مقالات و مضامین

تشدد ناکام ہو گا / بلوچستان میں ایرانی فوج؟

موجودہ حکومت نے سیاسی انتقام اور مخالفین پر تشدد کی جو نئی روایات قائم کی ہیں ان کی مثال سیاسی دنیا میں نہیں ملتی۔ اکثریت کو اقتدار سے محروم کر دینا، بنیادی حقوق سے عوام کی محرومی، سیاسی راہنماؤں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ، اپوزیشن کے جلسوں میں مسلح غنڈہ گردی، سیاسی مخالفین کو راشن کی فراہمی میں رکاوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۱۹۷۳ء

اسلام کے اقتصادی نظام میں صنعتی مزدوروں کی حیثیت کیا ہے؟

صنعتی مزدور کو پیش آمدہ مسائل اور معاشی تحفظ کے فقدان کو دور کرنے کے لیے مختلف حضرات اور پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام پیش کر رہی ہیں، اور صنعتی مزدور کے لیے مختلف مراعات اور سہولتوں کا اعلان کر رہی ہیں۔ دین پسند عوام اور علماء حق کی نمائندہ تنظیم ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے مرکزی قائدین بھی اس سلسلہ میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے سوچ بچار کر رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۱۹۶۹ء

حالات و واقعات

کسی اخبار میں ضلع ہزارہ کی کسی ماتحت جمعیۃ علماء اسلام کا یہ مطالبہ نظر سے گزرا ہے کہ ضلع کے وسیع جنگلات کی آمدنی میں سے خوانین کو لاکھوں روپے کے حساب سے جو سالانہ حصہ بلا استحقاق ملتا ہے، وہ ان مفت خوروں کو دینے کی بجائے سرکاری خزانہ میں جمع رکھا جائے۔ یہ مطالبہ جائز اور معقول ہے مگر کسی حد تک ادھورا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ان خوانین کو لاکھوں روپیہ سالانہ ملتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

شہیدِ حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ بلوچستان کے نامور سپوت اور تحریکِ ولی اللہی کے ایک جرأت مند رہنما تھے جنہوں نے ۲۹ سالہ مختصر زندگی میں قومی و دینی جدوجہد کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کیا اور قومی منظر پر عزیمت و استقامت کا عنوان بن کر ابھرے۔ سید شمس الدین شہیدؒ کی ولادت بلوچستان کے مقام ژوب میں ۲۱ جمادی الاول ۱۳۶۴ھ کو ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

انسانی حقوق اور قادیانی مسئلہ

روزنامہ جنگ لندن ۹ ستمبر ۱۹۸۷ء کی ایک خبر کے مطابق جنیوا میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں حال ہی میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں گزشتہ دسمبر میں کمیشن کے ارکان کے دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کا ذکر کیا گیا اور خاص طور پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۸۷ء

مولانا سید حامد میاں، شریعت بل اور فقہ حنفی

جامعہ مدنیہ لاہور کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامد میاں مدظلہ العالی ہمارے ملک کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت ایم آر ڈی میں شامل ایک جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ کراچی کے ہفت روزہ تکبیر کی ۲۵ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے بعض دیگر مسائل کے علاوہ ’’شریعت بل‘‘ کے بارے میں بھی اظہار خیال فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۱۹۸۷ء

پہنچی وہیں پہ خاک ۔۔۔

ملک غلام مصطفیٰ کھر کے بارے میں ہماری جچی تلی رائے ابتدا ہی سے یہ رہی ہے کہ ان صاحب نے جس انداز سے بھٹو صاحب کے سائے میں حکمرانی کی ہے، اور ایک صوبہ کی حکمرانی سے جس طرح ہاتھ رنگے، اس کے پیش نظر اپوزیشن کا ساتھ دینا ان کے بس کی بات نہیں، اور اگر وہ اپوزیشن میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو خود کو بھی اور قوم کو بھی فریب دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۱۹۷۷ء

اسلامیانِ پاکستان کو ربوہ کا چیلنج

پشاور سے آنے والی بارہ ڈاؤن چناب ایکسپریس پر آج ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی فرقہ کے تقریباً پانچ ہزار افراد نے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس بوگی پر کیا گیا جس میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ۱۶۰ طالب علم سوار تھے۔ حملہ آور خنجروں، ہاکیوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے۔ اس حملہ میں ۳۰ طالب علم شدید زخمی ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۷۴ء

مذاکرات کے سائے میں

بھٹو صاحب ریفرنڈم کے طمطراقانہ اعلان، قومی اسمبلی سے آئین میں ترمیم کی منظوری، اور قومی اسمبلی کے دوبارہ انتخابات کو یکسر مسترد کر دینے کے بعد ایک روز اچانک تین وفاقی وزراء کے ساتھ سہالہ پہونچے اور ’’قومی اتحاد‘‘ کے سربراہ مولانا مفتی محمود سے ازسرنو مذاکرات کا ڈول ڈالا ۔ اس گفتگو کے نتیجے میں سردار عبد القیوم رہا ہوئے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۱۹۷۷ء

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

بھٹو گورنمنٹ نے برسراقتدار آنے کے بعد سے اب تک جتنے پینترے بدلے ہیں اور سوشلزم، جمہوریت اور اسلام کے نام سے جس طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی مسلسل کوشش کی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اس فریب کار گروہ کا آخری حربہ ’’اسلام‘‘ ہے۔ بھٹو صاحب نے لاہور میں ۱۸ اپریل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی اصلاحات کا اعلان کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۱۹۷۷ء

مولانا چنیوٹی کا دورۂ عرب ممالک اور قادیانیت کے متعلق پارلیمنٹ کا فیصلہ

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلہ میں جو نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی پر مخفی نہیں ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کے بعد یہ اعزاز مولانا چنیوٹی ہی کے حصہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیرون ممالک میں قادیانیت کا تعاقب کرنے اور تحریکِ ختمِ نبوت منظم کرنے کے مواقع میسر فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء

غازی جمال عبد الناصرؒ، عرب اتحاد کا عظیم علمبردار

صدر جمال عبد الناصر ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو شمالی مصر کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنی مور میں ایک متوسط الحال مصری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آٹھ برس کی عمر میں انہیں تحصیل علم کے لیے قاہرہ بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے نہضۃ المصر ثانوی سکول میں داخلہ کیا۔ ثانوی تعلیم کی تکمیل کے بعد ۱۹۳۷ء میں جب ان کی عمر ۱۹ برس تھی، وہ ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

بلوچستان: قائد جمعیۃ کا بیان اور قومی پریس

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ ۳۰ مارچ کو اسلام آباد سے بہاولنگر جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے مرکزی دفتر لاہور میں رکے۔ آپ کے ساتھ سنیٹر حاجی محمد زمان خاں اچکزئی (کوئٹہ) اور سنیٹر حاجی محمد شعیب شاہ (بنوں) بھی تھے۔ اس موقع پر آپ نے ’’بلوچستان بچاؤ کمیٹی‘‘ کے نام سے لاہور میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۱۹۷۴ء

حالات و واقعات

مشرقی پاکستان کے حالیہ واقعات اور سیاسی بحران کے بارہ میں بھارت اور اس کے مغربی ہمنوا جو گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اس کی تردید نسبتاً زیادہ منظم اور گمراہ کن ہے۔ چنانچہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے، جو تا دمِ تحریر مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، مدیر ترجمان اسلام کے نام ایک مکتوب میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۱۹۷۴ء

حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی مدظلہ کا انٹرویو

(حافظ آباد) جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی نے آج یہاں ایک اخباری نمایندے کو انٹرویو دیتے ہوئے ملکی و ملی مسائل پر جمعیۃ کے موقف کی وضاحت کی۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ جب تک صدر پاکستان کی صحت بحال نہیں ہو جاتی، قائم مقام صدر یعنی قومی اسمبلی کے اسپیکر کا ملک سے باہر جانا صحیح نہیں معلوم ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۱۹۶۸ء

سیاست میں تشدد کا رجحان

قلات سے آمدہ ایک رپورٹ کے مطابق مستونگ میں جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے امیر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا شمس الدین صاحب پر غنڈوں نے قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کے کچھ ساتھی زخمی ہو گئے، مگر الحمد للہ کہ مولانا شمس الدین کو کوئی گزند نہیں پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء

مولانا محمد یوسف الحسینیؒ

ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چنیوٹ جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ لائل پور سے فون پر یہ روح فرسا خبر ملی کہ جمعیۃ علماء اسلام ضلع لائل پور کے امیر اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد یوسف الحسینیؒ عالم فانی سے رحلت فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنازہ کا جو وقت بتایا گیا اس پر گوجرانوالہ سے لائل پور پہنچنا مشکل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۱۹۷۴ء

’’عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت اور منکرینِ ختمِ نبوت کا تاریخی پس منظر‘‘

تحریک ختم نبوت کے ساتھ تعلق بحمد اللہ تعالیٰ بچپن سے ہی استوار ہے اور اس میں تسلسل کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی توفیق کو اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت اور اپنے لیے نجات کا باعث سمجھتا ہوں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں میری عمر صرف پانچ برس تھی مگر والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی گرفتاری اور رہائی کے مناظر ابھی تک ذہن میں محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری ۲۰۱۸ء

’’ریاست مدینہ: تعارف، پس منظر اور ضرورت و اہمیت‘‘

جناب سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کے بعد جو ریاستی نظام قائم کیا تھا اور اس نے خلافت راشدہ کے دور میں پورے جزیرۃ العرب کو ایک آئیڈیل اور مثالی ریاست کو حکومت کی صورت میں تبدیل کر دیا تھا، وہ آج دنیا بھر کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا کی ہر قوم کے منصف مزاج دانش وروں نے ہر دور میں اس کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۹ء

امریکا میں اسلامی ادارے اور سرگرمیاں

امریکا میں حاضری کے دوران مختلف دینی اداروں میں جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ تمام تر مشکلات اور خدشات کے باوجود دینی مراکز اور اداروں کا کام جاری ہے۔ جس روز نیویارک پہنچا، کوئینز میں دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات جاری تھے، دو تین روز وہیں قیام رہا اور مختلف درجات کے طلبہ کا امتحان بھی لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ ستمبر ۲۰۰۷ء

امریکا کے چند اردو اخبارات اور کچھ خبریں

آج کے کالم میں امریکا کے مختلف شہروں میں شائع ہونے والے اردو اخبارات کا مختصر تعارف اور اس کے ساتھ ان کی شائع کردہ چند اہم خبریں قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہیں۔ امریکا میں میری معلومات کے مطابق ایک درجن کے لگ بھگ اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں، جو اخبارات سے زیادہ اشتہارات کا مجموعہ کہلانے کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۷ء

امامِ حرم شیخ عبد الرحمٰن السدیس کا علماء سے خطاب

برطانیہ کے دورہ کے تاثرات کے بعض حصے باقی ہیں، لیکن ان سے پہلے امام حرمِ مکہ سماحۃ الشیخ عبد الرحمٰن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری کا تذکرہ ضروری ہے۔ امام موصوف کا شمار عالمِ اسلام کے ممتاز اصحابِ علم میں ہوتا ہے اور وہ صرف قرآن کریم کو اچھا پڑھنے میں ہی ممتاز نہیں ہیں، بلکہ علومِ قرآن کریم اور سنت نبویہ علی صاحبہا التحیۃ و السلام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۰۷ء

پی آئی اے کی سرد مہری

پی آئی اے ہماری قومی ایئر لائن ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ بیرونی ممالک کے سفر کے لیے اسی کو ذریعہ بنایا جائے کہ قومی ایئر لائن ہونے کے ساتھ ساتھ دورانِ سفر ماحول بھی قومی سا میسر آ جاتا ہے، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے کہ اس ترجیح پر نظر ثانی کی طرف ذہن متوجہ ہونے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۰۷ء

مدینہ منورہ میں تین دن

میں ۱۳ اگست کو جدہ پہنچا تھا اور آج ۲۲ اگست کو نیویارک کے لیے روانگی کی تیاری کر رہا ہوں۔ اس دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری اور عمرہ کی سعادت کے ساتھ ساتھ ان دو مقدس شہروں اور جدہ میں متعدد دینی و علمی محافل میں شرکت کا موقع ملا اور مختلف اصحابِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ میرے چھوٹے بھائی اور پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبد الحق خان بشیر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۷ء

برطانیہ میں چند روز

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کے موقع پر دو ہفتوں کی گنجائش تھی، اس میں چند روز اور شامل کر کے میں اٹھارہ بیس روز کے لیے ۵ مئی کو لندن آ گیا ہوں۔ اسی روز چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور کے لیے سفر کا آغاز کیا، میں صبح نمازِ فجر کے فوراً بعد گھر سے لاہور ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ و ۱۲ مئی ۲۰۰۷ء

شخصی آزادی کا مغربی تصور اور آسمانی تعلیمات

بخاری شریف اور حدیث کی دیگر مستند کتابوں میں روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر صحابہ کرامؓ کو عام راستوں اور گزرگاہوں میں بیٹھنے اور مجلس لگانے سے منع فرما دیا۔ اس پر بعض صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں، کیونکہ کوئی ملنے کے لیے آئے تو بسا اوقات گھر میں بٹھانے کی جگہ نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۷ء

پاکستان میں علماء کرام کا کردار

گزشتہ ہفتے معروف ماہنامہ جریدہ ”قومی ڈائجسٹ“ کے مدیر محترم نے دو نشستوں میں میرا تفصیلی انٹرویو لیا، ماضی کی یادیں کریدیں، بہت سے نازک مسائل پر دکھتی رگوں کو چھیڑا، خاندانی پس منظر اور تعلیمی مراحل کے بارے میں سوالات کیے اور موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کے لیے متعدد نکتے اٹھائے۔ تفصیلی انٹرویو تو ”قومی ڈائجسٹ“ میں ہی شائع ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۰۷ء

قرآن کریم کے حقوق

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو قیامت تک نسلِ انسانی کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور اس وقت ان آسمانی کتابوں میں سے صرف وہی محفوظ حالت میں موجود ہے جو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہوئیں۔ قرآن کریم نہ صرف پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے، بلکہ سب سے زیادہ پڑھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۲۰۰۷ء

مکالمہ بین المذاہب: ضرورت، اہمیت اور تقاضے

جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ میں قائم مطالعہ مذاہب کا مرکز اپنے اہداف کی طرف سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح وہ دینی مدارس کے ماحول میں وقت کی ایک اہم ضرورت کا احساس اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جامعہ کے سربراہ مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اس مقصد کے لیے ایک ماہوار جریدہ ”مکالمہ بین المذاہب“ کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۷ء

فور شیڈول کس بلا کا نام ہے؟

گزشتہ ماہ (جون) کی اٹھائیس تاریخ کی بات ہے کہ جامع مسجد فاروق اعظمؓ سیٹلائیٹ ٹاؤن، سرگودھا میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ”خلافت راشدہ کانفرنس“ سے خطاب کرنے کے لیے برادر عزیز مولانا عبد الحق خان بشیر امیر پاکستان شریعت کونسل پنجاب اور مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر سیکرٹری جنرل صوبائی شریعت کونسل کے ہمراہ پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۷ء

ایک اور بل

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں حقوق نسواں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اور بل پیش کر دیا ہے، جس میں عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے، ان کی جبری شادی، قرآن کریم کے ساتھ شادی کے نام سے انہیں نکاح کے حق سے محروم کرنے اور ونی جیسی معاشرتی رسموں اور رواجوں کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۰۷ء

مغرب کا علمی جائزہ لینے کی ضرورت ہے

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکریٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ، جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ کے آغاز میں پاکستان آئے تھے، گزشتہ روز واپس لندن چلے گئے ہیں۔ مفتی برکت اللہ صاحب کا تعلق بھارت میں ممبئی کے علاقہ بھیونڈی سے ہے، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء میں سے ہیں، ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں اور مختلف حوالوں سے دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

قبل اسلام اور دورِ جدید کی جاہلیت

آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں مغرب کی روشن خیالی کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے اور برطانیہ سے واپسی ہیتھرو ایئرپورٹ پر برطانوی انٹیلیجنس کے ایک افسر کے ساتھ ٹاکرے کا دلچسپ قصہ بھی قارئین کے گوش گزار کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۷ء

نیویارک میں مصروفیات

جدہ سے نیویارک تک سعودی عرب ایئر لائنز کی تیرہ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ ہے، اس پر نیویارک سے جدہ کا سفر میں نے اٹھارہ سال قبل کیا تھا، مگر جدہ سے نیویارک کا سفر کرنے کا اس سال موقع ملا۔ اتنی لمبی نان سٹاپ فلائٹ کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ مسلسل چودہ پندرہ گھنٹے سیٹ پر بیٹھے رہنے سے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کی جو کیفیت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۲۰۰۷ء

ٹونی بلیئر: فکری و نظریاتی محاذ کا تازہ دم پہلوان

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ستائیس جون کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ مسٹر گورڈن براؤن پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ حکمران لیبر پارٹی کی قیادت میں یہ تبدیلی برطانوی رائے عامہ کے اس شدید دباؤ کا نتیجہ ہے جو مسٹر ٹونی بلیئر کی حکومت کی طرف سے عراق کی جنگ میں اختیار کی جانے والی پالیسی کے خلاف سامنے آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۰۷ء

دورہ برطانیہ: تاثرات و مشاہدات

اس دفعہ برطانیہ میں ۵ مئی سے ۲۳ مئی تک قیام رہا اور حسب معمول مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کے علاوہ احباب سے ملاقاتیں کیں، تعلیمی اداروں کے مشاورتی اجلاسوں میں حاضری ہوئی اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں آئندہ تین سال کے لیے فورم کے نئے عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۷ء

یومِ نسواں اور فری سوسائٹی کا منطقی انجام

آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا اہتمام کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ۸ مارچ ۱۸۵۷ء کو نیویارک کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین نے اپنی کم تنخواہوں پر احتجاج کیا تھا اور اس کے بعد ایک لیبر یونین بنا لی تھی، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عورتوں کی پہلی لیبر یونین تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۷ء

برداشت اور عدمِ برداشت

ڈنمارک کے اخبار ”جیلنڈز پوسٹن“ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کے رد عمل کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلم ممالک میں عوام اور ان کی حکومتوں کے درمیان اس حوالے سے فاصلہ بھی بڑھنے لگا ہے۔ مسلم حکومتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج تو ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۶ء

ایک نام اور نسبت کی تین علمی شخصیات

سلمان ندوی کے نام سے تین بزرگ ہمارے حلقہ میں معروف ہیں اور میری تینوں سے نیاز مندی ہے۔ ان میں سب سے سینئر ڈاکٹر سید سلمان ندوی ہیں، جو تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کے فرزند گرامی ہیں، قدیم و جدید علوم دونوں پر دسترس رکھتے ہیں، ایک عرصہ تک جنوبی افریقہ کی ڈربن یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۶ء غالباً

گوجرانوالہ میں ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کا اہتمام

۲۳ مئی کو نیشنل اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت میرے لیے بے حد خوشی کا باعث ہوئی۔ اس دو روزہ پروگرام کا اہتمام ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے اور کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن، آر پی او، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ، اور سی پی او سمیت ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام افتتاحی تقریب میں موجود تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۴ء

عامر چیمہ کی شہادت

عامر چیمہ کی شہادت نے وہ زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں جو یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمانانِ عالم کے دلوں پر لگ گئے تھے اور مسلمانوں نے احتجاج اور جذبات کے پرجوش اظہار کے ساتھ ان زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھ لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۲۰۰۶ء

منافق کون ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ جو لوگ ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں، حالانکہ اس بل کی، جو اب ایکٹ بن چکا ہے، مخالفت کرنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں عورتوں کے ان حقوق کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں جو پاکستانی معاشرے میں عورت کو درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

انسانی معاشرہ اور مسلم سوسائٹی پر ”مولوی“ کے احسانات

میں ان دنوں چند روز کے لیے دوبئی آیا ہوا ہوں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ صاحب کے ہاں شارجہ میں قیام پذیر ہوں۔ خیال ہے کہ ۱۳ نومبر کو رات گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا اور ۱۴ نومبر منگل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ”دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے“ کے عنوان پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۶ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت و تبلیغ، اسلام مخالفت لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ و مشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری و علمی تربیت و راہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

جناب بش! ایک نظر ادھر بھی

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر جارج بش تین مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں اور پاکستانی قوم ملک گیر ہڑتال کے ساتھ ان کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ تین مارچ کی یہ ہڑتال اگرچہ ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں سے بعض اخبارات میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ان کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۶ء غالباً

تحفظِ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں خصوصی علماء کمیٹی کا موقف

حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم اور قومی اسمبلی میں زیر بحث تحفظ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں (۱) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، (۲) مولانا حسن جان، (۳) مولانا مفتی منیب الرحمٰن، (۴) مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، (۵) مولانا مفتی غلام الرحمٰن، (۶) مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور (۷) راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی پر مشتمل جو ”خصوصی علماء کمیٹی“ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ و ۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء

باجوڑ مدرسہ پر بمباری اور حدود بل سے متعلق چند معروضات

باجوڑ میں دینی مدرسے پر وحشیانہ بمباری اور اسی سے زائد افراد کی شہادت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے بین الاقوامی حلقے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ کارروائی فی الواقع دہشت گردوں کے خلاف کی گئی ہے۔ جو تین افراد اس بمباری میں زخمی ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

تحفظِ حقوقِ نسواں بل: سسٹم کو درست کیا جائے

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل کی بحث پھر سے قومی حلقوں میں شدت اختیار کرنے والی ہے، اس لیے کہ ۱۰ نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس کے بارے میں وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اس میں تحفظ حقوق نسواں بل کو سلیکٹ کمیٹی کی تجویز کردہ صورت میں منظور کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت کی معروضی صورتحال

مذاکرات کی تفصیلی کہانی تو آئندہ ایک دو کالموں میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کروں گا، مگر اس کے پہلے مرحلے کے طور پر علمائے کرام کی ان تجاویز اور سفارشات کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، جو انہوں نے تحفظ حقوق نسواں بل پر متحدہ مجلس عمل کے تحفظات کے حوالے سے حکمران جماعت اور وزارت قانون کے ذمہ دار افراد کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

یومِ آزادی ۱۴ اگست یا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب

حکیم محمد سعید شہید رحمہ اللہ کی بات میرے ذہن سے اتر چکی تھی، مگر مولانا عبد المجید لدھیانوی نے پھر یاد دلا دی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر ہم نے اس حوالے سے کچھ پروگرام بنانا چاہے اور اس عنوان سے کچھ فکری اور نظریاتی پروگراموں کی ترتیب کرنا چاہی تو اس سلسلے میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے مختلف ارباب دانش کو خطوط لکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۶ء

Pages