چیمپئنز ٹرافی ۔ ایک سو اَسی نفلوں کی مار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جون ۲۰۱۷ء

مجھے کھیلوں سے اس حد تک کبھی دلچسپی نہیں رہی جو معمولات اور ضروری کاموں پر اثر انداز ہو مگر بہرحال کچھ نہ کچھ تعلق ضرور چلا آرہا ہے۔ لڑکپن کے دور میں گکھڑ میں میرے ہم عمر دوستوں نے کرکٹ کی دو ٹیمیں بنا رکھی تھیں یونین کلب اور آزاد کلب کے نام سے۔ ان میں سے ایک کے کپتان محمد یونس بھٹی اب مرحوم ہو چکے ہیں جبکہ دوسری ٹیم کے کپتان محمد عبد اللہ خالد بقید حیات ہیں۔ دونوں میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور خالد صاحب کی صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ٹیم کا حصہ تھا اور کرکٹ کھیلا کرتا تھا مگر یہ سلسلہ کچھ عرصہ ہی چل سکا پھر ذہن کیرم بورڈ کی طرف مڑ گیا اور کافی عرصہ اس کا شغل رہا، اس کے بعد چند سال لڈو بھی کھیلی۔ البتہ قومی سطح پر کھیلوں سے اس حد تک دلچسپی ضرور باقی رہی کہ پاکستان کا قومی سطح پر کسی ملک سے مقابلہ ہو تو معلومات رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، پاکستانی ٹیم کی کامیابی کے لیے دعا کرتا ہوں اور کامیابی مل جائے تو خوشی کا اظہار بھی کرتا ہوں۔

یہ فطری بات ہے کہ دو قوموں یا گروہوں کے درمیان مقابلہ ہو تو کسی ایک طرف ہمدردی ضرور ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے روم و فارس کی باہمی جنگوں کا ذکر کیا ہے، یہ مسلمانوں کا مکی دور تھا۔ روم اور فارس دنیا کی دو بڑی قوتیں تھیں جن کی آپس میں محاذ آرائی رہتی تھی اور شام، عراق اور بحرین کے علاقے میدان جنگ تھے۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے مجوسیوں کے ساتھ تھیں جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کے اہل کتاب کے ساتھ تھیں۔ یہ قوموں کی نفسیات کا حصہ ہے کہ لڑائی کہیں اور ہو رہی ہوتی ہے جس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن ہمدردیوں کے باعث باہمی محاذ آرائی کا نفسیاتی ماحول دوسرے علاقوں میں بھی بن جاتا ہے۔ فارس کے مجوسی پیش رفت کرتے تو مکہ کے مشرکین مسلمانوں کو طعنے دیتے اور جب روم کے اہل کتاب کو کہیں کامیابی مل جاتی تو مسلمان اپنی خوشی کا اسی طرح مشرکین کے سامنے اظہار کرتے۔ حالانکہ رومی اور فارسی دونوں کافر تھے اور بعد میں مسلمانوں کی دونوں سے جنگیں ہوئیں لیکن اس وقت کے حالات میں وہ بہرحال رومیوں کے ساتھ سمجھے جاتے تھے بلکہ ہمددی اور دلچسپی کی حد تک ان کے ساتھ تھے بھی۔

ایک موقع پر فارسیوں نے رومی علاقوں پر ایسی چڑھائی کی کہ رومی دارالحکومت قسطنطنیہ کے قریب جا پہنچے۔ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو طعنے دیے جس سے مسلمان پریشان ہوئے۔ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپؐ نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ کوئی بات نہیں چند سالوں کے بعد رومیوں کو دوبارہ غلبہ حاصل ہوگا۔ اس پر قرآن کریم کی سورۃ الروم نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا کہ تسلی رکھو رومی چند سالوں کے بعد فارسیوں پر غالب آئیں گے اور تم مسلمانوں کو بھی خوشی کا دن دیکھنا نصیب ہوگا۔ یہ باہمی نفسیاتی کشمکش اس عروج کو پہنچی کہ تفسیر ابن کثیرؒ میں مذکور روایات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قریش کے بعض سرداروں کے ساتھ باقاعدہ شرط باندھ لی۔ اس وقت تک جوئے اور شرط وغیرہ کے ناجائز ہونے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے اس لیے عام معمول کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ شرط لگائی اور پھر جیتی بھی۔

یہ صورتحال تو غیر مسلم قوموں کے باہمی مقابلہ میں کسی ایک طرف دلچسپی کی ہے لیکن اگر مقابلہ میں خود اپنی قوم اور ملک کھڑا ہو تو یہ دلچسپی کہیں زیادہ ہو جاتی ہے اور کھیل کا مقابلہ بھی باقاعدہ محاذ جنگ بن جاتا ہے جیسا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے مقابلہ میں دونوں طرف یہ کیفیت دیکھنے میں آتی ہے۔ چنانچہ مجھے تو ان مقابلوں سے اسی حد تک دلچسپی ہوتی ہے جس کا ذکر کر چکا ہوں مگر میری اہلیہ اور پوتوں کی دلچسپی ایسے موقعوں پر قابل دید ہوتی ہے۔ بڑا پوتا طلال خان جو کہ عمار خان کا بیٹا ہے، ماشاء اللہ حافظ قرآن ہے اور اس رمضان میں ہم گھر والوں کو گھر میں ہی تراویح میں قرآن کریم سنا رہا ہے۔ جب یہ چھوٹا تھا اور اس کے پردادا جان حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ حیات تھے تو ایک دن ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بستر علالت پر تھے، اس کی ولادت پر اسے گھٹی بھی پردادا محترم نے دی تھی، انہوں نے اس سے نام پوچھا تو اس نے بتایا ’’طلال آفریدی‘‘۔ انہوں نے تعجب سے اس کی والدہ کی طرف دیکھا تو اس نے وضاحت کی کہ کرکٹ کا شوقین ہے اور شاہد آفریدی کو پسند کرتا ہے اس لیے اپنے نام کے ساتھ اس نے آفریدی لگا رکھا ہے۔ پردادا نے فرمایا کہ بیٹا ہم آفریدی نہیں ہے اس لیے اپنے نام سے یہ نسبت ہٹا لو چنانچہ اس کے بعد اس نے یہ لفظ ترک کر دیا۔

میرے تین پوتے ہیں، طلال خان، ہلال خان اور ابدال خان جن کی عمریں ترتیب سے ۱۵ سال، ۱۲ سال اور ۹ سال ہیں۔ دوسرے دونوں بھی قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں جبکہ کرکٹ کے ساتھ تینوں کی دلچسپی یکساں ہے جس میں انہیں اپنی دادی کی سرپرستی حاصل ہے۔ حالیہ چیمپئنز ٹرافی کے مقابلوں میں اس حوالہ سے ہمارے گھر میں ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر آمادہ کیا۔ پاکستان نے برطانیہ سے سیمی فائنل جیتا تو باقی سب لوگ خوش تھے مگر طلال خان کی دادی افسردہ ہوئی، وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ انگلینڈ سے ہار جاتا تو خیر تھی اب فائنل میں پہنچ کر بھارت سے ہارے گا تو زیادہ کوفت ہوگی۔ ہمارے گھر میں ٹی وی تو ہے نہیں اس لیے فائنل مقابلہ کے دن دادی اور پوتے انٹرنیٹ پر میچ میں مصروف رہے اور ان کا چچا عامر خان جو اپنے کام میں مصروف تھا وقفہ وقفہ سے صورتحال پوچھتا رہا۔ عصر کے بعد مجھے افطاری کے پروگرام کے لیے شہر سے باہر جانا تھا وہاں مجھے پاکستان کے جیتنے کی خبر مل گئی۔ میرا چھوٹا بیٹا ناصر الدین خان عامر رات سونے سے قبل مجھے دوائی کی خوراک دیتا ہے اور کچھ ٹانگیں وانگیں بھی دباتا ہے، اس نے بتایا کہ آج بھارت ایک سو اسی نفلوں سے ہار گیا ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا ایک سو اسی نفلوں سے؟ کہنے لگا کہ امی جان نے نذر مان لی تھی کہ بھارت جتنے رنز سے ہارے گا اتنے نفل پڑھوں گی، اب انہیں کیا پتہ تھا کہ بھارتی ٹیم اس میچ میں اتنی نکمی ثابت ہوگی۔ رات کو سب سے چھوٹا پوتا ابدال خان معصوم سی ہمدردی کے ساتھ دادی سے کہہ رہا تھا کہ ’’دادو جان! آپ نفل بیٹھ کر پڑھ لینا‘‘۔ اس نے کہا کہ بیٹا میں تو پہلے ہی بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھتی ہوں۔