حضرت مولانا عزیر گلؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اپریل ۲۰۰۶ء

آزادیٔ ہند کے عظیم مجاہد مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں شیر گڑھ مردان میں منعقد ہونے والا آج کا سیمینار اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نئی نسل کو ان عظیم اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں سے واقف کرانے کی ایک کوشش ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلسل جنگ لڑی اور جن کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ آج یہ خطہ اسلامی روایات اور دینی حمیت کے امین کی حیثیت سے پورے عالم اسلام میں نمایاں نظر آرہا ہے اور جسے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اس خطے کی جنگ آزادی کی تاریخ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا نام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کا شمار تحریک حریت کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کے تذکرہ کے بغیر اس تاریخ کا بنیادی باب مکمل نہیں ہو سکتا۔ وہ دیوبند کے قصبہ میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے اس دینی مدرسہ کے پہلے طالب علم تھے جو بعد میں دارالعلوم دیوبند کے نام سے دنیا میں متعارف ہوا اور جسے آج بھی جنوبی ایشیا میں دینی تعلیم، اسلامی حمیت اور مذہبی ثقافت کا سب سے بڑا سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام ۱۸۶۶ء میں بظاہر دینی علوم کی حفاظت و ترویج کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس دینی درسگاہ نے قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم کی حفاظت اور تعلیم و ترویج میں جو شاندار کردار ادا کیا اس کے مظاہر ان ہزاروں دینی مدارس کی صورت میں نظر آرہے ہیں جو جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں آج پورے وقار اور عزم کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے فروغ اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ لیکن یہ ہدف صرف تعلیم و تدریس تک محدود نہیں تھا بلکہ مسلم امہ کی عظمت رفتہ کی بحالی اور وطن کی حریت و استخلاص اس کی اصل منزل تھی جس کے لیے اس درسگاہ اور اس کی معاون ہزاروں درسگاہوں نے عزم و استقلال اور جوش و ولولہ سے بہرہ ور کارکنوں اور رہنماؤں کی کھیپ مہیا کی اور امت مسلمہ کو عزیمت و استقامت کے ساتھ آزادی اور اسلامی تشخص کی بحالی کا راستہ دکھایا۔

مولانا عزیر گلؒ انہی حضرت شیخ الہند کے رفیق کار اور معتمد خاص تھے جنہوں نے اپنے دور میں آزادیٔ وطن کی اس جدوجہد کی نہ صرف آبیاری کی بلکہ عملاً خود آگے بڑھ کر قیادت فرمائی۔ اس لیے مولانا عزیر گل کے مشن اور مقام کو سمجھنے کے لیے حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد سے متعارف ہونا ضروری ہے۔ ایک دور وہ تھا جب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی دارالعلوم دیوبند سے سندِ فراغت حاصل کر کے اسی مادر علمی میں ایک عرصہ تک تعلیمی و تدریسی خدمات میں مصروف رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اپنے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ تحریک آزادی کے لیے بھی ان کے روابط بڑھتے رہے۔ اور وہ مسلسل اس کوشش میں تھے کہ ملک میں جلد از جلد ایسا ماحول پیدا ہو کہ وہ برطانوی استعمار کے جابرانہ تسلط کے خلاف علم بغاوت بلند کر سکیں۔ جب تک ان کی یہ سرگرمیاں درپردہ رہیں بات آسانی سے آگے بڑھتی رہی لیکن جونہی انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے شاگردوں، عقیدت مندوں اور خیر خواہوں کی اتنی کھیپ مہیا کر چکے ہیں جو آزاادی کی کسی نئی عملی جدوجہد کی بنیاد بن سکتی ہے تو انہوں نے اپنے عزائم کا کھلم کھلا اظہار کرنا شروع کر دیا اور اس سے خالص تعلیمی اور تدریسی ماحول میں ارتعاش کی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ دارالعلوم دیوبند کے منتظمین جو ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں سے لاتعلق رہتے ہوئے خالصتاً تعلیمی اور تربیتی ماحول کو قائم رکھے ہوئے تھے، انہیں اس مرحلہ پر تشویش ہوئی اور یہ خطرہ محسوس ہوا کہ جو کچھ وہ امن و سلامتی کے ماحول میں کر پا رہے ہیں وہ بھی کہیں زد میں نہ آجائے۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلمیذ رشید مولانا سید مناظر احسنؒ گیلانی کی سوانح حیات ’’حیات گیلانی‘‘ میں مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اس منظر کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ

’’کہنا چاہیے کہ پھر وہی جذبہ جو مولانا مناظر احسن گیلانی کو ٹونک سے اجمیر تک لے گیا تھا وہی بالآخر دیوبند کھینچ لایا اور کون نہیں جانتا کہ اس زمانے میں دیوبند آزادی کی جنگ کا مرکز تھا، شیخ الہند بقید حیات تھے اور ریشمی رومال کی تحریک شباب پر تھی۔ اسی جذبے نے آپ کو شیخ الہند کے قریب کیا اور اس وقت کے نائب مہتمم مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے آپ کو اپنا وکیل بنا کر شیخ الہند رحمہ اللہ کی خدمت میں بھیجا۔ مولانا رحمہ اللہ نے ’’بیتے ہوئے دن‘‘ میں اس واقعہ کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں، ایک دن مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فقیر کو یاد کیا اور کہا کہ تم شیخ الہند سے مل کر دریافت کرو کہ واقعی سیاسیات میں حضرت والا کا صحیح مسلک کیا ہے؟ مولانا یہ سوال لے کر حضرت شیخ الہند کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور جو کہا گیا تھا وہ پوچھا تو شیخ الہند نے جواب میں فرمایا کہ دیوبند کا مدرسہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی کی تلافی کے لیے قائم کیا گیا تھا اور آخر میں فرمایا کہ تعلیم و تعلم، درس و تدریس جن کا مقصد اور نصب العین ہے میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں لیکن خود اپنے لیے تو اسی راہ کا انتخاب کیا ہے جس کے لیے یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا، فرائض الٰہیہ جس حد تک بن پڑا ادا کرتا رہا، اب آخری کام رہ گیا ہے جسے آخری حد تک کر گزروں گا۔ چنانچہ اس کے ڈیڑھ دو سال بعد حج کے ارادہ سے حجاز کا سفر کیا اور اسی سفر حجاز میں مکہ مکرمہ سے گرفتار کر کے مالٹا پہنچائے گئے اور وہاں سے ساڑھے تین سال بعد رہائی ملی۔‘‘ (حیات گیلانی ص ۲۴۲)

حضرت شیخ الہندؒ کی یہ تحریک جو ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے تاریخ کا حصہ بنی، ان کے اسی عزم کا مظہر تھی اور انہوں نے اس کے لیے نہ صرف متحدہ ہندوستان کے اندر آزادی کے متوالوں کو حریت و استخلاص کی فیصلہ کن جدوجہد کے لیے تیار کیا بلکہ عالمی سطح پر برطانوی استعمار کے مخالفوں جرمنی اور جاپان کے ساتھ ساتھ ترکی کی خلافت عثمانیہ اور افغانستان کے ساتھ بھی روابط کو استوار کیا اور انہیں اس جدوجہد میں متحدہ ہندوستان کے حریت پسندوں کی مدد کے لیے آمادہ کیا۔ لیکن ابھی یہ تانا بانا بنا جا رہا تھا اور اسی سلسلے میں شیخ الہند حجاز مقدس میں مقیم تھے جو اس وقت تک ترکی کی خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا کہ اچانک مکہ مکرمہ کے عثمانی گورنر شریف مکہ حسین ہاشمی نے برطانوی استعمار کے ساتھ ساز باز کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا اور اسی کشمکش میں خلافت عثمانیہ کی مخالفت نہ کرنے پر شیخ الہندؒ کو ان کے رفقاء سمیت گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا۔

مولانا عزیر گلؒ اس سفر میں حضرت شیخ الہندؒ کے معتمد خاص اور خادم کی حیثیت سے ان کے ہمراہ تھے اور گرفتاری کے بعد مالٹا کے جزیرہ کی ساڑھے تین سالہ نظر بندی میں بھی ان کے ساتھ رہے۔ مولانا عزیر گلؒ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس تحریک کی تیاری میں قبائل کے ساتھ روابط کے لیے وہ شیخ الہند کے خاص نمائندے تھے اور اس حوالے سے بہت سے رازوں کے امین تھے لیکن مزاج کے اعتبار سے شہرت سے دور بھاگنے والے بزرگ تھے۔ اس لیے تحریک آزادی کے اس نازک مرحلے کے بہت سے راز ہائے درون خانہ ان کے سینے میں ہی ان کے ساتھ چلے گئے ہیں۔ مجھے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی ادارت کے دور میں دو تین مرتبہ مولانا عزیر گل کی خدمت میں ان کے گاؤں میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک بار تو ایسا اتفاق ہوا کہ میں جب ان کے گاؤں ’’سیرے‘‘ پہنچا تو ان کے بھائی مولانا عبد الحق نافع گلؒ کا انتقال ہو چکا تھا، نماز جنازہ کی ادائیگی اور قبر میں ان کی تدفین کے بعد قبر پر دعا ہو رہی تھی، میں اس دعا میں شریک ہوا۔

مولانا نافع گلؒ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ میں رہے ہیں، میرے چچا مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم ایک مشفق استاد کے طور پر ان کا تذکرہ کرتے رہتے تھے مگر میں ان کی زیارت نہ کر سکا تھا۔ ان حاضریوں کے موقع پر میں نے ماضی کے واقعات کے حوالہ سے مولانا عزیر گلؒ کو متعدد بار کریدنے کی کوشش کی، ایک دفعہ وہ بے تکلف بھی ہوئے مگر میرے ہاتھ میں قلم دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے حوالہ سے تاریخ بیان کی جائے اور تحریک آزادی کے واقعات کا ان کی روایت سے تذکرہ کیا جائے۔ البتہ اپنے محبوب استاد شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا تذکرہ انتہائی والہانہ انداز میں کرتے اور ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کے چہرے کی کیفیت بھی اور ہی ہو جاتی تھی۔ مجھے جب ان کی خدمت میں جانا ہوتا، مالاکنڈ میں صاحبزادہ خالد جان کے پاس پہنچ جاتا جو جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سابق سیکرٹری جنرل صاحبزادہ عبد الباری جانؒ کے بھتیجے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم کارکن ہیں۔ اب غالباً جمعیۃ کی طرف سے سینٹ کے ممبر ہیں، وہ مجھے لے کر مولانا عزیر گلؒ کے پاس پہنچ جاتے۔ ایک آدھ رات قیام ہوتا اور مختلف حوالوں سے گفتگو ہوگی، قلم کو حرکت دینے کی اجازت نہ تھی اس لیے یہ ملاقاتیں ذاتی استفادہ اور زیارت تک محدود رہیں اور میں کوشش کے باوجود انہیں محفوظ نہیں رکھ سکا۔ یہ ہمارے اکابر کی بے نفسی تھی ورنہ تحریک آزادی میں کردار کے حوالہ سے مولانا عزیر گلؒ اس مقام کے بزرگ تھے کہ ان کے حالات و کردار پر کئی ضخیم کتابیں شائع ہو سکتی تھیں مگر خود کو چھپانے اور اپنا اجر صرف اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کے ذوق نے انہیں کئی پردوں میں چھپا رکھا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں جو کچھ تھے شیخ الہندؒ تھے اور میں صرف ان کا ایک خادم تھا۔ اس لیے جتنا تذکرہ بھی کرنا ہے شیخ الہندؒ کا کرو اور ان کی خدمات اور جدوجہد سے لوگوں کو متعارف کراؤ۔

میں حضرت مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں سیمینار کا اہتمام کرنے والے دوستوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکرگزار بھی ہوں کہ ان کے یاد دلانے پر ذہن میں ماضی کی کچھ حسین یادیں تازہ ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں بلند تر مقام سے نوازیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔