مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ مارچ ۲۰۰۹ء

میں دو روز قبل ہانگ کانگ پہنچا ہوں اور چند روز یہاں رہنے کا ارادہ ہے۔ کولون کی مرکزی جامع مسجد میں سیرت نبویؐ کے سلسلہ میں سالانہ اجتماع ہے جس میں گفتگو کے لیے مجھے دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر دینی اجتماعات بھی ہوں گے اور چند روز سفر کے بعد وطن واپس آجاؤں گا۔ اس سفر کی تفصیلات اور تاثرات آئندہ کالم میں قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں گا۔

ہمیں خاندانی طور پر گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا کہ میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے بزرگ اور مخدوم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی نور اللہ مرقدہ کے فرزند تھے اور حضرت کی وفات کے بعد گزشتہ گیارہ برس سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم اور جامع مسجد گنبد والی کے خطیب کی حیثیت سے ان کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میری چھوٹی بہن ان کی اہلیہ ہیں جو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام للبنات جہلم میں گزشتہ ربع صدی سے تدریس کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور اس وقت سے دورۂ حدیث کے اسباق پڑھا رہی ہیں جب ہمارے ملک میں بنات کے لیے دورۂ حدیث کا کہیں خال خال ہی اہتمام ہوتا تھا۔

مسلکی خدمات اور جدوجہد کے حوالہ سے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کا ذوق جن علماء کرام کے ساتھ سب سے زیادہ ہم آہنگ تھا ان میں مولانا قاضی مظہر حسینؒ، مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ، اور مولانا نذیر اللہ خانؒ گجراتی سرفہرست ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سید امین شاہ مخدوم پوریؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کو بھی شامل کر لیں تو مسلکی حوالہ سے ایک گروپ کا تعارف کم و بیش مکمل ہو جاتا ہے جن کی جدوجہد میں مسلکی ترجیحات کو ہمیشہ اولین درجہ حاصل رہا ہے۔ برادرم مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ کے جنازہ کے لیے جمع ہونے والے احباب سے خطاب کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ اس قافلہ کا خمیر دینی حمیت، مسلکی صلابت، عزم و استقامت، اور جہد مسلسل کے چار عناصر سے تیار ہوا تھا اور یہی ان حضرات کا سب سے بڑا تعارف ہے جس کی عملی نمائندگی گزشتہ گیارہ برس سے مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ مسلسل کر رہے تھے۔

قاری صاحب مرحوم میرے سمدھی بھی تھے کہ میرا بڑا بیٹا حافظ محمد عمار خان ناصر ان کا داماد ہے لیکن میرا ان سے تعلق ان رشتوں کے قیام سے بہت پہلے سے تھا۔ طالب علمی کے دور میں ہی میرا ان سے دوستانہ تعلق استوار ہوگیا تھا اور ۱۹۷۰ء میں جب حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ جمعیۃ علمائے اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں شمار ہوتے تھے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی طرح ان دونوں بزرگوں کے شب و روز بھی جمعیۃ علمائے اسلام کی سرگرمیوں کے لیے وقف ہوا کرتے تھے، ہمارا یہ تعلق جماعتی رفاقت میں تبدیل ہوگیا۔ بعد میں جب ان بزرگوں نے مسلکی ترجیحات ہی کے حوالہ سے جمعیۃ علمائے اسلام سے الگ ہو کر تحریک خدام اہل سنت کی بنیاد رکھی تو ہمارے جماعتی راستے جدا ہوگئے لیکن ذاتی، خاندانی، اور مسلکی روابط کا سلسلہ بدستور قائم رہا۔

قاری خبیب احمد عمرؒ نے دورۂ حدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کیا اور وہ میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن کے ہم سبق رہے ہیں، جو اس وقت مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے اسباق پڑھا رہے ہیں۔ قاری صاحب مرحوم نے اپنے سب بچوں کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا۔ ان کے بڑے بیٹے قاری ابوبکر صدیق جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں درس نظامی کے اسباق پڑھا رہے ہیں اور انتظامی معاملات میں بھی اپنے والد مرحوم کے ساتھ شریک رہے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے نماز جنازہ میں شریک اکابر علمائے کرام اور جامعہ حنفیہ کی مجلس شوریٰ نے انہیں قاری صاحبؒ کے جانشین کے طور پر منتخب کیا ہے اور تحریک خدام اہل سنت کے امیر مولانا قاضی ظہور الحسین نے ان کی دستاربندی کر کے اس کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ قاری صاحب مرحوم کی بیٹیاں بھی مختلف مدارس میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں، ان میں سے ایک بیٹی برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں رہائش پذیر ہے جس نے درس نظامی کی تکمیل کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ سالہا سال تک تدریس کی اور اس دوران ایم اے انگلش بھی کیا۔ اب وہ نوٹنگھم برطانیہ میں بنات کے ایک معیاری مدرسہ جامعۃ الہدیٰ میں حدیث اور فقہ کی تدریس میں مصروف ہے۔

قاری صاحب مرحوم کی وفات برطانیہ میں ہوئی اور وہ برطانیہ کے تبلیغی دورے کے موقع پر اپنی اسی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے۔ انہیں چند روز قبل کھانسی اور بخار کے ساتھ ساتھ نمونیہ کی تکلیف ہوگئی جو بڑھتی چلی گئی۔ اسی حالت میں جبکہ وہ سخت تکلیف میں تھے انہوں نے گزشتہ جمعہ بریڈ فورڈ میں پڑھایا۔ بریڈ فورڈ جاتے ہوئے بیٹی نے منع کیا کہ اس حالت میں نہ جائیں مگر انہوں نے کہا کہ میں نے دوستوں سے وعدہ کر رکھا ہے اس لیے ضرور جاؤں گا۔ جمعہ تو پڑھا لیا لیکن طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ ڈاکٹر صاحبان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حالت دیکھ کر فورًا ہسپتال پہنچانے کے لیے کہا جس پر انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ان کا بلڈ پریشر اس قدر کم ہوچکا تھا کہ دل، جگر، اور گردے متاثر ہونے لگے۔ ایمرجنسی روم میں انہیں مصنوعی تنفس کی مشین لگا دی گئی اور ڈاکٹر صاحبان حتی المقدور ان کی جان بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئے۔

میں اتوار کے روز نماز فجر کی تیاری کر رہا تھا کہ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا رضاء الحق کا فون آیا کہ قاری خبیب احمد صاحب شدید بیمار ہیں ان کے لیے خصوصی دعاؤں کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کچھ تفصیل بتائی تو پریشانی بے چینی میں بدل گئی اور دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سارا دن اسی کیفیت میں گزر گیا، مولانا رضاء الحق صاحب اور قاری صاحب مرحوم کے بچوں کے ساتھ مسلسل رابط رہا۔ شام کو لاہور میں مجلس احرار کے مرکزی دفتر میں شہدائے ختم نبوت کانفرنس میں شریک تھا کہ مولانا رضاء الحق صاحب کا فون آیا کہ ڈاکٹر صاحبان کا کہنا ہے کہ قاری صاحب کی سانس صرف مشین کی وجہ سے چل رہی ہے اور ہمارے خیال میں اب انہیں مزید اس حالت میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے اگر آپ حضرات اجازت دیں تو ہم مشین اتار دینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر ڈاکٹر صاحبان کا مشورہ یہی ہے تو تقدیر کے اس فیصلے کو قبول کیے بغیر اور کیا چارۂ کار ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے مشین اتارنے کی اجازت دے دیں۔ یہ کہہ کر میں گوجرانوالہ واپسی کے لیے لاری اڈہ کی طرف روانہ ہوگیا مگر ابھی بادامی باغ نہیں پہنچ پایا تھا کہ مولانا رضاء الحق صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ مشین اتار دی گئی ہے اور مولانا قاری خبیب احمد عمر ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

تدفین کے بارے میں مشورہ ہوا کہ چونکہ ایک بیٹی کے علاوہ ان کی سب اولاد یہاں پاکستان میں ہے اس لیے انہیں وطن واپس لایا جائے۔ ویسے بھی وہ سفر سے چند روز قبل اپنے والد محترم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی قبر پر گئے تو اس موقع پر انہوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ بھی اسی جگہ دفن ہونا چاہتے ہیں، اس لیے ضروری مراحل سے فارغ ہو کر ان کی نماز جنازہ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم میں مولانا رضاء الحق کی اقتداء میں ادا کی گئی جس میں علمائے کرام اور احباب کی ایک بڑی تعداد نے شرت کی، اس کے بعد ان کی میت پاکستان لائی گئی جس کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، اور مولانا رضاء الحق بھی آئے۔

منگل کے روز ظہر کے بعد جنازے کا اعلان تھا مگر صبح سے ہی لوگوں کی آمد شروع ہوگئی، نماز ظہر سے قبل جامعہ حنفیہ میں علمائے کرام کے تعزیتی بیانات ہوئے، بہت سے علمائے کرام نے جو مختلف شہروں سے آئے تھے اپنے جذبات غم کا اظہار کیا اور قاری صاحب مرحوم کی دینی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس سے قبل رات کو ہی مشاورت میں قاری صاحب مرحوم کے بڑے بیٹے قاری محمد ابوبکر صدیق کو ان کا جانشین بنانے کا فیصلہ ہو چکا تھا جس کا اعلان اس اجتماع میں مولانا عبد اللطیف جہلمی کے چھوٹے بھائی اور ہمارے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینی نے خاندانی بزرگ کی حیثیت سے کیا۔ اس کے بعد امیر تحریک خدام اہل سنت مولانا قاضی ظہور الحسین کے ہاتھوں قاری محمد ابوبکر صدیق کی دستاربندی ہوئی جس میں حضرت مولانا مفتی شیر محمد علوی، حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر، مولانا پروفیسر حافظ خالد محمود، مولانا حکیم مختار احمد الحسینی، اور راقم الحروف بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔ جہلم کے اسٹیڈیم میں دن چار بجے کے لگ بھگ نماز جنازہ مولانا قاری ظہور الحسین کی اقتداء میں ادا کی گئی جس کے بعد قاری صاحبؒ کی میت کو ان کے آبائی گاؤں لے جایا گیا جہاں حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے پہلو میں ان کی تدفین ہوئی اور اس موقع پر موجود ہجوم نے خدام اہل سنت کے علامتی نعرہ ’’خلافت راشدہ، حق چار یار‘‘ کی گونج میں انہیں رخصت کیا۔