مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جولائی ۲۰۰۹ء

شیخ الحدیث مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ کی وفات دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے ایک اور گہرے صدمے کا باعث بنی ہے۔ وہ ایک عرصہ سے بیمار تھے اور جس روز والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا انتقال ہوا غالباً اسی روز مولانا سعید الرحمٰن کا دل کا آپریشن ہوا جس کے بعد وہ ایک یا دو روز کے لیے ہوش میں آئے اور پھر مسلسل نگہداشت کے وارڈ میں رہنے کے بعد ہسپتال میں ہی ۶ جولائی ۲۰۰۹ء کو ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں اس روز روالپنڈی میں تھا اور گلستان کالونی میں مولانا قاری فضل ربی کے مدرسہ جامعہ اسلامیہ کی سالانہ تقریب ختم بخاری شریف میں شریک تھا کہ فون پر حضرت قاری صاحبؒ کی وفات کی اطلاع ملی۔ جلسہ سے فارغ ہو کر جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں حضرت قاری صاحبؒ کی رہائش گاہ پر پہنچا، مسجد کے برامدے میں ان کی میت رکھی ہوئی تھی، آخری دیدار کیا اور ان کے فرزند مولانا قاری عتیق الرحمٰن اور مولانا قاری محمد انس سے تعزیت کی۔

جنازے کا پروگرام ان کے آبائی گاؤں بہبودی (چھچھ) میں مغرب کی نماز کے بعد طے پایا۔ جہلم سے میرے بھانجے مولانا قاری ابوبکر صدیق جہلمی کا فون آیا کہ میں بھی جنازے کے لیے جا رہا ہوں، انتظار کریں میں آپ کو ساتھ لیتا جاؤں گا۔ چنانچہ ان کے ہمراہ مغرب تک حضرو پہنچا اور رات نو بجے کے لگ بھگ بہبودی میں قاری صاحبؒ کے فرزند و جانشین مولانا قاری عتیق الرحمٰن نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد انہیں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں اسی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا جس میں ان کے والد محترم برصغیر کے نامور محدث حضرت مولانا عبدا لرحمٰن کامل پوریؒ مدفون ہیں۔

چھچھ ایک مردم خیز خطہ ہے جس کی مٹی سے بہت سے نامور اہل علم نے جنم لیا ہے۔ ہزارہ کی طرح چھچھ میں بھی دینی علم کا ذوق عام رہا ہے اور شاید ہی اس علاقے کا کوئی گاؤں ایسا ہو جس میں دینی علم سے بہرہ ور کوئی خاندان موجود نہ ہو۔ اس خطہ سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام میں بعض بزرگوں نے جنوبی ایشیا کی سطح پر شہرت پائی اور برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ان کے ہزاروں شاگرد دینی و علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہی میں ایک بزرگ علمی شخصیت حضرت مولانا عبد الرحمٰن کامل پوریؒ کی ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ مجاز بھی تھے اور دینی علوم بالخصوص حدیث نبویؐ کی تدریس میں ملک گیر شہرت و مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کے تین فرزندوں حضرت مولانا عبید الرحمٰن، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، اور حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ نے علمی و دینی حلقوں میں عقیدت و تعارف پایا ہے۔

حضرت مولانا عبید الرحمٰن برطانیہ چلے گئے تھے اور شیفیلڈ میں ان کا قیام رہا، انہوں نے جمعیۃ علمائے برطانیہ میں دینی و علمی سرگرمیوں کی ہمیشہ سرپرستی کی، قادیانیت کے تعاقب کی جدوجہد میں بھی ان کا اور ان کے خاندان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ۱۹۸۵ء میں جب لندن میں پہلی عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تو ان کا گھر کانفرنس کی تیاریوں کا ایک اہم مرکز تھا جبکہ کانفرنس کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کرنے والوں میں میرے ساتھ ان کے فرزند مولانا محمد ازہر بھی سرگرم شریک کار تھے۔

حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن محدث عصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے داماد تھے اور حضرت بنوری کی وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے سرگرم راہنماؤں اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد رفقاء کار میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ دینی جماعتوں اور کارکنوں کی سرپرستی فرماتے تھے اور میرے متحرک جماعتی دور میں مجھے بھی ان کی شفقتوں، دعاؤں اور نوازشات کا وافر حصہ ملا۔ شریعت بل کی تحریک میں انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا اور کراچی میں سواد اعظم اہل سنت کو منظم و متحرک کرنے میں بھی انہوں نے کلیدی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ملک بھر کی دینی تحریکات اور مسلکی سرگرمیوں پر ان کی نظر رہتی تھی اور وہ دلچسپی اور توجہ کے ساتھ ان کی سرپرستی و معاونت کرتے تھے۔

مولانا قاری سعید الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے علمی، مسلکی اور تحریکی ذوق سے بہرہ ور فرمایا تھا اور راولپنڈی صدر میں کشمیر روڈ پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کو ان حوالوں سے مرکزیت کا مقام حاصل تھا۔ ایک دور میں شیخ الحدیثؒ حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک راولپنڈی تشریف لانے پر ان کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی فرودگاہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا بلکہ حضرت بنوریؒ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو ان کی پہلی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ میں ہی ادا کی گئی جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوئی۔ جبکہ مولانا مفتی محمودؒ کی تو مستقل قیام گاہ ہی وہی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف جمعیۃ علمائے اسلام بلکہ متحدہ سیاسی و دینی محاذوں کے مرکز اور میزبان کا اعزاز بھی کئی بار جامعہ اسلامیہ کے حصے میں آیا۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں مولانا مفتی محمودؒ کے قیام کی وجہ سے تحریکی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز جامعہ اسلامیہ اور میزبان مولانا قاری سعید الرحمٰن تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے کم و بیش تمام لیڈروں کی وہاں آمد و رفت رہتی تھی اور ان کے بہت سے مشترکہ اجلاس بھی وہیں ہوتے۔ جس شب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے مارشل لاء نافذ کیا اس رات مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کو جامعہ اسلامیہ سے ہی گرفتار کیا گیا۔ شام تک میں بھی وہیں تھا اور مشاورت کے مختلف مراحل میں شریک تھا۔ مغرب کے بعد میں ویسٹرج کے علاقے میں رات گزارنے کے لیے چلا گیا جہاں ان دنوں ہمارے بڑے بہنوئی حاجی سلطان محمود خان کا قیام ہوتا تھا۔ دن بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے عشاء کے بعد میں جلدی سو گیا مگر صبح نیند سے بیدار ہوا تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔

مولانا قاری سعید الرحمٰن مولانا مفتی محمودؒ کے انتہائی معتمد اور قریبی ساتھی تھے اور مفتی صاحبؒ جن حضرات پر جماعتی معاملات میں سب سے زیادہ اعتماد کرتے تھے ان میں قاری صاحبؒ بھی تھے اور قاری صاحب نے انتہائی وفاداری کے ساتھ یہ کردار نبھایا۔ ان کے ساتھ میری دوستی اور رفاقت کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا اور پھر یہ تعلق بحمد اللہ آخر دم تک قائم رہا۔ اہم معاملات ہم باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے تھے، مجھے کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو میں مشاورت کے لیے اپنے راولپنڈی کے سفر کا انتظار کرتا اور انہیں کوئی معاملہ پیش آتا تو وہ میری حاضری کا انتظار کرتے تھے۔ تحریکی، مسلکی، اور جماعتی معاملات میں میرا یہ انتہائی گہرا تعلق حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد دو بزرگوں سے مسلسل رہا ہے۔ ایک مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ اور دوسرے مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی۔ ان دو بزرگوں کے چلے جانے کے بعد میں فی الواقع تنہا ہوگیا ہوں اور ملک بھر میں کوئی ہمدم و ہمراز ایسا نظر نہیں آتا جس کے ساتھ بے تکلفی اور اعتماد کے ساتھ ہر قسم کی بات کر سکوں۔

پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل بھی باہمی مشاورت سے ہوئی اور اس کے متعدد اجلاس جامعہ اسلامیہ میں بھی ہوئے۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے وہ نظریاتی راہنما اور کارکن جو دھڑے بندی کی فضا میں کام کرنے میں گھٹن محسوس کرتے ہیں وہ جمعیۃ سے وابستہ رہتے ہوئے علمی و فکری سرگرمیوں کے لیے باہمی مشاورت کا کوئی فورم قائم کرلیں لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ یہ فورم کوئی متوازن تنظیم دکھائی نہ دے اور تھوڑا بہت علمی و فکری کام بھی ہوتا رہے۔

مولانا قاری سعید الرحمٰن کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے علمائے کرام میں یہ مرکزیت حاصل تھی کہ ان کے دم قدم سے ضرورت کے مواقع پر ان دو جڑواں شہروں کے علمائے کرام کا مشترکہ اجتماع ہوجاتا تھا، کوئی مشترکہ موقف سامنے آجاتا تھا، اور تحریکی سرگرمیوں کی فضا بھی قائم ہو جاتی تھی۔ ان کی وفات کے دن ان کے ایک قریبی ساتھی نے مجھ سے کہا کہ شمالی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس دوران اگر قاری سعید الرحمٰن بیمار نہ ہوتے او رمسلسل ہسپتال میں نہ ہوتے تو کچھ نہ کچھ ضرور ہو چکا ہوتا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علمائے کرام کا کوئی مشترکہ اجتماع ہوتا، پریس کانفرنس ہوتی، اور کہیں نہ کہیں احتجاجی مظاہرہ کی صورت بھی بن جاتی۔ وفاقی دارالحکومت کے ان جڑواں شہروں نے مولانا قاری سعید الرحمٰن کی سربراہی میں جمعیۃ اہل سنت قائم کر رکھی تھی جس میں تمام مسلکی حلقوں کو انہوں نے سمو رکھا ہے جو ضرورت پڑنے پر کسی دینی یا ملی مسئلہ پر سرگرم ہو جاتی ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے قاری صاحبؒ کی یہ خواہش تھی اور مجھ سے متعدد بار انہوں نے تذکرہ بھی کیا کہ ملکی سطح پر کوئی ایسا فورم ضرور ہونا چاہیے جس میں کم از کم دیوبندی مسلک کے تمام حلقوں کی نمائندگی ہو اور وہ دینی و ملی معاملات میں مشترکہ موقف کے تعین اور اظہار کا ذریعہ ہو۔ میرے خیال میں یہ کام ہماری معروف دینی قیادت کو ہی کرنا چاہیے، کوئی اور کرے گا تو بلاوجہ تحفظات کھڑے ہوں گے اور کوئی مثبت پیش رفت ہونے کی بجائے باہمی شکر رنجیوں کا کوئی اور میدان قائم ہو جائے گا۔

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ مولانا قاری سعید الرحمٰن کا گہری عقیدت و محبت کا تعلق تھا اور حضرت والد محترم نے سلسلہ نقشبندیہ میں جن حضرات کو خلافت عطا کی ہے ان میں قاری صاحبؒ کا نام سرفہرست ہے۔ لیکن اب دونوں بزرگ یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ کے حضورؐ پیش ہو چکے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ حضرت قاری صاحبؒ کے فرزند و جانشین مولانا قاری عتیق الرحمٰن خاندان کے دیگر بزرگوں کی روایات کو قائم رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحبؒ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور جملہ پسماندگان کو صبر و حوصلہ کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔