دو ریاستی حل : نگران وزیر اعظم سے تین گزارشات

   
تاریخ: 
۱۵ دسمبر ۲۰۲۳ء

(جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کا کچھ حصہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر ایک بڑا قومی سیمینار ہوا تھا جس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین جمع ہوئے، میں بھی اس میں شریک تھا، وہاں میں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان بننے کے فوراً بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے، جبکہ آج ہمارے حکمرانوں نے دو ریاستی حل کی بات کرنا شروع کر دی ہے، پاکستان کے موقف میں یہ تبدیلی کب آئی ہے اور کس نے کی ہے؟ وہ اتھارٹی کون سی ہے جس نے قائد اعظم کے موقف کو مسترد کر کے دو ریاستی حل کی بات پیش کی ہے؟ کیونکہ دو ریاستی حل اسرائیل کو تسلیم کرنے والی بات ہے جسے ہم قبول نہیں کرتے، چنانچہ تمام مکاتب فکر کی قیادت نے اس کنونشن میں اسے مسترد کیا تھا ۔

اس کے بعد نگران وزیر اعظم جناب انوار الحق کاکڑ کا بیان آیا ہے کہ اسرائیل کے معاملے پر قائد اعظم رائے سے اختلاف کرنا کفر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے کیونکہ یہ تجویز دنیا دے رہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے اس لیے ہم بھی کہتے ہیں کہ تسلیم کر لینا چاہیے۔

میں وزیر اعظم صاحب سے تین گزارشات کرنا چاہوں گا:

  1. پہلی گزارش یہ ہے کہ یہ قائد اعظم مرحوم کی صرف رائے نہیں تھی بلکہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا یہ فیصلہ پون صدی سے اب تک ہمارا قومی موقف چلا آ رہا ہے، اسے محض قائد اعظم کی رائے کہہ کر ہلکا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر اس موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہوئی تو یہ قوم کا کام ہے، آپ اس کے مجاز نہیں ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم چار آدمی بند کمرے میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے تو قبول ہو جائے گا، ایسا نہیں ہو سکتا، اس کا فیصلہ قوم کی منتخب پارلیمنٹ کرے گی، ورنہ یہ فیصلہ سڑکوں پر ہوگا اور عوام میں ہوگا۔ اس لیے کسی کے ذہن میں یہ مغالطہ نہیں رہنا چاہیے کہ چند افراد دستخط کر کے اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ نہیں ہو گا۔
  2. وزیر اعظم محترم نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا یہ کہتی ہے اس لیے ہم بھی کہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ وزیر اعظم صاحب سے گزارش ہے کہ جس دنیا کی آپ بات کر رہے ہیں وہ پاکستان کے نام کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا لفظ برداشت نہیں کرتی۔ وہ دنیا یہ بھی کہہ رہی ہے کہ آپ شریعت اور مسلم تہذیب سے دستبردار ہو جائیں؟ کیا اس دنیا کے کہنے پر آپ پاکستان کے نام سے اسلامی کا لفظ ختم کر دیں گے، مسلم تہذیب سے دستبردار ہو جائیں گے اور پاکستان کی مذہبی شناخت ختم کر دیں گے؟ آپ کرسی پر بیٹھے ہیں تو حواس قائم رکھیں اور اپنے دائرے میں رہیں۔ آپ اگر قومی فیصلوں کو ٹھکرائیں گے تو اس کا ردعمل ہو گا جو آپ کے لیے قابل برداشت نہیں ہو گا۔
  3. تیسری گزارش یہ ہے کہ قائد اعظم مرحوم نے فرمایا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔ گزارش ہے کہ جو بچہ ناجائز پیدا ہو جائے وہ وقت گزرنے کے ساتھ اور دنیا کے کہنے سے جائز نہیں ہو جایا کرتا۔ اسرائیل ناجائز ہے اور ناجائز ہی رہے گا۔ اس لیے ہم اگر اس وطن کو قائد اعظم کا پاکستان کہتے ہیں، انہیں پاکستان کا بانی تسلیم کرتے ہوئے اس کی پالیسیوں کا سرچشمہ ان کے اعلانات کو مانتے ہیں، تو جس طرح ہمیں قائد اعظم کی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اسی طرح ہمیں ان کی یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے والی بات ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے۔

اس لیے وزیر اعظم صاحب کو یہ بیان واپس لینا چاہیے اور قومی پالیسی کے معاملات میں نگران حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

2016ء سے
Flag Counter