تحریک انسداد سود کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

26 اکتوبر کو تحریک انسداد سود پاکستان کی دعوت پر گڑھی شاہو لاہور میں تنظیم اسلامی پاکستان کے دفتر میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا نماز ظہر کے بعد دو بجے مشترکہ مشاورتی اجلاس تھا۔ صبح نماز فجر کے وقت اطلاع ملی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہ نما حافظ محمد ثاقب کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ 2 بجے شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ میں ادا کی جانی تھی۔ حافظ صاحب مرحوم ہمارے بہت پرانے اور بزرگ ساتھی تھے۔ میں 1962ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخل ہوا تو اسی سال تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے حافظ محمد ثاقبؒ کے ساتھ رفاقت کا آغاز ہوگیا، اور یہ تعلق بحمد اللہ تعالیٰ آخر دم تک قائم رہا۔ ہم مختلف دینی تحریکات میں شریک کار رہے، تحریکات کے دوران پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کے مراحل میں ان کا گھر میری محفوظ پناہ گاہ ہوا کرتا تھا جہاں تحفظ و اعتماد کے ساتھ ساتھ گھر جیسا ماحول بھی مل جاتا تھا۔ اس خاندان کا تعلق لدھیانہ سے تھا، یہ حضرت مولانا محمد انوری قدس اللہ سرہ العزیز کے ساتھ تعلیم و تربیت اور روحانی وابستگی رکھنے والا خاندان ہے جس کے اثرات پورے خاندان میں دکھائی دیتے ہیں۔ گوجرانوالہ میں بسیرا کرنے کے بعد حضرت والد محترمؒ اور عم مکرم حضرت صوفی صاحبؒ کے ساتھ بھی ان کا عقیدت و محبت کا ویسا ہی تعلق ہوا جو بدستور قائم ہے۔ اور حافظ صاحب مرحوم کے بیٹے، پوتے اور خاندان کے دیگر افراد بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔

حافظ صاحبؒ نے پوری زندگی ختم نبوت کے محاذ پر محنت کرتے ہوئے گزاری اور وہ شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینئر ترین راہ نما تھے۔ ان کی وفات و جنازہ کا علم ہوا تو میں شش و پنج میں پڑ گیا، لاہور کے اجلاس کا داعی میں خود تھا اس لیے غیر حاضری مشکل تھی۔ اور حافظ محمد ثاقب رحمہ اللہ تعالیٰ کے جنازے میں شریک نہ ہونے کا حوصلہ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ کئی بار ارادے تبدیل کیے پھر یہی طے کیا کہ اسباق سے فارغ ہو کر ان کے گھر جاتا ہوں اور ان کے بچوں سے تعزیت کے ساتھ اس بارے میں مشورہ کرتا ہوں۔ چنانچہ جمعیۃ اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کے صدر حاجی عثمان عمر ہاشمی کے ہمراہ حافظ محمد ثاقبؒ کے گھر حاضر ہوا، ان کے بچوں سے ملاقات کی، اور تعزیت و تسلی کے کلمات عرض کرنے کے بعد مسئلہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے لاہور کے اجلاس کی اہمیت اور وہاں میری حاضری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بخوشی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور حافظ صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

ظہر کی نماز میں نے آسٹریلیا مسجد لاہور میں ادا کی اور اس کے بعد ایک دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر تنظیم اسلامی پاکستان کے دفتر پہنچا تو دفتر میں موجود حضرات اور اجلاس کے لیے آئے ہوئے دوست سب کے سب دفتر سے باہر کھڑے کلمہ طیبہ اور استغفار پڑھنے میں مصروف تھے۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی شدید زلزلہ آیا ہے اس لیے ہم سب باہر نکل آئے ہیں۔ ہم شاید موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے اس کو محسوس نہیں کر سکے تھے اس لیے ہم بھی یہ سن کر استغفار میں مصروف ہوگئے۔

اس زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے جانی و مالی نقصانات پر اظہار رنج و غم کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری اور باطنی اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ ہر سطح پر جاری ہے۔ زلزلہ کے ظاہری اور سائنسی اسباب سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر ہمارا ایمان ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زلزلہ اور اس قسم کے اجتماعی مصائب کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور قدرت الٰہی کی طرف انسانی معاشرہ کو تنبیہ کرنا بتایا ہے۔ اور بلاشبہ یہ سانحہ ہمیں اپنی اجتماعی روش پر نظر ثانی، حالات کی اصلاح، اور اسلامی احکام و روایات کی طرف واپسی کے لیے دعوت و تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مذکورہ بالا اجلاس تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر محترم حافظ عاکف سعید کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے شرکاء میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا محب النبی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبد المالک خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا سید عبد الوحید، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، حاجی عبد اللطیف چیمہ، میاں محمد اویس، حافظ نصیر احمد احرار، مفتی محمد سفیان قصوری، مولانا محمد رمضان، مولانا محمد عاصم مخدوم، حافظ محمد نعمان حامد، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا محمد الطاف گوندل، حافظ عاطف وحید، مرزا محمد ایوب بیگ، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، اور میاں مقصود احمد بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے:

  • نومبر کا مہینہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے طور پر منایا جائے گا۔ جمعۃ المبارک کے خطبات میں (۱) دستور کی اسلامی دفعات کی عملداری (۲) تحفظ ناموس رسالتؐ و عقیدہ ختم نبوت (۳) سودی نظام کے خاتمہ (۴) فحاشی کے سد باب اور (۵) ملکی سا لمیت و دفاع کے دینی تقاضوں کے موضوعات پر بطور خاص روشنی ڈالی جائے گی اور ان عنوانات پر سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
  • علماء کرام اور خطباء سے اپیل کی گئی کہ 30 اکتوبر کو ملک بھر میں جمعۃ المبارک کے خطبات میں سود کی نحوست اور سودی نظام کی تباہ کاریوں سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سودی نظام کے جلد از جلد خاتمہ کے لیے دستور کے طے شدہ فیصلے پر عمل درآمد کا اہتمام کرے اور اس حوالہ سے ٹال مٹول کی پالیسی اور تاخیری حربوں کا رویہ ترک کیا جائے۔
  • نومبر کے آخری عشرہ کے دوران پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور سودی نظام کے خاتمہ پر یقین رکھنے والی دینی و سیاسی جماعتوں کی اس موضوع پر سربراہی کانفرنس طلب کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں مختلف جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کے لیے (۱) حافظ عاکف سعید (۲) میاں مقصود احمد (۳) قاری محمد یعقوب شیخ (۴) قاری زوار بہادر اور (۵) راقم الحروف (زاہد الراشدی) پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی اور اس کی مسؤلیت راقم الحروف کو سونپی گئی۔ یہ کمیٹی دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے رابطہ قائم کر کے سربراہی اجلاس کی تاریخ و مقام اور دیگر تفصیلات طے کرے گی۔
  • تمام دینی و سیاسی جماعتوں، علمی و دینی مراکز اور حلقوں کو توجہ دلائی جائے کہ ملک کو جس تیزی کے ساتھ لا دینی ریاست کی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی دباؤ اور سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اس کا احساس و ادراک کیا جائے اور لا دینیت کی اس یلغار کی روک تھام کے لیے باہمی ربط و اشتراک اور ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔
  • اجلاس میں زلزلہ کے عظیم سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور شہداء کے لیے دعائے مغفرت، متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ زلزلہ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے ساتھ ساتھ اپنے انفرادی و اجتماعی گناہوں پر توبہ و استغفار کا اہتمام بھی ہر سطح پر کیا جائے۔