سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ و ۱۶ اپریل ۱۹۹۹ء

سنی شیعہ کشیدگی اور باہمی قتل و قتال کی افسوسناک صورتحال کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں علماء کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے بعد ابتدائی سفارشات کی جو شکل سامنے آئی ہے اس ے اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کمیٹی اپنے کام میں سنجیدہ ہے بلکہ کمیٹی قائم کرنے والے حضرات بھی اس سلسلہ میں کوئی عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔ یہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان نے قائم کی ہے اور اس میں سنی شیعہ کشیدگی کے موجودہ راؤنڈ کے دو متحارب گروہوں تحریک جعفریہ اور سپاہ صحابہؓ کے سربراہوں کے علاوہ مختلف دینی مکاتب فکر کے ذمہ دار حضرات شامل ہیں۔ اگرچہ ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کمیٹی پر اعتراض کیا ہے کہ یہ کمیٹی جماعتوں کی نمائندہ نہیں ہے اس لیے ان کے بقول یہ کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گی اور ان کے خیال میں ملی یکجہتی کونسل کو دوبارہ متحرک کرنے کی ضرورت ہے لیکن مولانا موصوف کا یہ اعتراض بوجوہ درست نہیں ہے:

  1. اولاً اس لیے کہ ملی یکجہتی کونسل اس مسئلہ میں ہاتھ ڈال کر ناکام ہو چکی ہے اور اسے یہ گتھی سلجھانے کا کوئی راستہ نہیں ملا اس لیے اس سلسلہ میں دوبارہ اسے متحرک کرنے کی بات ’’آزمودہ را آزمودن‘‘ والا قصہ ثابت ہوگا۔
  2. ثانیاً اس لیے کہ سنی شیعہ کشیدگی کے حالیہ راؤنڈ میں اصل فریق دو ہی ہیں: سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ، اس لیے جب دونوں کے سربراہ کمیٹی میں شریک ہیں تو حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کمیٹی کی کوششیں ہی کارگر ہو سکیں گی۔
  3. ثالثاً اس لیے کہ کمیٹی میں اگرچہ بہت سی جماعتوں کو نمائندگی حاصل نہیں ہے لیکن اس کمیٹی میں شامل شخصیات مذہبی مکاتب فکر کی علمی اور دینی نمائندگی کے لحاظ سے بہرحال مؤثر ہیں۔
  4. رابعاً اس لیے کہ یہ مسئلہ جماعتوں کا نہیں بلکہ مذہبی مکاتب فکر کا ہے ورنہ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادت کو اس کشمکش سے لاتعلق رہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اور ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس کشیدگی کے مسلسل بڑھتے چلے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادت نے اسے اپنا مسئلہ نہیں سمجھا اور کشمکش کو آگے بڑھنے کے لیے ’’فری ہینڈ‘‘ دے دیا ورنہ صورتحال شاید اتنی زیادہ خراب نہ ہوتی اور اسے کہیں نہ کہیں بریک ضرور لگ جاتی۔

اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کمیٹی میں نمائندگی نہ پانے والی جماعتوں کو، خواہ وہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اسے ایشو نہیں بنانا چاہیے اور ملی یکجہتی کونسل کی آڑ میں کوئی متوازی محاذ کھڑا کرنے کی بجائے اس کمیٹی کے ساتھ تعاون کی کوئی راہ نکالنی چاہیے ورنہ امید کا یہ پہلو بھی مایوسی کی تاریکیوں کی نذر ہو جائے گا اور اس کے بعد شاید جلد کوئی امید افزا صورتحال سامنے نہ آسکے۔

ان تمہیدی گزارشات کے بعد نفسِ مسئلہ کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ جب مسئلہ کشیدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کا ہے تو پھر دیانت و امانت کا تقاضہ ہے کہ قومی بحث و مباحثہ کے دوران اس سلسلہ میں جو بات بھی محسوس ہو رہی ہو اسے سامنے لایا جائے اور معاملہ کے ہر پہلو کی اچھی طرح چھان پھٹک کی جائے تاکہ کوئی کانٹا ایسا باقی نہ رہ جائے جو اس موقع پر چنا نہ جا سکے اور بعد میں کسی وقت الجھن کا باعث بن جائے۔ اس جذبہ اور احساس کے ساتھ سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب و محرکات کے بارے میں کچھ گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

سنی شیعہ کشمکش اور کشیدگی کا پس منظر تو تاریخی اور قدیمی ہے کہ قرآن کریم، خلفاء راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں دونوں گروہوں کے عقائد و نظریات میں اتنا واضح فرق موجود ہے کہ اس فرق کی موجودگی میں دونوں میں سے کسی ایک کا بھی دوسرے فریق کو مذہبی طور پر قبول کرنا خود اپنے مذہب کے اصولوں کو رد کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے یہ معاملہ سرے سے خارج از بحث ہے کہ مذہبی عقائد کے حوالہ سے دونوں میں مفاہمت کی کوئی صورت نکل سکے اور اس ضمن میں اگر کوئی کوشش کی گئی تو وہ کارِ لاحاصل کے سوا کوئی مقام حاصل نہیں کر سکے گی۔ البتہ اس فرق کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں کے درمیان حدِ فاصل کے اعتراف کے ساتھ باہمی تعلقات کار اور مشترکہ معاملات میں شرکت پر گفتگو ہو سکتی ہے اور اس وقت اسی نکتہ پر گفتگو کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ماضی میں تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور اس کے علاوہ نفاذِ اسلام، ختم نبوت اور دیگر قومی و دینی تحریکات میں دونوں فریق مشترکہ جدوجہد میں شریک ہوتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی تعاون کی راہ پر چلتے رہے ہیں۔ اس لیے ان اسباب کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس صورتحال میں بگاڑ پیدا کیا ہے، بہت سے معاملات میں باہمی تعاون و اشتراک کرنے والے دو گروہوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور باہمی تصادم کی یہ کیفیت پیدا کر دی ہے کہ ملک کے ایک بڑے حصے میں آج کسی مسجد میں پانچ وقت کی نماز کی باجماعت ادائیگی بھی مسجد کے دروازے بند کرنے اور مسلح پہرہ دار کھڑا کرنے کے سوا ممکن نہیں رہی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کشیدگی میں بہت سے دیگر عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں اور پاکستان میں امن و امان کو خراب کرنے میں دلچسپی رکھنے والی بعض بین الاقوامی ایجنسیوں کے علاوہ مقامی سطح پر غنڈہ عناصر اور قانون شکنی کے عادی بے شمار افراد نے اس کشمکش کے شیڈ میں پناہ لے رکھی ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود بنیادی عنصر وہی سنی شیعہ کشیدگی ہے اور حالات کو خراب کرنے کے خواہشمند خواہ کہیں سے آئیں انہیں خام مال یہیں سے فراہم ہو رہا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اسباب و عوامل اور محرکات کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ان وجوہ کو تلاش کیا جائے جن کے باعث باہمی تعاون و اشتراک کی وہ فضا یکسر ختم ہو گئی ہے جو اب سے صرف دس برس پہلے تک نہ صرف موجود تھی بلکہ دینی تحریکات میں اس کے فوائد بھی حاصل ہو رہے تھے۔

اس سلسلہ میں اگر ایک دو ذاتی واقعات بھی ریکارڈ پر لے آؤں تو شاید نامناسب نہ ہو۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے ابتدائی دور کی بات ہے کہ راقم الحروف مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں باغ جناح کی جانب اپنے کمرہ کی کھڑکی کھول کر اس کے ساتھ بیٹھا تھا کہ گلی سے مولانا مفتی جعفر حسین صاحب چند ساتھیوں کے ہمراہ گزرے۔ مفتی صاحب اہل تشیع کے قومی سطح پر بہت بڑے عالم تھے اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے بانی و سربراہ تھے، انہوں نے گلی سے گزرتے ہوئے مجھے دیکھا تو جامع مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں آگئے اور میں نے اٹھ کر ان کا خیرمقدم کیا اور احترام سے بٹھایا۔ مفتی صاحب کہنے لگے کہ میں ماضی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اوپر آگیا ہوں، میں اس کمرہ میں چار سال تک پڑھتا رہا ہوں اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ میرے استاذ ہیں۔ وہ تھوڑی دیر بیٹھے اور اپنے دورِ طالب علمی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ اب سوچتا ہوں کہ دس پندرہ برس میں صورتحال کس قدر بدل گئی ہے کہ ان باتوں کا اب تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح میں اپنی پہلی گرفتاری کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو ایک شیعہ اے ایس آئی کے ہاتھوں ہوئی اور اس وضعداری اور احترام کے ساتھ کہ اب شاید کسی کو اس کہانی پر یقین ہی نہ آئے۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ملک گیر کنونشن کیا جس کی پاداش میں مسجد نور کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان ہوا۔ اس کے خلاف ایک تحریک چلی، سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور حکومت مسجد کا قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس تحریک سے قطع نظر کنونشن کے مقررین کے خلاف ۱۶ ایم پی او کے تحت تین مقدمات درج ہوئے جن میں مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا محمد شاہ امروٹیؒ اور مولانا ایوب جان بنوریؒ سمیت تیس سے زائد سرکردہ علماء کرام شامل تھے اور میرا نام بھی ان میں شامل تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ان کیسوں میں قبل از گرفتاری ضمانتیں نہ کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس لیے میں بھی پابند تھا کہ ضمانت نہ کراؤں جبکہ میں مقامی طور پر رہنے والا تھا اور ہر وقت پولیس چوکی گھنٹہ گھر کی نظروں میں تھا۔ پولیس چوکی کے اے ایس آئی غضنفر شاہ نے جو شیعہ تھا خود مجھے جامع مسجد میں آکر کہا کہ آپ کے خلاف مقدمہ ہے اس لیے آپ ضمانت کرالیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہم نے ضمانت نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔ ہفتہ عشرہ کے بعد پھر آیا اور ضمانت کا تقاضہ دہرایا، میں نے وہی جواب دہرایا اور وہ پھر واپس چلا گیا۔

اس سے کچھ روز بعد کی بات ہے کہ راقم الحروف اور جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما ڈاکٹر غلام محمد صاحب جی ٹی روڈ پر جا رہے تھے کہ وہی اے ایس آئی سامنے سے آرہا تھا۔ اس نے ملتے ہی پوچھا کہ مولوی صاحب ضمانت نہیں کرانی؟ میں نے جواب دیا، نہیں۔ اس نے کہا کہ آئیں پھر چلیں (یعنی آپ کو گرفتار کر رہا ہوں)۔ ڈاکٹر غلام محمد صاحب نے اس سے کہا کہ اللہ کے بندے تین روز کے بعد عید ہے اس لیے عید کے بعد چلیں گے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے عید کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی آپ پولیس چوکی میں آجائیں۔ اس وقت تھانہ باغبانپورہ نہیں ہوا کرتا تھا اور وہاں چوکی پولیس گھنٹہ گھر ہوا کرتی تھی۔ عید کی چھٹیاں گزرنے کے بعد میں اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب حسبِ وعدہ چوکی پہنچے، اس شیعہ اے ایس آئی نے میری گرفتاری ڈالی اور کہا کہ مولوی صاحب! مجھے آپ کو رات حوالات میں رکھتے ہوئے شرم آتی ہے، آپ گھر چلے جائیں اور صبح ۹ بجے سٹی مجسٹریٹ اقبال بوسن کی عدالت میں آجائیں میں وہاں سے ریمانڈ لے کر آپ کو جیل میں چھوڑ آؤں گا۔ چنانچہ میں چوکی پولیس میں گرفتاری ڈلوا کر گھر چلا گیا، دوسرے روز ڈاکٹر غلام محمد صاحب کے ساتھ وعدہ کے مطابق سٹی مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے پہنچا تو مذکورہ اے ایس آئی ندارد۔ انتظار طویل ہوتا چلا گیا اور جب ایک بج گیا تو مجھے تشویش ہوئی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ یہ تشویش اپنے بارے میں نہیں بلکہ اس اے ایس آئی کے بارے میں تھی کہ اس نے کل سے میری گرفتاری ڈال رکھی ہے اور اگر وہ آج عدالت کے وقت میں نہ پہنچا تو اس غریب کا کیا بنے گا؟ ہم نے چوکی پولیس میں فون کر کے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ کلر آبادی میں کوئی قتل ہوگیا ہے اور وہ اے ایس آئی تفتیش کے لیے گیا ہوا ہے۔ ہم نے چوکی محرر کو صورتحال بتائی کہ ہم تو اس کے انتظار میں کچہری میں کھڑے ہیں۔ چوکی والوں نے اسے کسی طرح اطلاع کرائی اور وہ بے چارہ بائیسکل پر بھاگم بھاگ دو بجے سے پہلے سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچا۔ ریمانڈ لیتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ نے اے ایس آئی سے پوچھا کہ ملزم کو ہتھکڑی کیوں نہیں لگائی؟ اس نے جواب دیا کہ سر! یہ ملزم ہتھکڑی والا ہے؟ سٹی مجسٹریٹ نے پوچھا کہ اگر ملزم فرار ہوگیا تو؟ اے ایس آئی نے جواب دیا کہ سر! میں ذمہ دار ہوں۔

یہ واقعہ دسمبر ۱۹۷۵ء کا ہے اور ابھی صرف پون صدی گزری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب والی کمیٹی کو اپنا کام ضرور مکمل کرنا چاہیے اور ان اسباب و عوامل کو ضرور بے نقاب ہونا چاہیے جنہوں نے باہمی رابطہ و مفاہمت کی اچھی خاصی فضا میں تلخی کا زہر گھول دیا ہے۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۱۵ اپریل ۱۹۹۹ء)

گزشتہ مضمون میں سنی شیعہ کشیدگی کے حوالہ سے ابتدائی معروضات پیش کی تھیں، آج کی صحبت میں اس کشیدگی کے اسباب و محرکات کے بارے میں چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

اصولی طور پر یہ بات ہم عرض کر چکے ہیں کہ مذہبی مفاہمت تو دونوں گروہوں میں ممکن ہی نہیں ہے کہ قرآن کریم، خلافت و امامت، خلفاء راشدینؓ، صحابہ کرامؓ اور دیگر بعض اہم بنیادی امور میں دونوں کے معتقدات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔ اور یہ اختلاف اہل سنت کے دائرہ میں شامل گروہوں مثلاً دیوبندی اور بریلوی کی طرح تعبیرات کا نہیں بلکہ اصولی اور اعتقادی اختلاف ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ البتہ اعتقادات و روایات کے بنیادی اختلافات کے باوجود اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان باہمی تعلقات کار اور مشترکہ امور میں تعاون و رابطہ کی جو فضا دس پندرہ برس پہلے تک موجود تھی وہ اب قائم نہیں ہے اور اسی سے کشیدگی بڑھی ہے، اس کے اسباب کو ضرور تلاش کرنا چاہیے۔

وطنِ عزیز پاکستان میں اہل سنت اور اہل تشیع میں مختلف مقامات پر ماضی میں دو باتوں پر جھگڑا ہوتا رہا ہے۔ ایک اس بات پر کہ بعض غیر محتاط شیعہ مقررین اپنی مجالس اور اصحاب قلم اپنی تصانیف میں حضرات صحابہ کرامؓ بالخصوص حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کے بارے میں گستاخانہ لہجہ اختیار کر لیتے تھے جس سے اہل سنت میں ردعمل ہوتا تھا اور بعض جگہ نوبت فسادات تک پہنچ جاتی تھی۔ ماضی میں کچھ مقامات پر ایسا بھی ہوا ہے کہ اہل تشیع نے حضرت عمرؓ اور حضرت معاویہؓ کے پتلے جلائے اور اپنے ماتمی جلوسوں کی گزرگاہ میں حضرت عمرؓ کا نام لکھا دیکھ کر اس کی بے حرمتی کی جس سے فسادات تک بات جا پہنچی۔

دوسرے نمبر پر اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان جھگڑے کی بنیاد عزاداری کے جلوس بنتے رہے ہیں کہ بہت سے مقامات پر اہل سنت کو اعتراض اور شکایت ہوئی کہ عزاداری اور ماتم کے جلوس اہل تشیع کے ہاں عبادت ہوں گے مگر ہم تو انہیں جائز نہیں سمجھتے اس لیے یہ جلوس اہل تشیع کی عبادت گاہوں تک محدود رہنے چاہئیں اور جن علاقوں میں اہل سنت کی اکثریت ہے ان میں ان جلوسوں کو لے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بعض جگہ اہل تشیع اس اعتراض اور شکایت کو نظرانداز کر کے جلوس ہر حال میں متنازعہ مقامات سے گزارنے پر اصرار کرتے ہیں جس پر جھگڑا پیدا ہوتا ہے اور کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔

اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے، کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے گوجرانوالہ کی ضلعی امن کمیٹی میں، جس کا میں بھی رکن ہوں، ایک محلہ کے اہل تشیع کی درخواست آئی کہ وہ وہاں علم کا جلوس ایک گلی سے لے کر گزرنا چاہتے ہیں۔ گلی والوں کو اس پر اعتراض تھا جبکہ درخواست کنندہ کا موقف یہ تھا کہ چونکہ اس نے نذر مانی ہوئی ہے کہ وہ علم کا جلوس اسی گلی سے گزارے گا اس لیے یہ اس کا مذہبی فریضہ ہے اور مذہبی فریضہ کی ادائیگی اس کا حق ہے۔ اس پر میں نے یہ عرض کیا کہ بھائی یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، کل اگر میں نذر مان لوں کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو میں سید کاظم علی شاہ صاحب کی کوٹھی کے دروازے پر مدحِ صحابہؓ کا جلسہ کروں گا تو کیا انتظامیہ مجھے اس نذر کی بنیاد پر یہ جلسہ کرنے کی اجازت دے گی؟ سید کاظم علی شاہ صاحب ممتاز مسلم لیگی رہنما ہیں، شیعہ ہیں اور ہمارے بہت مہربان دوست ہیں، وہ بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ اگرچہ انہوں نے بے تکلفی اور وضعداری سے یہ کہا کہ مولانا آپ میرے گھر میں جلسہ کر لیں۔ لیکن جو بات میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو سمجھانا چاہتا تھا وہ ان کے ذہن میں آگئی اور صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا۔

اب سے بیس پچیس برس پہلے تک اہل سنت اور اہل تشیع میں کشیدگی کا باعث یہی دو مسئلے بنتے تھے اور کچھ مقامات پر فسادات کی نوبت بھی آجاتی تھی لیکن یہ مسئلہ ملک گیر حیثیت اختیار نہیں کرتا تھا اور مختلف تدابیر سے ان پر کنٹرول ہوجایا کرتا تھا۔ اس کے بعد بات یوں کچھ آگے بڑھی کہ اہل تشیع نے جداگانہ مذہبی تشخص کے اظہار کے ساتھ اوقاف، تعلیم اور دیگر معاملات میں جداگانہ حیثیت کے تعین کے مطالبات شروع کر دیے۔ ممتاز شیعہ لیڈر سید محمد دہلوی صاحب کی سربراہی میں شیعہ مطالبات کمیٹی نے اسلامیات میں شیعہ طلبہ کے الگ نصاب تعلیم اور شیعہ اوقاف کے جداگانہ انتظام کا مطالبہ کر دیا جس سے سنی شیعہ تنازعہ کے مسائل میں ایک اور مسئلہ کا اضافہ ہوگیا۔ اس پر خاصی کشمکش ہوئی اور اس طرح اہل تشیع نے اجتماعی دھارے سے الگ سفر کا آغاز کر دیا۔ اس وقت بہت سے سنی رہنماؤں نے شیعہ قیادت سے کہا کہ وہ جس سفر کا آغاز کر رہے ہیں وہ بہت غلط منزل تک انہیں لے جائے گا مگر ’’رموز مملکت خویش خسرواں دانند‘‘ کے مصداق شیعہ قیادت نے اس قسم کے کسی مشورے پر کان دھرنا مناسب نہ سمجھا اور بات مسلسل آگے بڑھتی رہی۔

اس کشیدگی میں اضافے کا چوتھا عنصر اس وقت شامل ہوا جب انقلاب ایران کے بعد پاکستان میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تحریک کے قائدین نے خود کو ایرانی انقلاب کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا، ملک میں فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور اس مقصد کے لیے اسلام آباد میں ملک کے وفاقی سیکرٹریٹ کا دو روز تک مسلسل محاصرہ کیے رکھا۔ حالانکہ اس مطالبہ کا قطعی کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ پرسنل لاء میں اہل تشیع کے جداگانہ حقوق اور ان کے نکاح، طلاق اور وراثت کے معاملات ان کے مذہب کے مطابق نمٹائے جانے کے اصول سے اہل سنت نے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی انکار نہیں کیا۔ جبکہ پبلک لاء میں سنی اکثریت پر فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ یا کم از کم متوازی طور پر دوہرے پبلک لاء کے نفاذ پر اصرار قطعی طور پر ایک بے جواز بات تھی جس کا ذکر راقم الحروف نے ۱۹۸۷ء میں ایران کے دورہ کے موقع پر ممتاز پاکستانی علماء کرام اور دانشوروں کی موجودگی میں مقتدر ایرانی راہنما جناب آیت اللہ جنتی کے سامنے کیا اور انہوں نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا کہ پاکستان میں پبلک لاء کے طور پر فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ درست نہیں۔ معاملات جب اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ فقہ جعفریہ کے متوازی نفاذ کے مطالبہ کے لیے وفاقی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ ہونے لگا تو اس کا ردعمل ظاہر ہونا ایک فطری بات تھی چنانچہ اسی کے ردعمل میں سپاہ صحابہؓ وجود میں آئی اور پھر اشتعال کے یہ سب عوامل جمع ہوئے تو ملک میں سنی شیعہ کشمکش نے باہمی تصادم کی وہ صورت اختیار کر لی جس کے تلخ نتائج کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں۔

سپاہ صحابہؓ کے اشتعال انگیز طرزعمل بالخصوص ’’کافر کافر‘‘ کے عمومی نعرہ سے ہم نے کبھی اتفاق نہیں کیا۔ میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے اس سلسلہ میں سپاہ صحابہؓ کے قائدین کے نام ایک کھلا خط لکھا جو ملک بھر میں کئی سال قبل تقسیم ہو چکا ہے۔ راقم الحروف نے سپاہ صحابہؓ کے کم و بیش سبھی قائدین سے اس مسئلہ پر بات کی ہے، خود مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ اس سلسلہ میں میری گفتگو چل رہی تھی اور وہ میرے موقف سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے اس کی عملی صورتوں پر تجاویز مانگ رہے تھے۔ حتیٰ کہ جس روز وہ شہید ہوئے ان کی شہادت سے ایک گھنٹہ قبل فون پر میری ان سے گفتگو ہوئی اور آنے والا بدھ انہی امور پر تفصیلی بات چیت کے لیے طے ہوا مگر اس کے ایک گھنٹہ بعد وہ جام شہادت نوش کر گئے۔ دوسری طرف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ عارف الحسینی سے بھی میری ملاقات ہوئی جس کے لیے خود انہوں نے خواہش کا اظہار کیا اور گوجرانوالہ کے ممتاز شیعہ راہنما جناب صفدر ترابی مجھے لے کر وزیرآباد گئے جہاں علامہ عارف الحسینی آئے ہوئے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی، گفتگو ہوئی اور میں نے عرض کیا کہ جناب اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے آپ کو تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی پوزیشن پر واپس آنا ہوگا، انہوں نے بھی اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا مگر بات پھر اس کے بعد آگے نہ بڑھ سکی۔ سپاہ صحابہؓ کے بارے میں بات ہو رہی تھی کہ ہمیں ان کے طریق کار سے کبھی اتفاق نہیں رہا لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سپاہ صحابہؓ ایک ردعمل کا نام ہے جو مذکورہ بالا اسباب و عوامل کے نتیجے میں رونما ہوا اس لیے ایکشن کو کنٹرول کیے بغیر صرف ری ایکشن پر قابو پانے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور نہ اب ہو سکتی ہے۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں وزیراعظم پاکستان کی قائم کردہ علماء کمیٹی نے کشیدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور صورتحال کی اصلاح کے لیے تجاویز مرتب کرنے کا کام شروع کیا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے گزارش کرتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد اب تک سنی شیعہ کشیدگی میں مرحلہ وار اضافہ کے پورے پراسیس کا جائزہ لیا جائے اور فریقین کے ان مطالبات پر بھی غور کر لیا جائے جو اس کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنے ہیں۔ اگر واقعتاً کشیدگی پر قابو پانا ہے تو دونوں فریقوں کے سرکردہ رہنماؤں کو اپنے اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرنا ہوگی اور سرکاری حکام کو بھی معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ بصورت دیگر اگر مقصد صرف وقت گزارنا ہے تو وہ پہلے بھی گزرتا رہا ہے اور اب بھی گزر ہی جائے گا اس کے لیے کمیٹی کے تکلف کی کیا ضرورت ہے؟