اسلامی نظریاتی کونسل اور جمعہ کے خطبات

   
جون ۲۰۲۱ء

مشہور محاورہ ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، چنانچہ مسجد و مدرسہ کے حوالہ سے سرکاری یا نیم سرکاری حلقوں کی طرف سے کوئی بات بھی سامنے آتی ہے تو دینی راہنماؤں اور کارکنوں کے کان اسی طرح کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے شکاری کو دیکھ کر ہرن کان کھڑے کر کے ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتا ہے۔ مسجد و مدرسہ کو ہر حال میں کنٹرول کرنے کے عالمی استعماری ایجنڈے کے سائے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی حوالہ سے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اسے اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے شکار اپنے شکاری کو دیکھتا ہے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں، اس لیے کہ اس بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی یہ فضا خود ریاستی اداروں کے مسلسل اقدامات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے جو اس قدر شدید اور گہری ہے کہ اسے اعتماد کے ماحول میں واپس لانے کیلئے خاصا وقت اور محنت درکار ہو گی۔

اصل میں یہ ایجنڈا عالمی سیکولر قوتوں کا ہے کہ مغربی تہذیب و ثقافت کے عالمی غلبے کی راہ میں مسجد و مدرسہ ناقابل عبور رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں، کیونکہ انسانی سوسائٹی کو مذہب، مذہبی اقدار اور خدا و آخرت کے جس تصور سے بے گانہ کر دینا مغربی تہذیب و ثقافت کی بنیاد ہے، مسجد و مدرسہ میں ان مذہبی اقدار و روایات کی نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اس کا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے اور اس ماحول کو ہر سطح پر قائم و موجود رکھنے کی محنت بھی کی جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ خدا، رسول، قرآن، سنت، آخرت، جنت، دوزخ اور دیگر آسمانی تعلیمات کی جن باتوں کی مدرسہ تعلیم دیتا ہے اور مسجد میں چوبیس گھنٹے ان کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے وہ مغربی تہذیب و ثقافت کے دائرہ میں کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہیں، اور ان باتوں اور اس ماحول کا انسانی سوسائٹی میں مسلسل موجود رہنا مغربی فلسفہ و نظام کے لیے مستقل چیلنج بلکہ درد سر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں ان باتوں پر عوام کا ایمان، عقیدہ و یقین سے بڑھ کر عقیدت اور بے لچک کمٹمنٹ کا درجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ جس میں مختلف حربوں اور سازشوں کے باوجود کسی طرح کی کمی نہیں آرہی۔

چنانچہ بڑا سبب مسجد ، مدرسہ اور مولوی ہے اور اسباب کی دنیا میں ان کا یہ تجزیہ غلط بھی نہیں ہے۔ اس لیے ان تینوں کو تحقیر، استہزا اور کردارکشی کا نشانہ بنائے رکھنے کے ساتھ ساتھ دباﺅ، کنٹرول اور جبر کا ہر حربہ ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، اور طے کر لیا گیا ہے کہ انہیں کسی طرح بھی موجودہ پوزیشن میں مسلم سوسائٹی میں کوئی کام آزادانہ طور پر کرتے رہنے کی پوزیشن میں نہ رہنے دیا جائے۔ دینی حلقوں اور سیکولر لابیوں کے درمیان موجودہ کشمکش کا بنیادی دائرہ یہی ہے جس میں مسلم ممالک کے مقتدر حلقے اپنے عوام کا ساتھ دینے کی بجائے ان کے خلاف استعماری حربوں میں سیکولر لابیوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں جو مسلم دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

اس پس منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نئے اوقاف کے نفاذ کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ مساجد میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے خطباء کو جمعہ کے خطبات فراہم کرنے کا اعلان سامنے آگیا، جسے ظاہر ہے کہ اسی تناظر میں دیکھا جانا تھا۔ چنانچہ اس پر سخت ردعمل کا سامنا فطری بات ہے جس پر متعلقہ حلقوں کو چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کے اسباب کا جائزہ لینا چاہئے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ہمارا قابل قدر دستوری ادارہ ہے جس کی علمی خدمات ملکی قوانین کو اسلامی احکام میں ڈھالنے کے حوالہ سے بہت وقیع اور لائق تحسین ہیں جن کا ہم بھی وقتاً فوقتاً ذکر کرتے رہتے ہیں اور ملکی قوانین کو دستوری تقاضے کے مطابق قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو متعلقہ اسمبلیوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کا مطالبہ ہمارے مستقل مطالبات میں شامل ہے۔ اسی طرح کونسل کے موجودہ چیئرمین محترم جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز ہمارے محترم فاضل دوست ہیں اور ان کی یہ وضاحت ہمارے لیے اطمینان بخش ہے کہ مساجد کے خطباء کو کونسل کی طرف سے جمعہ کے خطبات کی فراہمی راہنمائی اور سفارش کے درجہ میں ہے، یہ کوئی سرکاری آرڈر نہیں ہے جس کی تعمیل بہرحال ضروری ہو۔ مگر اس کے ساتھ ہم اسلامی نظریاتی کونسل سے یہ عرض کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تجویز اور اس پر دینی حلقوں کے ردعمل کو مسجد و مدرسہ اور مولوی کے بارے میں عمومی پالیسیوں اور ماحول سے الگ کر کے نہ دیکھیں اور اس امر کا اہتمام بطور حکمت عملی ضروری سمجھیں کہ ان کی کوئی تجویز یا سفارش مسجد، مدرسہ اور مولوی کے خلاف عالمی سازش اور ایجنڈے کے لیے سہولت کاری نہ سمجھی جائے، ورنہ ریاستی اداروں کے ہاں تو یہ معزز و محترم فورم صرف نمائشی ادارہ شمار ہوتا ہی ہے، عوامی اور دینی حلقوں میں بھی وہ اپنے اس اعتماد کو شاید قائم نہ رکھ سکے جو اس وقت حاصل ہے، خدا کرے کہ ایسا نہ ہو، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter