پاکستان نے اپنا اصولی موقف تو قائم رکھا ہوا ہے۔ جو قائد اعظم کا تھا، وہی ہے ہمارا۔ عوام کا بھی وہی ہے، دینی حلقوں کا بھی وہی ہے، ریاست کا بھی وہی ہے۔ لیکن اس موقف کے جو تقاضے ہیں وہ ہمارے حکمران پورے نہیں کر رہے، اس میں سفارتی جنگ بھی ہے، میڈیا کی جنگ بھی ہے، عالمِ اسلام کو اکٹھا کرنے کی جنگ بھی ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ وہاں ایٹمی حملہ کر دیں، لیکن جو تقاضے بتدریج آپ کے بنتے ہیں، آپ ان کو پورا کریں۔ اور یہ بات درست ہے کہ دنیا پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔