گریڈ سسٹم نہیں پورا انتظامی ڈھانچہ!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اپریل ۱۹۸۲ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے گزشتہ روز پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گریڈ سسٹم کی خرابیوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ تنخواہوں میں گریڈ سسٹم کی وجہ سے ملازمین کی توجہ صرف گریڈ پر رہ گئی ہے اور ملک کو اس سے بہت نقصان پہنچا ہے۔

گریڈ سسٹم کی موجودہ صورت دراصل مختلف محکموں میں تنخواہوں کے تفاوت کو ایک دائرہ میں لانے کے لیے طے کی گئی تھی اور تنخواہوں کے بے شمار معیاروں کو ختم کر کے ۲۲ گریڈ قائم کیے گئے تھے۔ جس کا مقصد تنخواہوں کے تفاوت کو ایک حد میں لانا اور اس معاملہ میں نظم پیدا کرنا تھا۔ لیکن گریڈ سسٹم کے نفاذ کے بعد سے اب تک کی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو مذکورہ مقاصد اور فوائد سے قطع نظر ایک بڑی خرابی یہ پیدا ہوئی ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے مقام و مرتبہ کے تعین کا دارومدار اس کی اہلیت، کارکردگی، محنت اور اخلاص کی بجائے صرف اس کے گریڈ پر رہ گیا ہے۔ اور اسی لیے ملازمین کی اکثریت گریڈ کی ترقی کے چکر میں الجھ کر رہ گئی ہے اور اس طرح ایک نئی دوڑ ملازمین کی کارکردگی میں رکاوٹ بن گئی ہے۔

یہاں تک تو ہم صدر مملکت کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں مگر مسئلہ صرف گریڈ سسٹم کا نہیں اور نہ ہی اس جزوی مسئلہ کو حل کرنے کی کسی کوشش سے ہمارے انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ اس انتظامی ڈھانچے کا ہے جو ہمیں آزادی کے وقت بدیسی حکمرانوں سے ورثہ میں ملا ہے اور ہم نے اسے اپنے غیر ملکی آقاؤں کی نشانی سمجھتے ہوئے ابھی تک جوں کا توں سینے سے چمٹا رکھا ہے۔ یہ انتظامی ڈھانچہ جس دور میں تشکیل پایا تھا اس دور کے تقاضے الگ تھے، وقت غیر ملکی حکمران تھے اور ان کی نوآبادیاتی حکمتِ عملی کا تقاضا تھا کہ ان کے اور ان کی رعیت کے درمیان ’’مِنی آقاؤں‘‘ کی ایک صف کھڑی رہے۔ چنانچہ نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے نے بڑی مہارت اور چابکدستی کے ساتھ ’’مِنی آقا‘‘ کا یہ کردار ادا کیا اور اس کردار کا تسلسل ابھی تک نہ صرف قائم ہے بلکہ ’’آقائیت‘‘ کے اظہار میں بھی کمی کی کوئی صورت سامنے نہیں آئی۔

ہمارے انتظامی قواعد و ضوابط، سرکاری ملازمین کے معیار زندگی اور طرز معاشرت میں شرمناک تفاوت، افسر و ملازم کی غیر ضروری تمیز، پروٹوکول کے آداب اور انتظامی افسران اور عوام کے درمیان ناقابل عبو رکاوٹیں، یہ سب نوآبادیاتی طرز انتظام کے لوازمات ہیں۔ ایک آزاد ملک اور وہ بھی اسلامی نظام و دستور پر یقین رکھنے والا ملک آخر کس طرح ان ’’نخروں‘‘ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ اسلام کو اگر ’’خلافتِ راشدہ‘‘ کے معیار پر دیکھا جائے اور اس دور کے معاشرہ کو آئیڈیل قرار دیا جائے تو عدل و انصاف کا یہ فطری نظام نہ معیار زندگی اور طرز معاشرت کے تفاوت کو قبول کرتا ہے، نہ اس طرح کے گریڈ سسٹم کا قائل ہے، نہ افسر و ملازم کی تمیز کا روادار ہے اور نہ ہی عوام اور حکام کے درمیان کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت کرتا ہے۔

اس لیے جب پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کاہر عام و خاص دعویدار ہے تو پھر انتظامی ڈھانچے کو اسلامی احکام و ہدایات سے مستثنیٰ رکھنے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اسلام کسی خاص شعبہ زندگی کے لیے چند ہدایات کا نام نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے اور اس کے اصول و ضوابط زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہیں۔ اور یہ ایک ایسی وحدت اور اکائی ہے جو کسی تقسیم اور تدریج کو قبول نہیں کرتی ہے۔ لہٰذا اگر اسلامی نظام کے ثمرات و نتائج دیکھنے کی خواہش ہے تو اسے قومی زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں اور بیک وقت جاری کرنا ہوگا، اس کے بغیر نہ اسلام نافذ ہوگا اور نہ اس کے نفاذ کے مثبت اثرات قوم کے سامنے آئیں گے۔