چند کتابوں اور ان کے مصنفین کا تعارف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ فروری ۲۰۱۲ء

آج کا کالم چند کتابوں اور ان کے مصنفین کے تعارف کی نذر ہے:

رسول اللہؐ کا نظامِ امنِ عالم

حضرت مولانا مجاہد الحسینی صاحب تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکنوں اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفقاء میں سے ہیں، انہوں نے مختلف دینی و قومی مسائل پر کم و بیش پون صدی تک لکھا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت ان کی ایک حالیہ تصنیف ’’رسول اللہ ﷺ کا نظام امن عالم‘‘ میرے سامنے ہے جس میں انہوں نے امن عالم اور دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات و معاملات کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات کے ساتھ ساتھ مختلف تاریخی واقعات کو جمع کیا ہے اور دورِ حاضر میں مسلمانوں کی یہودیوں اور مسیحیوں کے ساتھ کشمکش کا جائزہ لیا ہے۔ یہ معلوماتی اور فکر انگیز کتاب سوا تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور سیرت مرکز (۶۵ بی پیپلز کالونی فیصل آباد فون ۰۴۱۸۷۲۶۷۰۰) سے شائع ہوئی ہے۔

خلفاء راشدینؓ: حسنِ کردار و عمل

مولانا سعید الرحمان علویؒ ہمارے فاضل دوستوں میں سے تھے، اپنے دور کے ممتاز اصحابِ قلم میں ان کا شمار ہوتا تھا، سالہا سال تک ہفت روزہ خدام الدین لاہور کے مدیر رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’خلفاء راشدینؓ، حسن کردار و عمل‘‘ ایک عرب دانشور الشیخ خالد البیطار کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے جس میں مولانا سعید الرحمان علوی نے کتاب کے ترجمہ کے ساتھ ساتھ خلافت راشدہ کی اصطلاح کے اطلاق اور خلفاء راشدینؓ کی فہرست کے حوالہ سے معروف بحث کے بارے میں مقدمہ کتاب میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ اس قسم کے مسائل میں ہمارا نقطۂ نظر عام طور پر جمہور کے ساتھ ہوتا ہے لیکن دلائل اور حقائق کی بنیاد پر پیش کیے جانے والے کسی مختلف نقطۂ نظر کو پڑھنے اور سننے میں ہم کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ مولانا علویؒ کا اس مسئلہ پر اپنا ایک موقف ہے جو انہوں نے اس ترجمہ کتاب کے پیش لفظ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مکتبۂ جمال (تیسری منزل حسن مارکیٹ اردو بازار لاہور) سے شائع ہوئی ہے۔ اور مولانا علویؒ کے برادر محترم مولانا عزیز الرحمان خورشید نے اس کا اہتمام کیا ہے۔

فتح الرحمان بسیرۃ سیدنا عثمان بن عفانؓ

مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی برطانیہ کے ممتاز علماء کرام اور اصحاب قلم میں شمار ہوتے ہیں، مفکر اسلام حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے تربیت یافتہ ہیں اور ایک عرصہ تک اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں ان کے معاون و نائب رہے ہیں۔ اب چند سالوں سے انہوں نے ’’ادارہ اشاعت الاسلام‘‘ کے نام سے مانچسٹر میں ہی ایک الگ ادارہ قائم کیا ہوا ہے جس میں متعدد بار حاضری کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے۔ ماہنامہ الہلال کے نام سے ایک دینی و علمی جریدہ کی ادارت کے علاوہ مختلف دینی جرائد میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں اور متعدد موضوعات پر ان کی تصنیفات دینی راہنمائی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’فتح الرحمان بسیرۃ سیدنا عثمان بن عفانؓ‘‘ میں انہوں نے امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی، فضائل و مناقب، خدمات، خصائل اور ان پر مختلف ادوار میں کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لے کر تاریخی حقائق کی روشنی میں اہل السنۃ والجماعۃ کے موقف کی وضاحت کی ہے۔ اور سیدنا حضرت عثمانؓ کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کا بہت خوب اظہار کیا ہے۔ چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب دارالاشاعت الاسلام مانچسٹر نے شائع کی ہے اور پاکستان میں صدیقی ٹرسٹ (المنظر اپارٹمنٹ ۴۵۸ گارڈن ایسٹ لسبیلہ چوک کراچی) سے مل سکتی ہے۔

ماہنامہ نور علیٰ نور کی خصوصی اشاعت ’’وہ کون آیا؟‘‘

مولانا عبد الرشید انصاری ہمارے ان فاضل دوستوں میں سے ہیں جو دینی و قومی تحریکات میں ہمیشہ سرگرم رہے ہیں اور صحافتی محاذ پر اہل دین کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتے آرہے ہیں۔ ہفت روزہ خدام الدین لاہور کے مدیر رہے ہیں، اب فیصل آباد سے ماہنامہ نور علی نور کے نام سے ایک معلوماتی اور تجزیاتی جریدہ شائع کر رہے ہیں اور مختلف عنوانات پر اس جریدہ کے خصوصی نمبر وقتاً وقتاً شائع کرتے رہتے ہیں جو خاصے معلوماتی ہوتے ہیں۔ ماہنامہ نور علی نور کا زیر نظر شمارہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسوہ کے حوالہ سے ہے جو ’’وہ کون آیا؟‘‘ کے عنوان سے معنون ہے اور سیرت نبویؐ کے مختلف اور متنوع پہلوؤں پر ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات کو سموئے ہوئے ہے۔ تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خصوصی اشاعت نور علی نور اکیڈمی (امین ٹاؤن، فیصل آباد) نے شائع کی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے مولانا انصاری نے الیکٹرانک میڈیا کے دینی مقاصد کے استعمال کے حوالہ سے اہل علم کے درمیان زیر بحث مسئلہ پر ماہنامہ نور علی نور کی خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا تھا جس میں الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت اور دین کی دعوت و تعلیم اور دفاع و تحفظ کے لیے اس کے استعمال کی ضرورت پر مختلف اور ممتاز علماء کرام کی نگارشات کو جمع کر دیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے نئی نسل کی راہنمائی کا سامان مہیا کر دیا تھا۔ اسے اب کتابی صورت میں ’’ابلاغ حق‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا ہے جو اس موضوع پر مطالعہ کے خواہشمند حضرات کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ کتاب بھی نور علی نور اکیڈمی فیصل آباد نے شائع کی ہے اور دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔

خطباتِ تونسوی (جلد اول)

حضرت مولانا عبد الستار تونسوی دامت برکاتہم ہمارے دور کے ان اکابر اور بزرگ علماء کرام میں سے ہیں جنہوں نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کی وضاحت و تحفظ اور حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس کے تحفظ و دفاع کے لیے مسلسل اور وقیع خدمات سرانجام دی ہیں اور امام اہل السنۃ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اسلوب پر نصف صدی سے زائد عرصہ سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات اور مناظروں سے ہزاروں لوگوں کو ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوئی ہے اور ضعف و علالت کے باوجود آج بھی وہ اپنے اس عظیم مشن کے لیے متحرک ہیں۔ ہمارے ایک عزیز شاگرد اور حضرت مدظلہ کے عقیدت مند مولانا عبد الرشید انور (فاضل جامعہ نصرۃ العلوم) نے حضرت تونسوی مدظلہ کے خطبات کو جمع کر کے شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے جو ایک اہم دینی خدمت ہے۔ ’’خطبات تونسوی‘‘ کی پہلی جلد اس وقت ہمارے سامنے ہے جس میں تحفظ ختم نبوت، عظمت قرآن کریم، سیرت الرسولؐ، اہل بیتؓ اور صحابہؓ، امیر شریعتؒ اور دیگر اہم عنوانات پر حضرت علامہ تونسوی مدظلہ کے خطبات کو مرتب کیا گیا ہے جو علماء کرام بالخصوص خطباء کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے۔ ’’خطبات تونسوی‘‘ کی یہ جلد جامعہ سیدنا امیر معاویہ (حافظ آباد تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان فون ۰۳۴۵۵۶۸۸۳۱۳ نے شائع کی ہے اور ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔

سبد گل

جناب اکرام القادری ہمارے دوستوں اور معروف اصحاب فکر و دانش میں سے ہیں۔ ہفت روزہ ترجمان اسلام اور ہفت روزہ نقیب ملت لاہور کے سالہا سال تک مدیر رہے ہیں اور صحافت کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے نظم و شعر کے ذخیرہ میں ادب و شعر کی دیگر اصناف کے علاوہ اکابر علماء حق کی مدحت و منقبت اور دینی جدوجہد کے کارکنوں کے لیے ’’حدی خوانی‘‘ کا عنصر بھی شامل بلکہ نمایاں ہے جو انہیں عصر حاضر کے عظیم تحریکی شعراء علامہ انور صابری، الحاج سید امین گیلانی، مرزا غلام نبی جانباز، سائیں محمد حیات پسروری، جناب خان محمد کمتر اور جناب عبد الرحیم عاجز رحمہم اللہ کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ ان کا شعری مجموعۂ کلام ’’سبد گل‘‘ کے عنوان سے شیخ الہند اکادمی (۸۵/۸۶ رسول پارک اچھرہ لاہور) نے شائع کیا ہے اور تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ

اہل سنت کے عقائد کے تحفظ اور صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب میں امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تصنیف ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ معرکہ کی چیز ہے اور علماء اہل سنت کے لیے سرمۂ بصیرت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے اردو ترجمہ کا ایک باب جو امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب، خدمات جلیلہ اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے، اسے حضرت مولانا سید نفیس الحسینیؒ کے خادم خاص میاں رضوان نفیس نے الگ کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے جس پر ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمود الحسن عارف کے مقدمہ اور تصحیح و تعلیق نے اس کی افادیت کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ دو سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ کتاب شاہ نفیسؒ اکادمی (۲۷/۱۱ سعدی پارک لاہور) نے شائع کی ہے۔