اسلامی قوانین کے تحفظ پر قومی سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ مئی ۲۰۱۷ء

۲۲ مئی کو اسلام آباد کے الفلاح ہال میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام تحفظ قوانین اسلامی کے موضوع پر قومی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری نے کی اور اس سے جناب لیاقت بلوچ، حافظ عاکف سعید، علامہ ساجد نقوی، عبد الوحید شاہ، صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی، مولانا محمد امین شہیدی، جناب اسد اللہ بھٹو، علامہ عارف حسین واحدی اور دیگر سرکردہ زعماء نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔

’’وطن عزیز پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کے خلاف ایک منظم منصوبہ کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ اس کام میں بعض ملکی اداروں اور تنظیموں سے بھی سوئے استفادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختلف اسلامی شقوں کو بے اثر کرنے کے لیے اب تک کئی ایک اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کے بعد سے توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے اور قرارداد مقاصد کو پاکستان کے آئین سے نکالنے کے حوالے سے ملکی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے۔ ربوٰ کی حرمت پر پاکستان شریعت کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ آف پاکستان نے سٹے آرڈر جاری کیا ہوا ہے۔ اسی طرح مرحوم جناب قاضی حسین احمد کی جانب سے عریانی اور فحاشی کے کلچر کے سدباب کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن پر تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا۔ تعلیمی نصاب سے اسلامی اسباق کو نہایت منظم انداز سے حذف کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں نہایت ضروری ہے کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی اساس پر یقین رکھنے والی قوتیں میدان عمل میں اتریں اور آئین پاکستان میں موجود اسلامی قوانین کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیں۔ آج کا اجلاس درج ذیل اعلامیہ کے تحت حکومت پاکستان اور ذمہ دار اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہے کہ وہ آئین پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوششوں کا نوٹس لیں اور اسلامی قوانین پر آئین پاکستان کی روشنی میں عمل درآمد کروایا جائے۔

  1. ملی یکجہتی کونسل پاکستان، جو ملک کی بڑی دینی و مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، مطالبہ کرتا ہے کہ آئینِ پاکستان میں موجود اسلامی شقوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق آئین میں پائے جانے والے سقم کو دور کیا جائے اور ان سفارشات کے نفاذ کے لیے فی الفور اقدام کیا جائے۔
  2. آئینِ پاکستان، جو کہ ایک متفقہ دستاویز ہے، میں موجود کسی بھی اسلامی شق کے خلاف کی جانے والی سازش خواہ پارلیمنٹ میں ہو یا میڈیا پر یا کسی اور ادارے میں ہو، ملک کی دینی و مذہبی جماعتیں کسی صورت برداشت نہیں کریں گی۔ حکومتِ پاکستان ان اقدامات کا نوٹس لے اور متفقہ آئینِ پاکستان کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرے۔
  3. حرمتِ دین و مذہب اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تمام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں کسی اندرونی یا بیرونی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجلاس قانون توہین رسالت کے خلاف ایوان بالا یا ایوانِ زیریں میں پیش کی جانے والی کسی بھی قرارداد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
  4. یہ اجلاس توہین رسالت کی آڑ میں کسی فرد یا گروہ کی جانب سے از خود اقدام کی بھی مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقدمات، جن میں اس قانو نکے تحت ملزم سزا کے مستحق پائے ہیں، پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی شخص کو اس قبیح فعل کی جرأت نہ ہو سکے اور نہ ہی کوئی عام شخص قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔
  5. توہینِ رسالت کے اقدام پر جن مجرموں کو عدالتیں فیصلے سنا چکی ہیں ان پر فوری عمل کیا جائے اور گستاخ بلاگرز، جو بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں، کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے ملکی قانون کے مطابق ان پر مقدمہ چلایا جائے۔
  6. حکومتِ وقت ربوٰ کی حرمت کے حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ربوٰ اور سود اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کے مترادف ہے۔ حکومت پاکستان اور اس کے مقتدر ادارے اسلامی و نظریاتی ریاست میں اس جنگ کے فریق نہ بنیں اور سود کی لعنت سے وطن عزیز کو پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
  7. ملک میں پروان چڑھتی فحاشی اور عریانی، جو معاشروں کے لیے زہرِ قاتل ہوتی ہے، کے سد باب کے لیے فی الفور اقدام کیا جائے۔ پیمرا، جو ہر چھوٹی بڑی بات پر میڈیا چینلز کو نوٹس جاری کرتا ہے، اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے اور فحاشی و عریانی کے رواج پاتے کلچر کو لگام ڈالے۔
  8. یہ اجلاس میڈیا یا چینلز سے بھی گزارش کرتا ہے کہ وہ معاشرے کی روایات، اسلامی تعلیمات کا پاس رکھتے ہوئے اپنی نشریات میں ایسی چیزوں سے اجتناب برتیں جو ہماری نسل کی بے راہ روی کا باعث بن سکتی ہیں۔
  9. حکومت کے ذمہ دار ادارے سوشل میڈیا کے ذریعے رواج پانے والی معاشرتی بے راہ روی اور توہین کے واقعات کا بھی نوٹس لیں۔ ایسی سائٹس، بلاگز اور سوشل میڈیا چینلز کو لگام ڈالی جائے جو ہماری نوجوان نسل کی تباہی میں ملوث ہیں اور اس کے پیچھے موجود عناصر کی سرکوبی کی جائے۔
  10. یہ اجلاس ملک کے میڈیا چینلز سے گزارش کرتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کی نشریات میں ماہِ مقدس کی حرمت اور دینِ مبین کی تعلیمات کا پاس رکھتے ہوئے ایسے پروگراموں سے اجتناب برتیں جن میں رمضان المبارک کی روح کے خلاف مواد نشر کیا جاتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا چینلز کے ذمہ داران رمضان المبارک کی حقیقی فیوض و برکات سے فیض یاب کرنے کے لیے اس ماہ کی حقیقی روح کے مطابق پروگرام نشر فرمائیں گے۔‘‘
  11. اس موقع پر راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں درج ذیل نکات پر زور دیا۔

    اسلامی قوانین کے تحفظ کے مختلف دائرے اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔

  • عالمی ماحول میں اسلامی قوانین و احکام آج کے بین الاقوامی نظام کے حوالہ سے اعتراضات کی زد میں ہیں اور ہمہ جہت فکری و تہذیبی یلغار جاری ہے۔
  • پاکستان کی اسلامی شناخت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف پروپیگنڈہ بلکہ بھرپور لابنگ کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مہم جاری ہے۔
  • ہم پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالہ سے پیش قدمی کی بجائے دفاع کی پوزیشن پر کھڑے ہیں اور وہ بھی صحیح طور پر نہیں ہو پا رہا۔
  • جو قوانین اس وقت نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
  • اسلامی احکام و قوانین اور اقدار و روایات کے بارے میں میڈیا اور تعلیم کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے نئی نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں۔
  • ریاستی ادارے دستور کے اسلامی تقاضوں کا تحفظ کرنے کی بجائے سیکولر عناصر اور بین الاقوامی منفی مہم کو مسلسل سپورٹ کر رہے ہیں۔
  • دینی حلقوں، بالخصوص علماء، خطباء اور تعلیمی اداروں میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی معروضی صورتحال سے بے خبری بلکہ لاتعلقی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

ان حالات میں جہاں عوامی سطح پر بیداری کی تحریک ضروری ہے وہاں تہذیبی، علمی اور فکری کشمکش کا صحیح طور پر ادراک کر کے قوم کی مؤثر راہنمائی کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔