سپریم کورٹ اور سودی نظام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۳ء

عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ:

  1. کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟
  2. کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟
  3. کرنسی کی شرح میں کمی بیشی کی صورت میں سود کی حرمت کیسے نافذ کی جائے گی؟
  4. ’’رأس المال‘‘ یعنی اصل زر اگر کچھ عرصے کے بعد اپنی قدر کھو دے اور قرض دینے والے کو جو پیسے واپس ملیں وہ اصل سے بہت کم ہوں تو اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
  5. سودی نظام کا متبادل کیا ہے؟ وغیر ذٰلک۔

اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بنچ میں سودی نظام اور ملک میں رائج سودی قوانین کا مسئلہ سالہا سال تک زیر بحث رہا اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی طویل غور و خوض کے بعد اس سلسلہ میں ایک جامع رپورٹ پیش کر رکھی ہے۔ حتٰی کہ ایک موقع پر سابق صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان مرحوم نے جبکہ وہ وزیر خزانہ تھے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں قوم کو یہ خوشخبری سنا دی تھی کہ سود کا متبادل نظام تیار کر لیا گیا ہے اور اگلے سال کا بجٹ غیر سودی ہو گا، مگر اس کے بعد یہ ’’اگلا سال‘‘ ابھی تک نہیں آیا جبکہ جناب غلام اسحاق خان صاحب مرحوم ملک کی صدارت پر فائز ہونے کے بعد معزول ہوئے اور دنیا سے رخصت بھی ہو گئے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں آمین۔

وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کا شریعت ایپلٹ بنچ ایک بار واضح طور پر طے کر چکا ہے کہ ملک میں رائج تمام سودی قوانین قرآن و سنت کے منافی ہیں اس لیے ان کی کوئی دستوری حیثیت نہیں ہے، لیکن دس سال قبل نظرثانی کی ایک اپیل کے بعد یہ فیصلہ معطل ہو گیا تھا اور ابھی تک اس بارے میں مسلسل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

اب محترمہ حمیرا اویس شاہد نے جناب فہد احمد صدیقی ایڈووکیٹ کے ذریعے سپریم کورٹ میں اس کیس کو دوبارہ زیر سماعت لانے کے لیے رٹ دائر کی ہے جس پر ۲۱ اکتوبر سے عدالت عظمٰی میں اس حوالہ سے پیشرفت کا آغاز ہو گیا ہے۔

  • ہم اس سلسلہ میں ایک طرف تو ملک کے علمی و دینی مراکز سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ سے لاتعلق نہ رہیں اور سپریم کورٹ میں زیر بحث آنے والے سوالات کے بارے میں شرعی اصولوں اور دلائل کی روشنی میں راہنمائی کا فریضہ سنجیدگی کے ساتھ سر انجام دیں تا کہ اتمام حجت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
  • اور دوسری طرف ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے تمام طبقوں سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اسلامی اصولوں سے اعراض اور شرعی قوانین و احکام سے بے اعتنائی کی سزا پاکستانی قوم بہت بھگت چکی ہے۔ اور اگر خدانخواستہ خدائی عذاب کی بات ان کی سمجھ میں آنے والی نہیں تو کم از کم اس حقیقت کا ادراک ضرور کر لیں کہ سودی نظام نے عالمی سطح پر ملک کو بے پناہ قرضوں کے جال میں جکڑ نے، ہوشربا حد تک قومی دائرے میں وسائل کی تقسیم میں نا انصافی کو فروغ دینے اور امیر و غریب کے فرق کو زیادہ کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہے اور اس سے جتنی جلدی چھٹکارا حاصل کر لیا جائے ملک و قوم کا مفاد اسی میں ہے۔

سودی نظام اور سودی قوانین خدا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے لیے سرطان کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اس لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے اسے بچاتے چلے جانے کی روش ترک کر کے ملک کی معیشت کو غیر سودی بنیادوں پر استوار کرنے کا راستہ جلد از جلد اختیار کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمٰی میں اس مسئلہ پر ازسرِنو شروع ہونے والی یہ بحث قرآن و سنت کے اصولوں کی پاسداری اور ملعون سودی نظام کے خاتمہ کا ذریعہ ثابت ہو گی۔