قانون اور سیرتِ حضرت علیؓ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ مئی ۲۰۱۶ء

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ نے ۳۰ اپریل ۲۰۱۶ء کو سیشن کورٹ کے قائد اعظم بار ہال میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس کا عنوان ’’قانون اور سیرت حضرت علیؓ‘‘ تھا۔ صدارت ڈسٹرکٹ بار کے صدر جناب وقار حسین بٹ نے کی جبکہ بار کے سیکرٹری سید عمران حیدر ایڈووکیٹ نے نقابت کے فرائض سر انجام دیے۔ مقررین میں محترم سیشن جج صاحب اور صدر بار کے علاوہ علامہ علی ناصر الحسینی اور راقم الحروف بھی شامل تھے۔ اس موقع پر مجھے جو معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ان کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ڈسٹرکٹ بار کا شکر گزار ہوں کہ آج کی اس محفل میں، جو سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حوالہ سے منعقد ہو رہی ہے، شرکت اور آپ حضرات سے ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ بار کا یہ پروگرام معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مختلف اسلامی شخصیات کے حوالہ سے سیمینارز کا انعقاد کر کے ان کے علوم و فیوض سے راہ نمائی حاصل کی جائے اور اس عنوان سے علماء کرام اور وکلاء کے درمیان رابطہ و مفاہمت کو فروغ دیا جائے جس کی ایک کڑی آج کی یہ محفل بھی ہے۔

میں تو ایک عرصہ سے اس امر کا داعی اور پرچارک ہوں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام اور ایک نظریاتی و فلاحی معاشرہ کی تشکیل کے لیے علماء کرام اور وکلاء کا ایک پیج پر آنا ضروری ہے۔ سابق وزیر قانون اقبال احمد خان مرحوم میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، وہ جب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین تھے اور میں پاکستان قومی اتحاد کا صوبائی سیکرٹری جنرل تھا، میں نے ان سے باضابطہ طور پر گزارش کی تھی کہ علماء کرام اور وکلاء کے درمیان مکالمہ و گفتگو اور مفاہمت و رابطہ کا کوئی مستقل نظام بنایا جانا چاہیے کیونکہ ہمارا ایک جگہ ہونا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے، انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا لیکن عملی طور پر یہ بات آگے نہ بڑھ سکی۔

ہمارے درمیان اصل میں ’’طبقاتی انا‘‘ حائل ہے اور ہم دونوں ہی اس کا شکار ہیں۔ ہم علماء نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وکیل حضرات گمراہ لوگوں کا طبقہ ہے اور آپ وکلاء حضرات کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ مولوی لوگ حالات سے بے خبر اور جاہل ہوتے ہیں۔ اس طبقاتی نفسیات نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رکھا ہے۔ ہم دونوں کو اس ’’خول‘‘ سے باہر نکلنا ہوگا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم جب بھی اکٹھے ہو کر باہمی مشاورت و مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھے قومی زندگی کی گاڑی صحیح ٹریک پر چڑھ جائے گی۔

سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حوالہ سے اس سیمینار کا انعقاد ایک اچھی علامت ہے اور اس میں شرکت و گفتگو میرے لیے یقیناً سعادت و برکت کی بات ہے۔ آپ حضرات نے اچھا کیا کہ گفتگو کا ایک رخ طے کر دیا کہ قانون کے بارے میں حضرت علیؓ کی سیرت و کردار پر بات کرنی ہے۔ ورنہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سیرت مبارکہ کے بیسیوں نمایاں پہلو ہیں جن میں سے کسی ایک پہلو کا انتخاب ہم گفتگو کرنے والوں کو امتحان میں ڈال دیتا کہ کس پہلو پر بات کی جائے اور کسے چھوڑا جائے۔

قانون کے حوالہ سے حضرت علیؓ کی سیرت مبارکہ پر گفتگو کو میں تین پہلوؤں میں تقسیم کروں گا۔ ان تینوں حوالوں سے اسلامی تاریخ میں حضرت علیؓ کو نمایاں مقام و مرتبہ حاصل ہے۔

  1. قانون سازی
  2. بطور جج قانون کا نفاذ
  3. قانون کی عملداری اور اس کا احترام

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قانون سازی کی بنیاد وحی پر تھی کہ وحی نازل ہوتی تھی جو قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ جبکہ وحی نازل نہ ہونے کی صورت میں آنحضرتؐ خود فیصلہ اور حکم صادر فرما دیتے تھے جو وحی الٰہی کی طرف سے تائید یا اس کے خاموش رہنے کی صورت میں وحی کا درجہ حاصل کر لیتا تھا۔ لیکن جناب نبی اکرمؐ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا، اس لیے پیش آمدہ مسائل میں ارباب اختیار کو اب خود فیصلے کرنا تھے۔ اس کے لیے خلفاء راشدین کا معمول یہ تھا کہ وہ وحی کی راہ نمائی موجود نہ ہونے کی صورت میں باہمی مشاورت کے ساتھ فیصلے کرتے تھے اور اس مشاورتی نظام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

مثال کے طور پر حضرت عمرؓ کے دور خلافت کی بات کروں گا کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے سامنے جب کوئی مقدمہ یا اجتماعی مسئلہ آتا تو وہ پہلے قرآن و سنت میں اس کا حکم تلاش کرتے تھے اور اگر نہ ملتا تو اصحاب علم کے ساتھ مشورہ کا اہتمام کرتے تھے۔ کسی مقدمہ کا فیصلہ کرنا ہوتا یا کسی اجتماعی مسئلہ میں کوئی قانون اور ضابطہ طے کرنا ہوتا، دونوں معاملات میں حضرت عمرؓ کا طرز عمل یکساں تھا۔محدثینؒ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی مشاورتی مجلس میں حضرت علیؓ کا مقام و مرتبہ یہ تھا کہ متعلقہ مسئلہ پر جب سب لوگ رائے دے چکتے تو حضرت عمرؓ آخر میں حضرت علیؓ سے پوچھتے ما تقول یا ابا الحسن؟ ابوالحسنؓ آپ کیا فرماتے ہیں؟ اور جب حضرت علیؓ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تو عام طور پر حضرت عمرؓ یہ کہہ کر اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے کہ میری رائے بھی یہی ہے۔

ایک بار کوئی مشکل مسئلہ درپیش تھا جو حل ہونے کی طرف نہیں جا رہا تھا جبکہ حضرت علیؓ مجلس میں موجود نہیں تھے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ قضیۃ ولا ابا حسن لھا قضیہ درپیش ہے مگر اس کے لیے ابوالحسنؓ موجود نہیں ہیں۔ یہ جملہ ایسا مشہور ہوا کہ آج ضرب المثل اور محاورہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

حضرت امام طحاویؒ نے حضرت عمرؓ کے ایسے بہت سے فیصلوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے اس طرح مشاور ت کی صورت میں کیے۔ ان میں سے ایک کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایک مسئلہ پر صحابہ کرامؓ میں عمومی طور پر اختلاف ہوگیا۔ مسئلہ میاں بیوی کے ملاپ میں غسل کے واجب ہونے کی ایک صورت کے بارے میں تھا۔ اختلاف اس قدر بڑھا کہ مہاجرینؓ ایک طرف اور انصارؓ دوسری طرف تھے، جبکہ عام مجالس میں بھی اس کا تذکرہ ہونے لگا تھا۔ حضرت عمرؓ نے دونوں فریقوں کو بلا کر باہمی مباحثہ و مکالمہ کا اہتمام کیا مگر وہاں بھی اتفاق رائے کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو انہوں نے حضرت علیؓ سے حسب معمول پوچھا ما تقول یا ابا الحسن؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مسئلہ میاں بیوی کے معاملات کا ہے، ازواج مطہراتؓ موجود ہیں، ان سے پوچھیں وہ زیادہ وضاحت کر سکیں گی۔ اس پر ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں نمائندہ بھیجا گیا اور انہوں نے مسئلہ کی جو صورت بیان فرمائی حضرت عمرؓ نے مجلس میں اسی کے مطابق فیصلہ صادر کر دیا۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اب جس نے اس کے خلاف فتویٰ دیا اس سے میں خود نمٹوں گا۔ یہ واقعہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ اس دور میں فیصلوں کا طریق کار ہمارے سامنے واضح ہو اور یہ بات بھی سامنے آجائے کہ اس مشاورتی نظام میں حضرت علیؓ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔

ایک قاضی اور جج کے طور پر حضرت علیؓ کا مقام و امتیاز اس قدر واضح ہے کہ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وأقضاھم علی کا خطاب دیا کہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاضی علیؓ ہے۔ حضرت علیؓ نے آپؐ کے دور میں اور حضرات خلفاء راشدینؓ کے زمانے میں مسلسل قاضی اور جج کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ حضرت علیؓ کے اوصاف و کمالات بیسیوں ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ شہرت دو باتوں کو حاصل ہوئی۔ ایک ان کے عدل و انصاف کو اور دوسرا ان کی شجاعت و بہادری کو۔ وہ سب سے اچھے قاضی تھے اور بہادری میں سب سے نمایاں تھے۔ بطور قاضی حضرت علیؓ کے فیصلوں اور فراست و بصیرت کا اکثر تذکرہ کیا جاتا ہے اس لیے اس کی مزید تفصیل کی بجائے تیسرے پہلو یعنی قانون کے احترام اور اس کی عملداری کے حوالہ سے حضرت علیؓ کے ایک تاریخی ارشاد کا تذکرہ کرتا ہوں۔

آج کے ماحول میں اس بات کی اہمیت میرے نزدیک اس لیے سب سے زیادہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی وقوعہ ہو جائے تو عام طور پر اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ مقدمہ میں کس کس کو پھنسایا جا سکتا ہے۔ اور معمولی کیس کو بھی ۳۰۷ اور ۳۰۲ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں شہریوں کے ساتھ ساتھ وکلاء کی راہ نمائی بھی شامل ہوتی ہے۔ خود میرا ذاتی واقعہ ہے کہ ایک دفعہ میرے گھر میں چوری ہوئی اور چند تولے سونے کے زیور کسی نے اڑا لیے۔ میں نے ایک وکیل صاحب سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے مشورہ کیا تو انہوں نے رپورٹ کے لیے ایک ایسی داستان وضع کی جس نے خود مجھے پریشان کر دیا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ میرے بھائی کم از کم پچاس فیصد تو سچ ہونا چاہیے اس میں تو ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے بغیر رپورٹ درج کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میں وہ رپورٹ انہی کے پاس چھوڑ کر چلا آیا اور کیس کی پیروی ترک کر دی۔

اس ماحول میں حضرت علیؓ کا یہ ارشاد ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب ملعون ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ میں انہیں زخمی کر دیا تو وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ جبکہ ابن ملجم پکڑا جا چکا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس حال میں بھی اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو تلقین کی کہ اسے کچھ کہنا نہیں اور نہ ہی کوئی اذیت دینی ہے اس لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو یہ فیصلہ میں خود کروں گا کہ اسے معاف کرنا ہے یا سزا دینی ہے۔ لیکن اگر میں ان زخموں میں شہید ہوگیا تو پھر تمہیں اس سے قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا۔ اس طرح حضرت علیؓ نے قانون کے احترام کی بھی ایسی مثال پیش کر دی کہ جس کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔

آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دوسرے بزرگوں کا تذکرہ کرتے رہنا چاہیے۔ اور صرف عقیدت و برکت اور ثواب و اجر کے لیے نہیں کہ وہ تو مل ہی جاتا ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کا تذکرہ اس لیے بھی کرنا چاہیے کہ ان سے راہ نمائی حاصل کریں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کریں۔

درجہ بندی: