنا پر گرفتار کر کے مالٹا جزیرے میں پہنچا دیے گئے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ دینی مدارس کے جداگانہ نصاب و نظام سے ہمارے اکابر کا اصل ہدف صرف تعلیم نہیں تھا اور نہ ہی وہ ’’تعلیم برائے تعلیم‘‘ کے فلسفہ کے قائل تھے بلکہ وہ ملی مقاصد کے حصول کے لیے اس نظام و نصاب کو ذریعہ بنائے ہوئے تھے۔ اس لیے اگرچہ دینی مدارس کے تعلیمی ماحول کو قائم رکھنا اور ہر دور میں اس نظام و نصاب کو خطرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا اس نظام کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے اور دینی مدارس کے ارباب اختیار و انتظام کی ذمہ داری ہے لیکن دینی مدارس، ان کے نظام و نصاب اور ماحول کو ملی مقاصد و ضروریات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اور دینی مدارس کے قیام کا اصل مقصد اور ہدف یہی ہے کہ امت مسلمہ کی فکری و علمی قیادت کے خلا کو پر کیا جائے اور عالمی کفر و استعمار کے ساتھ عقیدہ و ثقافت کی جنگ میں ملت اسلامیہ کو علمی و عملی رہنمائی ان مدارس سے ملتی رہے۔

اس کے بعد ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لیجئے جس کا تذکرہ شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ پست و بالا، کس و ناکس ہر قسم کے طالب علموں کو دورہ میں شرکت کی اجازت دے دی جاتی ہے، میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ صرف دو چار ذہین طالب علموں کو ہی پڑھاؤں گا تاکہ کیفاً کچھ ذی استعداد علماء تیار ہو سکیں۔ حضرت نانوتویؒ کا نظریہ بھی یہی تھا کہ تعلیم کی اشاعت کماً اور کیفاً دونوں طرح ہونی چاہیے۔ کماً کا طریقہ تو وہی ہے جو ہمارے مدارس میں رائج ہے کہ علماء بڑی تعداد میں تیار ہوں اور ملک و بیرون ملک پھیلیں، لیکن کیفاً اچھے علماء پیدا کرنے کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں کہ ذہین و ذکی اور محنتی طلبہ کو لے کر الگ بیٹھا جائے۔ خود حضرت نانوتویؒ بھی مدرسہ میں بیٹھ کر نہیں پڑھایا کرتے تھے بلکہ چند اچھے طلبہ منتخب کر کے ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ فرمایا کرتے تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ، مولانا احمد حسن امروہیؒ اور مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ اسی طرح پیدا ہوئے (بحوالہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند رجب ۱۳۷۲ھ)۔

یعنی ہمارے بزرگوں کی یہ کوشش بھی ہوتی تھی کہ دینی مدارس کے فضلاء سے چند ذہین افراد کو الگ کر کے ان کی بطور خاص امتیازی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے تاکہ ذہانت کی اعلیٰ سطح کو اسی سطح پر اسلام کی دعوت و تبلیغ، اسلام کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ اور اسلام کے خلاف عالمی کفر و استعمار کی فکری اور ثقافتی یلغار کے مقابلہ کے لیے استعمال میں لایا جا سکے، اور عام مسلمانوں کی طرح جدید تعلیم یافتہ حضرات اور اعلیٰ ذہانت کے حامل افراد کی دینی رہنمائی کے لیے بھی اسی سطح پر رجال کار کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ ہمارے ہاں دینی مدارس نے شاید اسی خلا کو پر کرنے کے لیے دو تین شعبوں میں تخصص کے درجات کا اہتمام کیا ہے جو ہمارے روایتی دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ان شعبوں کی بعض ضروریات کو تو پورا کرتے ہیں لیکن اس اہم ضرورت اور تقاضے کی تکمیل نہیں کرتے جس کا ابھی ہم نے تذکرہ کیا ہے۔ اس کے لیے آج کے عالمی ماحول کو سمجھنا ہوگا، اسلام کے خلاف عالمی کفر کی فکری و ثقافتی جنگ کے اہداف، طریق کار اور ذرائع و وسائل کا ادراک حاصل کرنا ہوگا اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس کے فضلاء میں سے ذہین اور محنتی افراد کا انتخاب کر کے انہیں اس کام کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

الغرض آج جبکہ دینی مدارس ایک نئے بحران کی زد میں ہیں، ان کے خلاف عالمی اور قومی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے نظام و نصاب میں ترجیحات و اصلاحات کی طرف پیشرفت کر رہے ہیں تو اس مرحلہ پر ہم یہ گزارش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ملی مقاصد اور معاشرہ کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے اصل اہداف کو سامنے رکھا جائے اور ان کی روشنی میں عملی پیشرفت کی جائے۔ ہم خود دینی مدارس کے نصاب و نظام میں بہت سی اصلاحات، ترامیم اور اضافوں کے حامی بلکہ داعی ہیں لیکن ایسی اصلاحات و ترامیم جو دینی مدارس کو ان کے اصل اہداف و مقاصد کے اور زیادہ قریب کریں اور ان کے فضلاء کی صلاحیتوں، استعداد اور قوت کار میں اضافہ کریں۔ ہمیں اپنی ملی و دینی ضروریات اور مغرب کے اغراض و مقاصد میں فرق کرنا ہوگا اور اور اس حوالہ سے ہر وقت چوکنا رہنا ہوگا۔ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں ترمیم و اصلاح کی تجویز و تحریک دو دھاری تلوار ہے جو دونوں طرف چل سکتی ہے۔ اس ہتھیار کو مغرب بھی استعمال کرنا چاہتا ہے اور ہم بھی اس کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں مگر دونوں کے اہداف مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ یہ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت کی ذہانت، تدبر اور معاملہ فہمی کا امتحان ہے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری تعلیمی قیادت کو اس سلسلہ میں دین و ملت کی بہتری کے لیے صحیح فیصلے کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔