بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
علماء کرام کو حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث بتایا گیا ہے اور وہ اس حوالہ سے ان تمام ذمہ داریوں میں اللہ تعالیٰ کے مقدس رسولوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے اپنے دور میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے رہے ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار میں وہ سب کمال جامعیت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ بھی ہیں۔
آج کے دور میں ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کی عملی صورتیں کیا ہیں اور اس حوالہ سے علماء کو کیا کرنا چاہیے؟ اس پر ہمارے اکابر علماء کرام، مشائخ عظام اور اساتذہ نے اپنے اپنے ذوق و اسلوب کے مطابق تحریراً و تقریراً بہت کچھ فرمایا ہے جو ہم سب کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ ذریعہ نجات بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب بزرگوں کی ان مساعی جمیلہ کو مزید قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور ہمیں ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق مرحمت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
ان بزرگوں کے خوشہ چین کے طور پر علماء کرام کے مختلف طبقوں بالخصوص اساتذہ و خطباء کے بارے میں کچھ طالب علمانہ گزارشات میں بھی اپنے مضامین میں گزشتہ نصف صدی سے پیش کرتا آ رہا ہوں جو سینکڑوں مضامین کی صورت میں مختلف رسائل و جرائد میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے فاضل عزیز مولانا محمد انس عرفان (جامعہ صدیق اکبرؓ، ٹندو اللہ یار، سندھ) نے ان کا ایک انتخاب ’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مرتب کر کے شائع کیا تھا جو اُن کے حسنِ ذوق کی علامت ہے اور علمی حلقوں میں سے بحمد اللہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس مجموعہ کا دوسرا ایڈیشن کچھ اضافہ کے ساتھ وہ دوبارہ منظر عام پر لا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور اس کاوش کو ہم سب کے لیے ذخیرۂ آخرت بنا دیں، آمین ثم آمین۔

