یہ جاہلی ثقافت کیا تھی؟ وہی جسے آج جدید تمدن اور ترقی یافتہ کلچر کی صورت میں ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی بنیاد مادر پدر آزادی پر ہے اور جس کی سب سے بڑی نشانی فحاشی، عریانی اور بے حیائی ہے۔ جس میں زنا ہے، ناچ گانا ہے، سود ہے، جوا ہے، معاشی استحصال ہے، رنگ و نسل کا امتیاز ہے، لسانیت اور علاقائیت کے فتنے ہیں، اور انسان کے سفلی جذبات کو ابھار کر اسے اخلاقِ انسانی سے بے گانہ کرنا ہے۔