فکری و تہذیبی تحدیات کے تین اسباب

عربی میں تحدیات کہتے ہیں، انگلش میں چیلنجز کہتے ہیں۔ چیلنجز ہمارے فکری بھی ہیں، ثقافتی بھی ہیں، سیاسی بھی ہیں، سائنسی بھی ہیں، علمی بھی ہیں، ہمہ نوع تحدیات ہیں، ہر شعبے میں ہمیں چیلنجز کا سامنا ہے، رکاوٹوں کا سامنا ہے اور مسائل کا سامنا ہے۔ ایک ہے تحدیات کی فہرست کہ ہمیں جو چیلنجز درپیش ہیں وہ کون کون سے ہیں؟ اگر اس سے تھوڑا سا آگے بڑھ کر یہ دیکھیں کہ یہ تحدیات کیوں ہیں؟ تو میں ان سرچشموں کی نشاندہی کرنا چاہوں گا جہاں سے یہ تحدیات پیدا ہوتی ہیں، جہاں سے یہ چیلنجز نمودار ہوتے ہیں اور پھر پھیلتے چلے جاتے ہیں۔

جہاں تک تحدیات کے پھیلتے چلے جانے کا مسئلہ ہے، حضرت اسامہ بن زیدؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی ایک بڑی حویلی کی دیوار پر کھڑے تھے، ہم سب نیچے کھڑے تھے، حضورؐ نے یوں فضا کی طرف دیکھا، فرمایا، کیا تم وہ چیزیں دیکھ رہے ہو جو مجھے نظر آ رہی ہیں؟ یا رسول اللہ! نہیں۔ فرمایا، میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فتنے آزمائشیں تمہارے گھروں کے صحنوں میں ایسے برس رہے ہیں جیسے بارش برستی ہے۔ یہ کثرت بھی ہے اور تسلسل بھی ہے، آپ نہ گن سکتے ہیں، نہ ترتیب قائم کر سکتے ہیں، اور نہ روک سکتے ہیں۔ ہماری اس وقت ہماری صورتحال یہ ہے۔

میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں فکری و علمی اور تہذیبی طور پر جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کی وجہ کیا ہے؟ تین باتیں عرض کروں گا جو ہمارے چیلنجز کا باعث ہیں اور ہمارے چیلنجز کا سرچشمہ ہیں جہاں سے یہ پھوٹتے ہیں۔

  1. پہلی بات ہماری بے خبری ہے۔ ہم دنیا کے ہر فن کے بارے میں بنیادی تعلیم حاصل کریں گے، لیکن دین کے بارے میں نہیں کریں گے۔ دین کے بارے میں ہماری معلومات کا دائرہ سطحی ہو گا۔ علم کا نہیں ہو گا، معلومات کا ہو گا۔ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کروں گا، فلسفے کی تعلیم حاصل کروں گا، تو اس کی جو بیسک ایجوکیشن ہے اس کے بغیر آگے نہیں بڑھوں گا۔ اور دین کے بارے میں میری معلومات کا ذریعہ سنی سنائی باتیں ، یا اخبارات کی رسائل کی دیکھی بھالی باتیں ہوں گی۔ یہ ایک فرق میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ذہن میں ڈالنا چاہتا ہوں کہ ہمارا مزاج یہ بن گیا ہے کہ دنیا کے ہر فن کی تعلیم حاصل کریں گے تو پہلے بیسک ایجوکیشن حاصل کریں گے اس کے بعد آگے بڑھیں گے، لیکن دین کے بارے میں مطالعہ اور سننا یہ ہماری بنیاد ہے، بیسک ایجوکیشن ہمارے پاس نہیں ہوتی اور ہم کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آپ انجینئرنگ کی بیسک ایجوکیشن حاصل کیے بغیر، مطالعے کی بنیاد پر انجینئر بننا چاہیں، بن جائیں گے؟ وکالت کی، قانون کی بیسک ایجوکیشن حاصل کیے بغیر، مطالعے کی بنیاد پر، سوشل میڈیا کی بنیاد پر، اخبارات کی بنیاد پر وکیل بننا چاہیں، بن جائیں گے؟

    یہ ہماری بے خبری ان ساری غلط فہمیوں کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم اس بارے میں وہ اصول نہیں اختیار کرتے جو باقی علوم کے بارے میں اختیار کرتے ہیں، جو سائنس کے بارے میں، انجینئرنگ کے بارے میں، فلسفے کے بارے میں، میڈیسن کے بارے میں، جو اصول ہمارا جو طرزعمل باقی علوم کے بارے میں ہے، وہ طرزعمل ہم اسلام کے بارے میں، قرآن کے بارے میں، حدیث و سنت کے بارے میں اختیار نہیں کریں گے، ہماری یہ کنفیوژن بڑھتی رہے گی۔ بے خبری سے پیدا ہونے والی کنفیوژن بڑی خطرناک ہوتی ہے اور بڑی خوفناک ہوتی ہے۔ یہ ایک وجہ میں نے عرض کی ہے۔

  2. دوسری بات کہ تھوڑی بہت جو معلومات ہم حاصل کرتے ہیں، ہمارے پاس جو تھوڑا بہت ذخیرہ ہوتا ہے، وہ اصل مآخذ سے نہیں ہوتا۔ علم تو بعد کی چیز ہے، ہماری معلومات کا ذریعہ بھی اوریجنل سورسز نہیں ہوتے۔

    مثال کے طور پر ایک بات بتانا چاہوں گا۔ ہماری ایک بڑی محترم شخصیت کی زبان سے ایک بات نکل گئی کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام تاریخ کی گمنام شخصیت ہیں۔ شور مچ گیا ملک میں، میں نے کہا یار بات وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ عیسٰی علیہ السلام، جہاں سے انہوں نے پڑھا ہے ان کے نزدیک وہ گمنام شخصیت ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کہتا ہے کہ ہمارے پاس عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں دو تین واقعات کے سوا کوئی مستند مواد نہیں ہے۔ اب یہ جملہ جو پڑھے گا وہ عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ میرے وہ بھائی اگر عیسٰی علیہ السلام کو قرآن کریم سے پڑھتے تو ہر چیز مل جاتی۔ قرآن کریم میں عیسٰی علیہ السلام کا تذکرہ پڑھا ہوتا تو یہ بات کہنے کا موقع نہ آتا۔ میں نے یہ بات بطور مثال کیوں کہی ہے؟ کہ اول تو علم کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں ہے، اور معلومات کا مآخذ ہمارا اصل نہیں ہے۔

    ایک اور مثال دوں گا کہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک موقع پر ایک سیمینار میں میرے ایک بھائی گفتگو فرما رہے تھے اسلامی تہذیب پر۔ اور وہ اسلامی تہذیب و ثقافت کی بڑے خوبصورت انداز میں تعریف کر رہے تھے، اس کے اثرات دنیا پر بیان کر رہے تھے، لیکن عرب تہذیب کہہ کر کہ عرب تہذیب تھی، عربوں نے ایک اچھا دور گزارا ہے اور دنیا پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

    جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا میرے بھائی! آپ نے اسلامی تہذیب پر بنیادی کتاب کون سی پڑھی ہے؟ کہتے ہیں ہٹی کی ’’عرب اور اسلام‘‘۔ فلپ کے ہٹی مستشرق ہے، میں نے کہا بھئی! وہ تو یہی بتائے گا آپ کو۔ فلپ کے ہٹی کی ’’عرب اور اسلام‘‘ میں نے پڑھی ہے اور اس پر میں نے نقد کیا تھا اور میرا اس پر مقالہ چھپا ہے کہ اس نے کہاں کہاں کیا کیا گڑبڑ کی ہے۔ ہیٹی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اسلام انسانیت کا مذہب نہیں، عربوں کا مذہب ہے۔ عرب تہذیب تھی جس کو عروج ملا اور عربوں کے کلچر نے دنیا پر غلبہ پا لیا، ان کا دور ختم ہو گیا ہے، اب کسی اور کلچر کی باری ہے۔ میں نے اس سے کہا میرے بھائی! آپ نے ہٹی کو پڑھا ہے اسلام کو سمجھنے کے لیے تو ہٹی تو آپ کو یہی اسلام پڑھائے گا۔ میں نے کہا کہ اس پر میں نے ۱۹۶۷ء میں نقد لکھا تھا طالب علمی کے زمانے میں۔

    اسلام عرب کلچر کا نام نہیں ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا خطاب جو پیغمبر کے طور پر کیا تھا وہ کیا تھا، صفا میں کھڑے ہو کر؟ حضورؐ کی دعوت کا تعلیم کا سب سے پہلا جملہ کیا ہے؟ ’’ایھا الناس‘‘۔ اور پھر اس سے بیس اکیس سال کے بعد منٰی میں کھڑے ہو کر حجۃ الوداع میں حضورؐ نے جو احکام و قواعد بیان کیے، یا ایس او پیز بیان کیے قوموں کے، وہ عرب قوم کے بیان کیے تھے یا بین الاقوامی بیان کیے تھے؟ لیکن آج ہمارے نوجوان بھی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ عرب تہذیب تھی۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اسلام کو آپ اوریجنل سورسز سے نہیں پڑھو گے تو یہی ہو گا پھر۔ کسی بھی چیز کو اوریجنل سورسز سے نہیں پڑھو گے تو یہی نتیجہ دیں گی، جو آپ کے ذہن میں ڈالے گا لکھنے والا وہی آپ کا ذہن بن جائے گا، وہی آپ کی فکر بنے گی۔

  3. تیسری اور آخری بات کہ ہم اپنے ماضی سے کٹے ہوئے ہیں۔ ہمیں نام یاد ہیں، کسی کی خدمات یاد نہیں۔ میں دوسری لائن کی بات نہیں کروں گا، آپ کی اپنی لائن کی بات کروں گا۔ سرسید کا نام ہم لیتے بھی ہیں، پڑھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں۔ سرسید کی کسی نے لائف پڑھی ہے، یا اس کی جدوجہد پڑھی ہے؟ میں بالکل شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ برصغیر میں ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں سرسید کا بہت بڑا کردار ہے، آپ اس کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ مسلم تہذیب کے تحفظ کی بات سب سے پہلے یہاں ۱۸۵۷ء کے بعد کس نے کی ہے؟ سرسید نے تہذیب کی لڑائی لڑی ہے میرے بھائی۔ عقیدے کی لڑائی ہم مولوی لڑتے رہے ہیں لیکن تہذیب کی لڑائی، کلچر کی لڑائی، مسلم ثقافت کی لڑائی سرسید نے لڑی ہے، حالی نے لڑی ہے، نواب بہادر یار جنگ نے لڑی ہے، محمد علی جوہر نے لڑی ہے، شوکت علی نے لڑی ہے، یہ سب علی گڑھ کے لوگ ہیں۔ اقبال کا ہم نام لیتے ہیں، اقبال کو پڑھا بھی ہے؟

    ہم اپنے ماضی سے بالکل لا تعلق ہیں۔ میں اپنے بچوں اور بچیوں سے کہوں گا کہ چلو ماضی بعید تو بہت دور کی بات ہے اپنے پچھلے سو سال کا ماضی تو پڑھ لیں۔ ہمارے ماضی کے پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کے بزرگوں میں کس کس نے کیا کردار ادا کیا؟ آپ سرسید کو، حالی کو، جوہر کو، اقبال کو، قائد اعظم کو صحیح معنوں میں پڑھ لیں گے، مجھ سے آگے کھڑے ہوں گے آپ اس تہذیب کے تحفظ کے لیے۔

چیلنجز کہاں سے پیدا ہوتے ہیں، کنفیوژنز کہاں سے ابھرتی ہیں، میں نے تین اسباب ذکر کیے ہیں۔ (۱) بے خبری (۲) اور جو تھوڑی بہت خبر ہے وہ اوریجنل سورسز سے نہیں (۳) اور تیسری بات کہ ہم اپنے ماضی قریب سے لاتعلق ہیں، ماضی بعید تو بہت دور کی بات ہے۔