ماہِ شعبان اور ترجمہ و تفسیر قرآن کے حلقے

   
تاریخ: 
۲۳ جون ۲۰۱۲ء

شعبان المعظم کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں دورۂ تفسیر قرآن کریم کے حلقوں کا آغاز ہو گیا ہے اور اپنے اپنے ذوق اور دائرہ فکر کے مطابق بیسیوں بلکہ سینکڑوں مقامات پر علمائے کرام اپنے شاگردوں کا حلقہ سنبھالے قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی خدمت سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بھی گزشتہ سال سے دورۂ تفسیر کی کلاس ان دنوں چل رہی ہے اور دوسرے اساتذہ کے ساتھ ساتھ مجھے بھی قرآن کریم کے چند پاروں کے ترجمہ و تفسیر کے علاوہ قرآن کریم کے علوم و معارف کے حوالہ سے کچھ موضوعات پر طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ ۲۳ جون کو اس سال کی کلاس کا آغاز ہوا۔ اس حوالے سے افتتاحی نشست میں جو تمہیدی اور تعارفی گزارشات پیش کی گئیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ ہمارے ہاں متحدہ ہندوستان میں مغل دور میں درس نظامی کا جو نصاب تھا، اس میں دو قسم کے علوم کو زیادہ اہمیت کے ساتھ پڑھا اور پڑھایا جاتا تھا۔ یونانی فلسفہ پر مشتمل معقولات کی تعلیم اہتمام سے ہوتی تھی اور فقہ حنفی اہمیت و توجہ کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ معقولات اس دور کی زبان تھی اور استدلال کا رائج الوقت اسلوب تھا، اس لیے اس کی ضرورت زیادہ سمجھی جاتی تھی، جبکہ فقہ حنفی ملک کا عدالتی اور دفتری قانون تھی، اس لیے اس کی شب و روز ضرورت رہتی تھی اور اس وجہ سے ان دو علوم یا فنون کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔

قرآن کریم کا مکمل ترجمہ و تفسیر اور حدیث نبویؐ روایت کے طور پر سند کے ساتھ پڑھانے کا ہمارے ہاں عمومی طور پر رواج نہیں تھا، تفسیر میں جلالین اور بیضاوی شریف کے کچھ حصے اور حدیث میں مشکوٰۃ شریف ہمارے نصاب کی آخری کتا ہیں ہوتی تھیں، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے سب سے پہلے اس طرف توجہ دی کہ ہمارے نصاب میں مشکوٰۃ شریف کے بعد حدیث نبویؐ میں سند اور روایت کے ساتھ بھی حدیث کی کتابیں شامل ہونی چاہئیں، اور جلالین اور بیضاوی کے ساتھ فارسی اور اردو میں قرآن کریم کا با قاعدہ ترجمہ و تفسیر بھی پڑھایا جانا چاہیے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس مقصد کے لیے قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ تحریر کیا، جو اس دور کی دفتری اور عدالتی زبان تھی، جبکہ ان کے دو فرزندوں حضرت شاہ عبد القادر دہلویؒ اور حضرت شاہ رفیع الدین دہلویؒ نے اردو میں قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کے حواشی تحریر کیے، جو اس وقت عوامی زبان کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے قرآن کریم کے اردو میں عوامی درس کا آغاز کیا اور تفسیر عزیزی کے عنوان سے با قاعدہ تفسیر لکھنے کا سلسلہ شروع کیا، جو مکمل نہ ہو سکی اور اس کے کچھ حصے اب کتابی صورت میں ملتے ہیں۔ گویا ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن کریم کی تدریس اور سند و روایت کے ساتھ حدیث نبویؐ کا سلسلہ سب سے پہلے اس خاندان نے شروع کیا اور دینی تعلیم کے نصاب میں یہ اہم تبدیلی رونما ہوئی، مگر یہ اس دور کی بات ہے جب اس ملک پر مغلوں کی حکومت تھی، فقہ حنفی ملک کا قانون تھی، فارسی زبان ملک کی دفتری اور عدالتی زبان تھی اور اردو عوامی زبان کے طور پر دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی، برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے بعد یہ پورا تعلیمی نصاب و نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا۔ عدالتی و دفتری قوانین تبدیل ہو گئے اور انگریزی نظام کی حکمرانی قائم ہو گئی، فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی اور درس نظامی کا سرے سے کوئی مصرف باقی نہ رہنے دیا گیا۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کے ذریعہ درس نظامی کو باقی رکھنے اور دینی علوم کی تدریس کے تسلسل کو بچانے کا اہتمام کیا گیا اور ازسرنو ساری تگ و دو کرنا پڑی۔ اس کے بعد قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے لیے عوامی سلسلہ کا آغاز حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک سے ہوا، جب وہ جزیرہ مالٹا میں ساڑھے تین سال کے لگ بھگ قید کاٹنے کے بعد واپس آئے تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میں نے قید کی تنہائی میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب پر بہت غور کیا اور مجھے اس کے دو بڑے سبب نظر آئے ہیں، ایک یہ کہ عام مسلمان فہم کے اعتبار سے قرآن کریم سے دور ہے اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات و تنازعات ان کی ترقی و بحالی کی راہ میں حائل ہیں، اس لیے انہوں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے حلقے قائم کیے جائیں اور لوگوں کو قرآن کریم پڑھانے اور سمجھانے کی تحریک عام کی جائے۔

اسی مقصد کے لیے دہلی میں نظارۃ المعارف القرآنیہ کا ادارہ قائم ہوا، لیکن ہمارے اس خطے میں جو پنجاب کے نام سے معروف ہے، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کا سب سے پہلا حلقہ شمال مغربی پنجاب میں رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علیؒ نے قائم کیا ، دوسرا حلقہ شیرانوالہ لاہور میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے شروع کیا، تیسرے حلقے کا آغاز خانپور ضلع رحیم یار خان میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے کیا اور چوتھا حلقہ گکھڑ میں ہمارے والد بزرگوار حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، جبکہ راولپنڈی میں شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ نے شروع کیا، یہ درس قرآن کریم کے دو بڑے بڑے حلقے تھے جن کا فیض نہ صرف ملک میں بلکہ اردگرد کے دوسرے ممالک میں بھی پھیلا اور ان حلقوں کے ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں فیض یافتہ حضرات نے لوگوں کو قرآن کریم کے علوم و معارف سے متعارف کرایا۔

ہمارے ہاں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کا ایک الگ پس منظر ہے کہ ۱۹۷۶ء میں بھٹو حکومت نے مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو یہاں کے علماء اور دینی کارکنوں نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی قیادت میں اس کے خلاف مزاحمتی اور احتجاجی تحریک شروع کر دی، جس میں سینکڑوں علماء اور کارکنوں نے گرفتاری دی اور خود میں بھی تین ماہ سے زیادہ عرصہ جیل میں رہا، اس مرحلہ میں اس خیال سے کہ شعبان کی تعطیلات میں مدرسہ کا خالی رہنا اس پر پولیس کے قبضہ کے لیے آسانی پیدا کر سکتی ہے اس لیے دورۂ تفسیر شروع کر دیا جائے، چنانچہ ۱۹۷۶ء میں پہلے سال دورۂ تفسیر ہوا اور ۲۰۰۰ء تک مسلسل جاری رہا۔ اس دوران کم و بیش دس ہزار علمائے کرام نے حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھا، یہ دورۂ تفسیر آڈیو سی ڈی میں مکمل طور پر موجود و میسر ہے۔

انہی بزرگوں کا فیض ہے کہ آج جگہ جگہ قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے حلقے قائم ہیں اور اس کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، ہم بھی اس روایت کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، پڑھنے پڑھانے والے تو چلے گئے ہم تو صرف نقل اور روایت کے لوگ ہیں، خدا کرے کہ ہماری یہ نقل اور روایت ہی قبول ہو جائے اور اس کار خیر میں ہمارا کچھ حصہ شامل ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔

(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۲۶ جون ۲۰۱۲ء)
2016ء سے
Flag Counter