موجودہ صورت حال اور افغان طالبان کا موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۴ء

امارت اسلامی افغانستان کی اعلیٰ سطحی قیادت ان دنوں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کو اپنے موقف اور پالیسیوں کے حوالہ سے بریف کرنے کے لیے ان سے رابطوں میں مصروف ہے جو ایک خوشگوار امر ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ افغان طالبان کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا طرح طرح کی خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو عموماً منفی اور کردار کشی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ خود افغان طالبان کا میڈیا محاذ اس حوالہ سے بہت کمزور ہے اور ان کے پاس اس کے وسائل بھی نظر نہیں آتے۔ اس خلا کو کسی حد تک باہمی رابطوں اور میل جول سے پر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے امارت اسلامی افغانستان کی اس تازہ مہم سے ہمیں اطمینان حاصل ہوا ہے اور ہم اس کے جاری رہنے کی امید رکھتے ہیں۔

امارت اسلامی افغانستان کے چند سینیئر راہ نماؤں کے ساتھ ان رابطوں کے دوران راقم الحروف کو بھی گفتگو کا موقع ملا ہے جس کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے۔

افغان راہ نماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیرونی عسکری جارحیت کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کا اعتراف اب عالمی سطح پر بھی ہونے لگا ہے اور یہ رائے عام ہوتی جا رہی ہے کہ نیٹو اتحاد افغانستان میں طالبان کے خلاف اس جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور اب وہ با عزت واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی مبالغہ نہیں ہے لیکن اب امارت اسلامیہ افغانستان کو ڈپلومیسی اور میڈیا کے محاذ پر جن مشکلات کا سامنا ہے اس کے لیے پاکستان کے دینی حلقوں کی توجہ اور سرپرستی ضروری ہے۔ مثلاً وسائل کی کمی ان کے لیے اپنی پوزیشن کی وضاحت اور بہی خواہوں کے ساتھ رابطوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ خصوصاً میڈیا کے شعبہ میں غلط پروپیگنڈے کا جواب جس قدر زیادہ ضروری محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ڈپلومیسی کے محاذ پر ان کا کہنا ہے کہ اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب سے بڑی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ جانے سے پہلے کسی نہ کسی طرح حامد کرزئی کو افغانستان کے ایک جائز حکمران کے طور پر تسلیم کرا لیا جائے۔ اس کے لیے لوئی جرگہ اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دینی قیادت کی اہم شخصیات کو مصالحت کے نام پر حامد کرزئی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ بٹھا کر کٹھ پتلی حکومت کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہیں جو حامد کرزئی کو جائز حکمران کی حیثیت دینے کی چال سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ گزشتہ سال کابل میں علماء کرام کی ایک بین الاقوامی کانفرنس اسی مقصد کے لیے منعقد ہوئی تھی جس میں شرکت سے انکار کر کے پاکستان کے سرکردہ علماء کرام نے اس چال کو ناکام بنا دیا تھا۔ اب پھر اسی طرح کا جال پھیلایا جا رہا ہے، اس لیے امارت اسلامی افغانستان کی علماء کرام سے یہ اپیل ہے کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں۔ طالبان راہ نماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان نے یہ جنگ مظلوموں کے سب سے بڑے ہتھیار ’’فدائی حملہ‘‘ کے ذریعہ لڑی ہے اور اس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس ہتھیار کی علی الاطلاق مخالفت اور اسے مطلقاً حرام قرار دینے کے فتوے پر ان کے تحفظات ہیں اور وہ اس میں اپنا نقصان محسوس کر رہے ہیں۔

اسی دوران طالبان راہ نماؤں کی طرف سے ایک مفصل تحریری موقف تقسیم کیا گیا ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ کالم کا دامن تنگ ہونے کی وجہ سے اس کا صرف ایک حصہ ہم اس میں پیش کر رہے ہیں، مگر اس سے قبل میں اپنی گفتگو کا مختصر خلاصہ بھی پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

راقم الحروف نے عرض کیا کہ جہاں تک افغانستان میں ہونے والے جہاد کا تعلق ہے ہم اسے افغانستان کی قومی آزادی کی جنگ اور شرعی جہاد سمجھتے ہیں۔ روسی استعمار کے خلاف ان کی جنگ بھی شرعی جہاد تھا اور امریکی استعمار کی عسکری یلغار کے خلاف ان کی مزاحمت اور جنگ بھی شرعی جہاد ہے۔ اسی طرح امارت اسلامی افغانستان نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں خلفاء راشدینؓ کی روایات کو جس طرح زندہ کیا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا میں نفاذِ اسلام کے نئے دور کا نقطۂ آغاز ہے اور ہم اس کی کامیابی کے لیے پر خلوص خواہش کے ساتھ دعا گو بھی ہیں۔

حامد کرزئی کو ہم افغانستان کا جائز حکمران تصور نہیں کرتے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلاء کے بعد افغان عوام اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ جو حکومت قائم کریں گے وہی جائز حکومت ہوگی، اس لیے حامد کرزئی یا اس کے نمائندوں کے ساتھ ان معاملات میں کسی بھی درجہ کی یک طرفہ شرکت غیر اصولی بات ہوگی۔

فدائی حملوں کے بارے میں ہمارا شروع سے یہ موقف ہے جس کا ہم کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ یہ مظلوم اور بے بس قوموں کا آخری جنگی ہتھیار ہوتا ہے جو ہر دور میں استعمال ہوتا آرہا ہے اور آج بھی بے بس مظلوموں کے لیے یہ آخری ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کسی بھی شرعی جہاد یا جائز جنگ میں اس کے استعمال پر ہمیں کوئی اشکال نہیں ہے۔ البتہ پاکستان کے مختلف حصوں میں عام آبادیوں، مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں اور مارکیٹوں میں ان خود کش حملوں کے ذریعہ جو تباہی پھیلائی جا رہی ہے، اسے ہم شرعاً درست نہیں سمجھتے اور یہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ اس لیے پاکستان کا امن و استحکام صرف پاکستانیوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام اور عالم اسلام کے بھی مفاد میں ہے اور اس میں بدامنی کا فروغ ملت اسلامیہ کے لیے باعث نقصان ہے۔ ہم ان حملوں کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں اور جائز فدائی حملوں اور ناجائز خود کش حملوں کے درمیان فرق قائم رکھنے اور اسے واضح کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر ہونے والی اس قسم کی کاروائیوں میں افغان طالبان کا کسی درجہ میں بھی کوئی حصہ نہیں ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ امارت اسلامی افغانستان ایسی کاروائیوں کی کسی طرح بھی حمایت نہیں کر رہی، لیکن میڈیا کے یک طرفہ پراپیگنڈے کی وجہ سے اور ناموں کی مشابہت کی وجہ سے جو غلط فہمیاں پھیلتی جا رہی ہیں ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس فرق کو واضح کرتے رہنا از حد ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں امارت اسلامی افغانستان کے تحریری موقف میں جو وضاحت کی گئی ہے وہ اطمینان بخش اور خوش آئند ہے، قارئین کرام اسے بھی ملاحظہ فرمالیں:

’’آخر میں امارت اسلامیہ کی پالیسی اور طریقہ کار سے اچھی طرح آگاہ کرنے کے لیے یہ چند وضاحتیں ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہمارے پاس کام کے طریقہ کار کے لیے جید علماء کی جانب سے تائید شدہ مرتب اصول اور لائحہ عمل موجود ہے۔ ہر طرح کے مسائل میں تجربہ کار شیوخ اور علماء کرام سے فتوے طلب کیے جاتے ہیں۔ آپس کے مشورے اور اطاعت کے جذبے سے ہر کام انجام دیا جاتا ہے۔ ہمارے فیصلے ہمارے جذبات کے نہیں اصولوں کے تابع ہیں۔ ہم دشمنوں کی سازشوں کی طرف متوجہ ہیں۔ دنیا کے حالات سے خود کو باخبر رکھتے ہیں۔ داخلی و خارجی سیاست میں امور کے بہتر نظم و ضبط کے لیے الگ الگ کمیٹیاں متعین کی گئی ہیں۔ ایک دوسرے کے کاموں میں بے جا مداخلت نہیں کی جاتی۔ اپنی بساط کے مطابق ہم نے کوشش کی ہے کہ کام اہل کار افراد کے سپرد کیا جائے۔ علماء کرام اور صاحب نظر لوگوں کے مشورے اور نقطہ ہائے نظر بڑی وسعت قلبی اور دل کی خوشی سے سنتے اور ضرورت کے وقت ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ ہمارے طریقۂ کار میں ہر معاملے میں بلا ضروری اور بے وقت دست اندازی اور لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نہ کسی کو دھمکانے اور نہ تاوان کی غرض سے لوگوں کو اغوا کرنے کو قانونی سمجھتے ہیں۔ اور نہ شک کی بناء پر کسی کے جان و مال کی جانب دست درازی کو جائز سمجھتے ہیں۔ مجاہد کے نام پر بھتہ خوری مجاہد کی شان نہیں سمجھتے۔ بے گناہ انسانوں کا قتل، کثیر آبادی اور مقدس مقامات پر ہدف کی تعیین کے بغیر حملے ہمارا کام نہیں اور نہ ہم کسی اور کو ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عزت، ذلت، کامیابی اور ناکامی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمارے ساتھ اس وقت شامل ہوگی جب ہم اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے۔ اور اس کے احکام پر عمل کریں گے۔ اللہ کی مخلوق کو اذیت نہ دیں۔ لہٰذا تمام علماء کرام، صاحب نظر لوگوں اور اہل خیر سے ہماری توقع ہے کہ کچھ خود سر یا دشمن کے انٹیلی جنس اداروں کے پنجوں میں جکڑے ہوئے نام نہاد مجاہدین کی نازیبا حرکتوں کو امارت اسلامیہ کی جانب منسوب نہ کریں۔ تمام وہ اعمال جو شریعت کے اصولوں سے متصادم ہیں ہماری جانب سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور اگر ہماری صف میں کوئی ایسا کرے گا تو اسے شرعی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ہمارے مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے ان ناپاک امراض سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ایسے نا مناسب اور ناجائز امور کی انجام دہی کے بعد اگر کوئی شخص اپنی نسبت امارت اسلامیہ کی جانب کرتا ہے یا محترم امیر المومنین کو اپنا قائد کہتا ہے تو یہ محض نام کا ناجائز استعمال ہے۔ ایسے لوگ امارت اسلامیہ کے مبارک نام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو لوگ امارت اسلامیہ سے مربوط ہوتے ہیں وہ امارت اسلامیہ کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ اور امارت اسلامیہ کی پالیسی یہی ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے۔ اگر کوئی اس سے سرتابی کرتا ہے تو اس کا امارت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی امارت اسلامیہ ایسے شخص کو مجاہد کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم اور آپ کو تمام بے اطاعت، جاہ طلب اور نا اہل لوگوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔‘‘ (۳۰ دسمبر ۲۰۱۳ء)

درجہ بندی: