حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اکتوبر ۲۰۱۱ء

جانشین امیر شریعت حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ کا نام تو سن رکھا تھا کہ ’’شاہ جی‘‘ امیر شریعتؒ کے بڑے بیٹے ہیں اور بہت بڑے عالم ہیں لیکن دیکھنے کا موقع اس وقت ملا جب ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں مارشل لاء ختم کر کے ملک میں سیاسی سرگرمیاں بحال کیں اور مجلس احرار اسلام نے ملک کے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کر کے جماعتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہی دنوں گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں مجلس احرار اسلام کا جلسہ تھا اور مولانا سید ابوذر بخاریؒ اس جلسہ کے مرکزی مقرر تھے۔

یہ میرا طالب علمی کا دور تھا، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں پڑھتا تھا اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ ذہنی وابستگی ہو چکی تھی لیکن مجلس احرار اسلام کے ماضی اور کارناموں سے بھی بے خبر نہ تھا۔ اس لیے کہ چودھری افضل حق مرحوم کی ’’تاریخ احرار‘‘، مولانا مظہر علی اظہر مرحوم کی ’’دنیا کی بساط سیاست‘‘ اور ’’تحریک مدح صحابہؓ‘‘ اور آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ نظر سے گزر چکی تھیں۔ بلکہ سیاسیات کے حوالہ سے میں نے زندگی میں سب سے پہلے جن کتابوں کا مطالعہ کیا وہ یہی چار کتابیں ہیں۔ انہیں میں نے نہ صرف پڑھا بلکہ بار بار پڑھا اور اپنے ذہن و فکر پر ان کے اثرات ابھی تک محسوس کر رہا ہوں۔ اس لیے جماعتی معاصرت کے فطری جذبے کے باوجود احرار رہنماؤں کے ساتھ قلبی تعلق قائم رہا اور اب بھی الحمد للہ قائم ہے۔ حافظ جی رحمہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پہلے اس جلسہ میں دیکھا اور سنا، سرخ کرتا پہنے، ہاتھ میں کلہاڑی پکڑے ہزاروں کے اجتماع میں وہ ملک کے مسائل پر پوری فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنے بے باک خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ علم اور خطابت کا حسین امتزاج تھا اور اس پر جرأت و بے باکی اور خلوص و وفا کے جذبات کا اضافہ بھی۔ اس لیے متاثر نہ ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ چنانچہ جلسہ کے بعد اپنے طالب علم ساتھیوں کے سامنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ شخص اگر اسی طرح پورے ملک میں چلتا رہا تو اس کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل سکے گا۔ لیکن مجلس احرار اسلام قیادت کی صف بندی اور اس کی ترجیحات کے تعین میں ایسی الجھی کہ وقت اس کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر آگے بڑھ گیا اور پھر اس خلاء کو پر کرنے کے لیے جمعیۃ علماء اسلام آگے بڑھی اور بڑھتی چلی گئی۔

حافظ جیؒ کے ساتھ اس کے بعد بے شمار ملاقاتیں ہوئیں، عام جلسوں میں ان کے طویل خطابات سنے اور نجی محفلوں کی بے تکلفانہ گپ شپ کا حظ بھی اٹھایا۔ مجھے ان کے مطالعہ کی وسعت اور معلومات کے استحضار نے سب سے زیادہ متاثر کیا حتیٰ کہ بسا اوقات میں صرف اس لیے ان سے ملاقات و مجلس کے مواقع تلاش کرتا تھا کہ بہت سی مستند معلومات کسی لمبے چوڑے مطالعہ کی کلفت اٹھائے بغیر ان کے ہاں مل جایا کرتی تھیں۔

حافظ جیؒ کو جمعیۃ علماء اسلام کی سیاسی پالیسیوں سے ہمیشہ اختلاف رہا اور مجھے ایک عرصہ تک سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے جمعیۃ کے ترجمان کی حیثیت حاصل رہی۔ وہ اپنے اختلاف کا کھل کر اظہار کرتے تھے اور لگی لپٹی رکھے بغیر کرتے تھے، اور میں ایک صاحب علم اور صاحب رائے کے طور پر ان کا یہ حق سمجھتا تھا اس لیے اختلافات اور ان کے اظہار میں ایک گونہ شدت کے باوجود میری عقیدت اور ان کی شفقت کا سلسلہ بدستور قائم رہا۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ لطیفہ بھی ریکارڈ میں آجائے تو شاید نامناسب نہ ہو۔ ایک دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے دیوبندی مکتب فکر کے سرکردہ علماء کو جامعہ مخزن العلوم خانپور میں جمع کرنے کا اہتمام کیا۔ عمومی جلسہ بھی تھا اور مختلف دیوبندی جماعتوں کے رہنماؤں کے مشترکہ خصوصی اجلاس کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ سمیت بیشتر دیوبندی علماء جمع تھے۔ مولانا ابوذر بخاریؒ کا خطاب ظہر کے بعد کی نشست میں تھا جبکہ مولانا مفتی محمودؒ نے رات کی نشست میں خطاب کرنا تھا۔ معاملہ خاصا نازک تھا، حافظ جیؒ نے اپنے تفصیلی خطاب میں روئے سخن مفتی صاحبؒ ہی کی طرف رکھا اور اپنے مخصوص اندازِ خطابت کے دائرہ میں وہ جو کچھ کہہ سکتے تھے کہہ گئے۔ اسٹیج پر میں بھی موجود تھا بلکہ حافظ جیؒ کی کرسی کے بالکل ساتھ فرشی نشست پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور اپنی جماعت کی پالیسیوں کے خلاف ان کی خطیبانہ گھن گرج سے محظوظ ہو رہا تھا۔ نشست ختم ہوئی تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ تشریف لے آئے ہیں، ان کی قیام گاہ پر ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو انہیں حافظ جیؒ کے خطاب کی رپورٹ مل چکی تھی۔ صورتحال کی نزاکت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے اور میں سیکرٹری اطلاعات، جبکہ جمعیۃ ہی کے امیر کے طلب کردہ جلسہ میں جمعیۃ کی پالیسیوں اور قیادت کے خلاف ٹھیک ٹھاک قسم کی تقریر ہوئی تھی۔

مفتی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے پوچھا تم نے تقریر سنی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر پوچھا تم کہاں تھے؟ میں نے جواب دیا کہ اسٹیج پر۔ پھر دریافت کیا سن لی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں سن لی! اس کے بعد مفتی صاحبؒ نے پوچھا پھر کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ تقریر یہاں نہیں بلکہ کل کے مشترکہ اجلاس میں ہونی چاہئیے تھی۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے چہرے پر کچھ برہمی سی نمودار ہوئی اور فرمایا کیا مطلب، تمہیں باتوں سے اختلاف نہیں صرف جگہ سے اختلاف ہے؟ میں نے گزارش کی کہ ہاں مجھے جگہ سے اختلاف ہے اس لیے کہ اس قسم کی باتیں آمنے سامنے ہو جائیں تو زیادہ بہتر رہتی ہیں۔ مفتی صاحبؒ نے پھر پوچھا کہ اب میں کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنے خطاب میں اس بات کا اشارہ بھی نہ دیں کہ آپ کے خلاف اس اسٹیج پر کوئی تقریر ہوئی ہے۔ یہی بات بعد میں حضرت درخواستیؒ نے بھی ان سے فرمائی، چنانچہ مفتی صاحبؒ نے ایسا ہی کیا اور ایک نیا محاذ گرم ہوتے ہوتے رہ گیا۔

ایک دفعہ جمعہ کے روز ایسا ہوا کہ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر مسجد کے ہال سے باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ دیوار کی اوٹ میں مولانا سید ابوذر بخاریؒ تشریف فرما ہیں۔ اللہ اکبر! یہ کیا ہوا! آگے بڑھا اور مصافحہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت آپ نے یہ کیا ظلم کیا! فرمایا کہ میں جمعہ کے آغاز میں ہی آگیا تھا مگر جان بوجھ کر چھپا رہا کہ تم نے دیکھ لیا تو پیچھا نہیں چھوڑو گے۔ سچی بات ہے بہت صدمہ ہوا کہ میں اور جامع مسجد کے نمازی ان کے خطاب سے محروم رہ گئے۔ فرمانے لگے کہ گکھڑ جانے کے ارادے سے آیا ہوں، حضرت شیخ الحدیث صاحب (والد محترم مولانا سرفراز خان صفدر) سے ملنے کی خواہش ہے اور آپ کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔ عرض کیا کہ چائے وغیرہ ہو جائے پھر چلتے ہیں۔ فرمایا کہ نہیں سب کچھ وہیں ہوگا آپ ساتھ چلیں۔ میں ساتھ ہو لیا، گکھڑ پہنچے، حضرت والد صاحب مدظلہ سے ملاقات ہوئی، کچھ دیر گفتگو رہی، تشریف آوری کا مقصد پوچھا تو کہنے لگے کہ صرف ملاقات و زیارت کے لیے آیا ہوں۔ چائے سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو پلیٹوں میں پڑی ہوئی مٹھائی کی طرف دیکھ کر حضرت والد صاحب سے کہا کہ حضرت! اگر اجازت ہو تو یہ تبرک ساتھ رکھ لوں؟۔ اور پھر وہ تبرک سنبھالے جس محبت کی فضا میں رخصت ہوئے اس کا منظر ابھی تک نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔

حضرت حافظ جی رحمہ اللہ تعالیٰ سے آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ بستر علالت پر تھے۔ میں ملتان گیا ہوا تھا، بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا تو بہت خوش ہوئے۔ حضرت والد صاحب کی صحت کے بارے میں بار بار پوچھتے رہے۔ میرے حوالہ سے انہوں نے کوئی بات سن رکھی تھی اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تم سے براہ راست سننا چاہتا ہوں تاکہ سند متصل ہو جائے اور ’’رواہ البخاری‘‘ کہہ سکوں۔ وہ بات انہیں جس انداز سے پہنچی اس میں کچھ مبالغہ آمیزی بھی شامل تھی، میں نے اصل بات عرض کی تو شکریہ ادا کیا اور دعا دی۔

مولانا سید ابوذر بخاریؒ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند تھے مگر ان کا صرف یہی تعارف نہیں تھا بلکہ وہ اپنے علم و فضل، وضعداری، وسعت مطالعہ اور بہت سے معاملات میں اپنی مستقل رائے کے حوالہ سے جداگانہ تشخص بھی رکھتے تھے۔ اے کاش کہ یہ ’’تشخص‘‘ حالات کی نامساعدت کی نذر نہ ہو جاتا اور اہل حق کا قافلہ وسیع تر دائرے اور تناظر میں ان کی صلاحیتوں اور علم و فضل سے فائدہ اٹھا سکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں، ان کی حسنات کو قبولیت سے نوازیں، سیئات سے درگزر فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یارب العالمین۔