پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ جولائی ۱۹۹۸ء

برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی شخص کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس نے مسیح ہونے کا دعوٰی کر کے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور دوسرے پناہ گزینوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اخبار نے اس شخص کا نام نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتا ہے اور ان دنوں ایسٹ لندن کےعلاقہ لیٹن سٹون میں رہائش پذیر ہے۔ اخبار نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ اس شخص کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جو عقیدت مند کے روپ میں اس کے پاس گیا اور اس سے بہت سی معلومات حاصل کیں۔

اخبار کے مطابق یہ شخص گجرات سے پہلی بار 1983ء میں برطانیہ آیا اور پھر امریکہ چلا گیا۔ وہاں سے کئی سال کے بعد 1996ء میں واپس لندن آیا اور ہوم آفس کو درخواست دی کہ وہ حضرت مریمؑ کا بیٹا عیسیٰ مسیحؑ ہے اور اسے حضرت جبریلؑ کے ذریعے عجیب و غریب آوازوں میں پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اگر وہ پاکستان گیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا اس لیے اسے سیاسی پناہ دی جائے۔ ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ کے بقول برطانوی ہوم آفس نے اس کی یہ درخواست قبول کر کے اسے سیاسی پناہ دے دی، چنانچہ وہ لیٹن سٹون میں قیام پذیر ہے او رسوشل بینیفٹ حاصل کر رہا ہے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ اس نے اپنا ہیڈکوارٹر قائم کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ جعلی پناہ گزینوں کو اپنا پیروکار ظاہر کر کے سیاسی پناہ دلواتا ہے اور اس کام کی باقاعدہ فیس وصول کرتا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کا رپورٹر سیاسی پناہ کے طلب گار کے طور پر اس شخص کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ ’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تم یہاں قیام کر سکو گے، تمہیں سوشل سروسز سے رقم مل جائے گی، تمہیں رہائش کے لیے بھی رقم ملے گی، 6 ماہ بعد تم کام کر سکو گے، فائل کھولنے کی فیس 200 پونڈ ہے، جب تمہارے ساتھ ایک وکیل ہوم آفس بھیجوں گا تو پھر ادائیگی کرنی ہوگی۔‘‘

حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے بارے میں مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وہ آسمانوں پر زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور ان پر ابھی تک موت وارد نہیں ہوئی۔ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہوں گے، مسلمانوں میں اس وقت ظاہر ہونے والے امام مہدیؒ کے ساتھ مل کر دنیا کو ظلم و جور سے نجات دلائیں گے اور عدل و انصاف کا نظام ایک بار پھر قائم کر دیں گے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کو حضرت امام مہدیؒ کے ظہور اور ان کے بعد حضرت عیسٰیؑ کے نزول کا انتظار ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات میں اس دور کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان میں سے بیشتر پوری ہو چکی ہیں۔ اس لیے آج کے دور کے اہل علم و معرفت کا کہنا ہے کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے اور بتدریج ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جو بالآخر حضرت امام مہدیؑ کے ظہور اور حضرت عیسٰیؑ کے نزول پر منتج ہوں گے۔ احادیث نبویہؐ کے مطابق دوبارہ نزول کے بعد حضرت عیسٰیؑ کچھ عرصہ زندگی گزاریں گے اور ان کی شادی بھی ہوگی، پھر مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوگا اور وہ جناب رسول اللہؐ کے ساتھ روضۂ اطہر میں مدفون ہوں گے۔ چنانچہ روضۂ اطہر میں آنحضرتؐ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقٌ کی قبروں کے علاوہ ایک قبر کی جگہ آج بھی خالی موجود ہے جو احادیث کے مطابق حضرت عیسٰیؑ کی قبر مبارک کی جگہ ہے۔

مگر مسلمانوں کے اس عقیدہ اور انتظار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جن لوگوں نے مسیح اور مہدی ہونے کے دعوے کیے ان کی ایک بڑی تعداد کے حالات تاریخ میں ملتے ہیں جنہیں ماضی قریب کے ایک معروف محقق مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ نے ’’ائمہ تلبیس‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں جمع کر دیا ہے اور یہ کتاب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ مہدی جونپوری، ذکری فرقہ کے بانی ملا محمد اٹکی، ایران کے محمد علی باب اور بہاء اللہ شیرازی، قادیان کے مرزا غلام احمد، مہدی سوڈانی، اور امریکہ کے ماسٹر فارد محمد اور ایلیجا محمد اسی قبیل کے لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے اس عقیدہ اور انتظار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہدی ہونے کا دعوٰی کیا۔ اور ان میں سے بعض نے مہدی اور مسیح کو ایک ہی شخصیت قرار دیتے ہوئے مسیح کا منصب بھی سنبھال لیا اور جب دیکھا کہ ان کے پیروکاروں نے یہ سب دعوے ہضم کر لیے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر نبوت کا دعوٰی بھی کر ڈالا اور ایک نئے مذہب اور مذہبی گروہ کی بنیاد ڈال دی۔حال ہی میں اس رخ پر آگے بڑھنے والے ایک صاحب سندھ کے ریاض گوہر شاہی ہیں جو مہدی کی سیڑھی تک تو پہنچ گئے ہیں اور ان کے پیروکار انہیں مہدی کے روپ میں پیش کر کے چاند میں ان کی تصویروں کی زیارت کر رہے ہیں۔ مریدوں پر یہ رنگ پکا چڑھ گیا تو اگلے مراحل کی طرف پیش رفت میں بھی کچھ زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔

مسیح علیہ السلام کی آمد کا انتظار عیسائیوں کو بھی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ سولی پر لٹکائے گئے تھے اور انہوں نے موت کو سینے سے لگا لیا تھا جو ان کی طرف سے نسل انسانی کے گناہوں کا کفارہ تھا، لیکن اس کے بعد دوبارہ انہیں زندہ کر کے آسمانوں پر اٹھا لیا گیا اور قیامت سے پہلے ان کا دوبارہ نزول ہوگا۔ اس لیے عیسائیوں میں بھی وقتاً فوقتاً مسحیت کے دعوے داروں کی خبریں چھن چھنا کر ہمارے اخبارات کی زینت بن جاتی ہیں۔ لیکن ایک فرق یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں حضرت عیسٰیؑ اور امام مہدیؑ کے بارے میں واضح اور دوٹوک نشانیاں و علامات موجود ہیں جن سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی مسلمان مہدی یا مسیح ہونے کے کسی دعوے دار کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوتا اور وہ اس کی اصلیت کو فورًا پہچان لیتا ہے۔ البتہ دینی معلومات سے بے بہرہ لوگوں کی بات الگ ہے اور ایسے فریب کاروں کا شکار ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد انہی بے خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مگر عیسائیوں میں حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے تصور سے زیادہ کوئی تفصیل عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے کسی دعوے دار کو پرکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مذکورہ اخباری رپورٹ کے مطابق

’’ہوم آفس کے حکام نے حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا یہ دعوٰی مان لیا کہ وہ مریم کا بیٹا ہے او رجبریل سے عجیب آوازوں کی شکل میں اس کے لیے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ ورنہ یہی معاملہ کسی مسلم ملک میں ہوتا تو سیدھا سادہ فراڈ کیس تھا اور اس فریب کار کا ٹھکانہ کم از کم جیل ضرور ہوتا۔ مگر داد دیجیے برطانوی حکام کے حوصلے کی کہ انہیں ناز برداری کے لیے مذہب سے بغاوت کرنے اور مذہبی معتقدات کو تضحیک کا نشانہ بنانے والا کوئی نہ کوئی شخص چاہیے خواہ اس کی بنیاد دھوکے اور فراڈ پر ہی کیوں نہ ہو۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘

درجہ بندی: