نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اپریل ۲۰۱۶ء

گزشتہ دنوں لاہور میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ راہ نماؤں نے مشترکہ اجلاس منعقد کر کے ’’تحریک نفاذ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر ملک بھر کے دینی حلقوں میں دو حوالوں سے امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔ ایک تو یہ کہ جو تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آج سے تین عشرے قبل قومی وحدت اور ملی اجتماعیت کا عنوان بن گئی تھی اور اپنے اہداف کی تکمیل سے قبل ہی بکھر گئی تھی اس کے تسلسل اور دوبارہ احیاء کی کوئی صورت دکھائی دینے لگی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری دینی قیادتیں جو عام طور پر کسی مسئلہ پر اپنے خلاف دباؤ کے حوالہ سے یا کسی دینی و ملی معاملات میں بگاڑ کے زیادہ سنگین ہو جانے کے خطرہ پر تو متحد ہو جاتی ہیں اور وقتی طور پر کچھ اہداف بھی حاصل کر لیتی ہیں، وہ ایک عرصہ کے بعد مثبت ملی تقاضے یعنی نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے لیے متحد ہونے جا رہی ہیں۔

تحریک نظام مصطفیؐ 1977ء کے دوران ملک کی 9 سیاسی و دینی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ سے منظم ہونے والی اس عوامی تحریک کا عنوان ہے جس میں پوری قوم سڑکوں پر تھی اور ہزاروں افراد کی قربانیوں نے اسے ایک جاندار تحریک کا رخ دے دیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اسی تحریک کے دباؤ پر چند اسلامی اصلاحات کی تھیں جن کو اب کچھ عرصہ سے ’’ریورس گیئر‘‘ لگا ہوا ہے اور معاملات پھر سے 1977ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کے پوائنٹ کی طرف واپس جاتے نظر آرہے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے ’’علماء کے 22 متفقہ دستوری نکات‘‘ کی صورت میں نفاذ اسلام کے حوالہ سے اپنا وژن واضح کیا تھا اور اس اعتراض کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا کہ مختلف فقہی مکاتب فکر کی موجودگی میں کس فرقہ کا اسلام نافذ کیا جائے گا؟ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اپنے اس وژن پر آج بھی متفق ہیں اور ان کے درمیان اس حوالہ سے دراڑ ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی وژن کے مطابق دستور کا نظریاتی رخ طے ہوا تھا اور اب تک ہونے والے دستوری، قانونی اور تحریکی اقدامات اسی وژن کے گرد گھومتے رہے ہیں کہ ملک میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، حکومت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے اور حکومت و پارلیمنٹ قرآن و سنت کی ہدایات کی پابند ہیں۔

1977ء میں پیپلز پارٹی کے خلاف اس وقت کی 9 سیاسی و دینی جماعتیں ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے عنوان سے عام انتخابات میں متحد ہوگئی تھیں جس کی قیادت مولانا مفتی محمودؒ ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ ، ایئرمارشل اصغر خان، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، میاں طفیل محمدؒ ، پروفیسر غفور احمدؒ ، چودھری ظہور الٰہیؒ ، سردار شیر باز خان مزاری، پیر صاحب آف پگارا شریفؒ ، سردار محمد عبد القیوم خانؒ ، خان محمد اشرف خانؒ ، اور بیگم نسیم ولی خان شامل تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے انتخابی منشور میں سب سے بڑا نعرہ ملک میں نظام مصطفٰیؐ کا نفاذ تھا جس نے پوری قوم کو یک جان کر دیا تھا۔ لیکن انتخابات میں دھاندلی کے تحت قومی اتحاد کو ہرا دیا گیا، اس دھاندلی کو بعد میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا، اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلی جو دراصل انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تھی اور اس کا بنیادی مطالبہ ازسرِنو الیکشن کا تھا۔ لیکن انتخابی منشور میں نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ کے نمایاں سلوگن کی وجہ سے اس تحریک کے دوران ملک کی گلی گلی اور کوچہ کوچہ نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ کے مطالبہ کے پرجوش نعروں سے گونجنے لگی۔ اور جلوسوں، مظاہروں، گرفتاریوں اور شہادتوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوگیا جو بالآخر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء پرمنتج ہوا۔ اس تحریک میں راقم الحروف کو بھی پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے سرگرم کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور قید و بند کے مراحل سے بھی گزرنا ہوا۔

آج جب کہ ملک کی مختلف دینی جماعتوں کے راہ نما تحریک نظام مصطفٰی کے نام سے نئی صف بندی کر رہے ہیں تو میرے ذہن میں تیس سال قبل کے وہ تمام مناظر گھومنے لگ گئے ہیں اور جی چاہ رہا ہے کہ انہیں ایک بار پھر ہلکے پھلکے انداز میں قوم کے سامنے لایا جائے۔ خدا کرے کہ اس خواہش کی تکمیل کی کوئی مناسب صورت نکل آئے۔ البتہ سردست ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ملک میں اسلامی نظام کی عملداری خواہ نفاذ اسلام کے عنوان سے ہو، نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ ہو، یا نظام مصطفٰیؐ کے ٹائٹل سے ہو، یہ صرف دینی جماعتوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ضرورت ہے اور اسے دینی جماعتوں کے کسی متفقہ مطالبہ سے زیادہ ایک قومی تقاضے اور ملی آواز کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

نفاذ اسلام کی بات ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی زبان پر رہی ہے، لیاقت علی خان مرحوم اس کے علمبردار رہے ہیں، سردار عبد الرب نشتر یہ بات کہتے رہے ہیں، 1973ء کے دستور کی تشکیل میں دینی جماعتوں کے ساتھ مولانا کوثر نیازیؒ ، عبد الحفیظ پیرزادہؒ ، چودھری ظہور الٰہیؒ ، حاجی مولا بخش سومروؒ ، اور خان عبد الولی خانؒ اس مہم میں شریک کار رہے ہیں۔ جبکہ نظام مصطفٰیؐ کی تحریک کو نوابزادہ نصر اللہ خانؒ ، ایئرمارشل اصغر خانؒ ، سردار شیر باز خان مزاریؒ ، سردار محمد عبد القیوم خانؒ ، اور پیر آف پگارا شریفؒ کی قیادت میسر رہی ہے۔ حتیٰ کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی آواز لگانے میں سپریم کورٹ کے مسیحی چیف جسٹس اے آر کارنیلیس اور مغربی پاکستان اسمبلی کے مسیحی رکن جوشوا فضل دین ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم چودھری محمد علی مرحوم کی سیاسی جماعت کا نام ہی ’’نظام اسلام پارٹی‘‘ تھا جو مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی میں مسلسل نمائندگی حاصل کرتی رہی ہے۔ جسٹس اے آر کارنیلیس مسیحی تھے، طویل عرصہ سپریم کورٹ کے جج رہے، چیف جسٹس کے منصب پر بھی فائز ہوئے ، نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی شرعی قوانین کی وکالت کرتے تھے اور ان کے نفاذ کو قومی ضرورت قرار دیتے تھے۔ بلکہ ان کی طرف یہ جملہ بھی منسوب ہے کہ ’’میں مذہبی طور پر مسیحی ہوں مگر دستوری طور پر مسلمان کہلا سکتا ہوں اس لیے کہ دستور پاکستان پر یقین رکھتا ہوں‘‘۔

ہمارے فاضل دوست اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے رفیق کار چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے اسلامی قوانین کے حوالہ سے جسٹس کارنیلیس کے افکار و خیالات کو کتابی شکل میں مرتب کیا ہے جو نظام مصطفٰیؐ کی تحریک کے لیے ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس طرح ون یونٹ کے دور میں مغربی پاکستان اسمبلی کے مسیحی رکن جوشوا فضل دین بھی اسلامی قوانین کے نفاذ کی صدا لگاتے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کی طرف سے تحریک نظام مصطفٰیؐ کے ازسرِنو آغاز کے اس عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہم ان کی خدمت میں پہلی گزارش یہ کر رہے ہیں کہ اسے دینی جماعتوں کے مطالبہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ملی ضرورت اور قومی تحریک کی صورت میں منظم کیا جائے اور دینی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قوم کے تمام طبقات کو اس میں شریک کرنے کی محنت کی جائے۔ اس لیے کہ یہ ایک اہم ترین قومی تقاضہ ہے جس کے لیے کوئی قومی تحریک ہی سب سے مضبوط اور مؤثر فورم ثابت ہو سکتی ہے۔