مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد اور دینی جماعتوں کی افسوسناک سردمہری

   
دسمبر ۱۹۹۴ء

مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی میں نفاذ شریعت کا مطالبہ طاقت کے بل پر وقتی طور پر دبا دیا گیا ہے اور عوام کو ان کے مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کر کے سردست خاموش کر دیا گیا ہے لیکن وہاں سے آنے والی خبروں کے مطابق چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی ہے اور اس کے کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک اٹھنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس خطہ کے غیور مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں شریعت کا قانون دیا جائے، قرآن و سنت کے مطابق اپنے تنازعات کے فیصلے کرانے کا حق دیا جائے، اور پیچیدہ نوآبادیاتی عدالتی نظام کی بجائے سادہ، سہل الحصول اور فوری انصاف کے اصول پر مبنی اسلامی عدالتی نظام دیا جائے۔ یہ مطالبہ نہ تو آئین کے منافی ہے کہ ملک کا آئین اپنے شہریوں کو اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے، اور نہ ہی غیر منطقی و اجنبی مطالبہ ہے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم قومی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکام و قوانین پر عملدرآمد کے پابند ہیں اور پاکستان کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا ۔

شریعت کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ریاستی طاقت کے اندھادھند استعمال کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے اور ریاستی سسٹم کو چیلنج کر دیا تھا۔ لیکن یہ دلیل پیش کرنے والے اس بات کو بھول رہے ہیں کہ اول تو ہتھیار اس خطہ کے لوگوں کی روز مرہ کی زبان ہے، اور دوسرا یہ کہ انہیں یہ زبان بولنے پر مجبور بھی ریاستی سسٹم نے ہی کیا ہے کہ ان کے ساتھ وعدے کر کے بھلا دیے گئے، یقین دہانیاں کرا کے نظر انداز کر دی گئیں اور معاہدے کر کے توڑ دیے گئے۔ اس لیے انہوں نے احتجاج کے لیے وہی زبان استعمال کی جو وہ جانتے تھے۔ ان کا یہ احتجاج ملک کے خلاف نہیں، ملکی نظام کے خلاف ہے۔ انہوں نے ملک سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا بلکہ ملک کے اندر رہتے ہوئے ملک کے آئین کی طرف سے دی گئی ضمانت کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس لیے ان کی جدوجہد کو بغاوت سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔

نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والوں کے طریق کار سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اس جدوجہد کی حمایت اور پشت پناہی ملک کی دینی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالہ سے ملک کی دینی جماعتوں اور نفاذ شریعت کی دعوے دار قوتوں کا کردار قطعی طور پر غیر تسلی بخش رہا ہے، وہ ذہنی تحفظات کے خول میں بند رہیں اور اخباری بیانات کے ذریعہ اس ’’جہاد‘‘ میں شرکت کر کے مطمئن ہوگئیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اس طرز عمل نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے جو ہمارے نزدیک بہت بڑا نقصان ہے۔ دینی جماعتوں کے قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے اور شمال سے اٹھنے والی نفاذ شریعت کی جدوجہد کو صحیح رخ پر آگے بڑھانے کے لیے مشاورت اور راہنمائی کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی کے غیور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر نفاذ شریعت کی جدوجہد کو منظم کرنے کی راہ ہموار ہو۔

جہاں تک مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی میں تحریک نفاذ شریعت کے پس منظر، مطالبات اور تازہ ترین صورتحال کا تعلق ہے، راقم الحروف اس سلسلہ میں حالات کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے چند روز تک خود وہاں جا رہا ہے اور اس کی تفصیلی رپورٹ ’’الشریعہ‘‘ کے اگلے شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter