’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اکتوبر ۲۰۰۵ء

مسیحی برادری ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’یوم بشارت‘‘ منا رہی ہے جس کا مقصد نسل انسانی کو مسیحیت قبول کرنے کی دعوت کے مشن کے ساتھ وابستگی کو تازہ کرنا اور مشنری تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔ لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کے ماہِ رواں کے دوسرے شمارے میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال کلیسا اکتوبر کا مہینہ مشنری کاموں کو سراہنے اور مشنری تحریکوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کرتی ہے۔ اسی روایت کے پیش نظر اس سال ۷۹ واں عالمی یوم بشارت ۲۳ اکتوبر بروز اتوار دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش اور نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ کاتھولک نقیب کے اسی شمارے میں ایک مسیحی فاضل نوید یوسف نے عالمی یوم بشارت کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’پاپائی سوسائٹی اشاعت ایمان کا قیام ۱۸۲۲ء میں فرانس کے شہر لیون میں ہوا، اس پاپائی سوسائٹی کا بنیادی مقصد اشاعت ایمان اور انجیلی بشارت و اقدار کا فروغ ہے۔ اس سوسائٹی کی بانی ایک خاتون ’’میری پولین جریکوٹ‘‘ ہیں۔ آپ کا تعلق فرانس کے شہر لیون سے تھا، ۱۴ سال کی عمر میں اسکول چھوڑنے کے بعد آپ نے سماجی طور طریقے اپنائے، اونچے درجے کے فیشن اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہوگئیں، ماں کے انتقال اور منگنی ٹوٹ جانے سے آپ زندگی کی نعمتوں سے محروم ہوگئیں اور یہی وہ وقت تھا جب آپ نے اپنی زندگی میں مقدس اگسٹین کی طرح تبدیلی محسوس کی۔ آپ نے اپنے تمام نفیس ملبوسات کو خیرباد کہا اور معمولی سا گاؤن، ململ کی ٹوپی اور بوٹ پہننا شروع کر دیے اور بیماروں کی دیکھ بھال کو اپنا اولین نصب العین بنا لیا۔ میری پولین جریکوٹ کا بھائی اپنے شہر (چرچ) کی مشنری انجمن کا کارکن تھا جو ہر روز مشنری انجمنوں کی غربت اور جدوجہد کے بارے میں اپنی بہن سے بات چیت کرتا۔ اسی طرح بھائی کی محنت رنگ لائی اور میری پولین نے لیون کی لڑکیوں کو اکٹھا کر کے ایک انجمن بنائی جس کا کام دعا کرنا اور چندہ اکٹھا کرنا تھا تاکہ مشنری لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ میری پولین ۱۸۶۲ء میں مفلسی، غربت اور بیماریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ۶۳ سال کی عمر میں خداوند یسوع المسیح میں سو گئیں (وفات پا گئیں) اور بعد میں آپ کو مقدس کا درجہ عطا کیا گیا۔ اس سوسائٹی نے عالمگیر اور مقامی سطح پر مشنری خدمات اور بیداری کو اجاگر کیا ہے اور مسیحی عقیدے کا پرچار پوری دنیا کے تمام انسانوں، خداوندوں، اسکولوں، تحریکوں اور اداروں میں کرنا اولین فرض سمجھا ہے۔ اس سوسائٹی کے مالی تعاون سے کلیساؤں میں دن بدن ایمان گہرا اور دعائیہ زندگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ پاک روح کا فضل، پاک یوخرستی کی طاقت مشنریوں کو مسیح کی گواہی دینے کے لیے تیار کرتی ہے۔ (بائبل کی کتاب) اعمال کے باب آیت ۸ کے مطابق خداوند یسوع مسیح نے فرمایا: لیکن جب روح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم پاؤ گے اور یروشلم اور سارے یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہوگے۔‘‘

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ:

’’عالمی یوم بشارت ایک ایسا دن ہے جس میں ہم ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں کہ آج بھی وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم بشارتی مشن کو سمجھیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مقامی کلیساؤں اور دوسری بہت سی کلیسائی منظم جماعتوں اور خاص طور پر پاپائی مشنری اداروں کو بہتر طریقہ سے چلایا جا سکے۔‘‘

جبکہ لاہور کے آرچ بشپ لارنس سلڈانہ نے اس دن کی اہمیت ان الفاظ میں واضح کی ہے کہ:

’’۲۳ اکتوبر کو کلیسا عالمی یوم مشن منا رہی ہے، اس کا مرکزی خیال ’’ایمان سے گواہی‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر نسل کو ایمان کی گواہی کا علمبردار ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس دعوت کے لیے بڑی بڑی کنونشن اور لمبی تقریروں کا سہارا نہیں لیا جاتا، اس کی بجائے عوامی زندگی کے ذریعے اس مشن کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔‘‘

سرکردہ رہنماؤں کے ان خیالات اور بیانات سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ نسل انسانی تک مسیحیت کی دعوت پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مسیحیت کے دائرے میں شامل کرنے کے حوالے سے اس عالمی یوم بشارت کی اہمیت کیا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے اور علمی طور پر صحیح بات یہی ہے کہ مسیحیت صرف بنی اسرائیل کا مذہب تھا، حضرت عیسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور ان کی تعلیمات بنی اسرائیل تک محدود ہیں۔ لیکن عملی طور پر صورتحال یہ نہیں ہے کیونکہ مسیحیت کے مشنری ادارے دنیا بھر میں مسیحیت کی دعوت و تبلیغ میں، جسے وہ بشارت کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں، پورے انہماک کے ساتھ مصروف ہیں اور مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو ہر سال مسیحیت کے دائرے میں داخل کر رہے ہیں۔ مشنری اداروں کے نزدیک مسیحیت نسلی مذہب نہیں بلکہ عالمگیر مذہب ہے جس کی دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کی نجات صرف اس میں ہے کہ مسیحیت کو قبول کر کے صلیب کے سائے میں آجائیں۔ اسی یقین اور جذبہ کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں مسیحی مشنری سرگرمیاں اپنے بشارتی مشن میں سرگرم ہیں اور اسی مشن کو تقویت دینے کے لیے یہ ’’عالمی یوم بشارت‘‘ منایا جاتا ہے۔

پاکستان میں ان مشنری سرگرمیوں کی تازہ صورتحال کیا ہے؟ یہ معلوم کرنے کے لیے ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو روزنامہ نوائے وقت لاہور میں شائع ہونے والی اس رپورٹ پر ایک نظر ڈال لیں:

’’ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سترہ ہزار سے زائد افراد عیسائیت قبول کر چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق عالمی عیسائی مبلغین نے ۱۹۹۵ء میں پاکستان کو عیسائیت کے لیے ضروری ترین ملک قرار دیا۔ پاکستان میں پیٹر رابرٹس کو عیسائیت کی تبلیغ کے لیے منتخب کیا گیا جو بائبل کارسپانڈنس کا سربراہ ہے اور اس کا دفتر میانوالی میں واقع ہے۔ وہاں سے ہی یہ سارا نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے۔ عیسائیوں کے لیے ۳۳ ویں سالانہ شفائیہ اجتماع کے موقع پر انہوں نے چاروں صوبوں سے آئے ہوئے ۱۲۹ مسلمانوں کو عیسائی بنایا۔ ان مسلمانوں میں پنجاب سے ۴۹، بلوچستان سے ۲۷، سندھ سے ۳۴ اور سرحد سے ۱۹ مسلمان شامل تھے۔ ۷ ہندوؤں کو بھی عیسائی بنایا گیا۔ اس ادارہ کی کراچی، شکارپور، فیصل آباد اور گجرات میں بھی شاخیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عیسائیوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے اور اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۹۹ء میں ۱۱ ہزار ۷۰۰ مسلمانوں کو عیسائی بنایا گیا۔ صرف سندھ میں پانچ ہزار ۷۲ مسلمان عیسائی ہوئے۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایک اور ادارہ ’’ڈومینیکن سنٹر‘‘ کے نام سے ۱۹۹۵ء میں قائم ہوا۔ فیروز پور روڈ پر ادارہ ’’دار النجات‘‘ ۱۹۹۸ء سے قائم ہے اس کا مرکزی ہیڈ کوارٹر لندن میں ہے۔ ۱۹۹۹ء تک اس کے سات دفاتر کھل چکے ہیں۔ اس نے ۲۰۰۰ء سے اب تک ۷۰۰ سے زائد مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔ کراچی میں عیسائی مشنری کی ایک تنظیم ’’فرینڈز فار مسلم‘‘ کے نام سے سرگرم ہے جو مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں سے دوستی کر کے انہیں عیسائیت کی جانب راغب کرتی ہے۔ ’’مشن امپیکٹ‘‘ کے تحت پاکستان میں ۶ بڑے گروہ سرگرم عمل ہیں اس میں ۱۳ خوبصورت لڑکے اور ۱۱ خوبرو لڑکیاں شامل ہیں جو مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر عیسائی بناتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جلد دنیا میں عیسائیت کا غلبہ ہو جائے گا۔‘‘

ایک قومی اخبار کی اس حالیہ رپورٹ سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کی صورتحال کیا ہے اور اس کی روشنی میں ’’عالمی یوم بشارت‘‘ کیا اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے جو ملک کی دینی جماعتوں اور مراکز کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے مسیحی مشنریوں کی طرز کا کوئی نظم موجود نہیں ہے اور کوئی عالمی ادارہ ایسا نہیں ہے جو غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتا ہو۔ دعوت و تبلیغ کے نام سے ’’تبلیغی جماعت‘‘ کا مربوط اور منظم نیٹ ورک عالمی سطح پر موجود ہے لیکن اس کی سرگرمیوں کا دائرہ مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانے کی داخلی جدوجہد تک محدود ہے جو اپنی جگہ بہت ضروری اور مفید ہے بلکہ اس کے بارے میں کسی حد تک یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ محنت مسلم امہ میں دعوت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہے لیکن منطقی طور پر یہ توجیہہ قابل قبول ہونے کے باوجود عملی دنیا میں ’’تا تریاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود‘‘ کی صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینا تو رہا ایک طرف ہمارے ہاں غیر مسلموں خصوصاً مسیحی مشنریوں کا شکار ہونے والے مسلمانوں کو بچانے کے لیے کوئی پروگرام اور نظم موجود نہیں ہے۔ ایک دور میں جب متحدہ ہندوستان میں شدھی تحریک کے ذریعے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی ملک گیر مہم سامنے آئی تھی تو دارالعلوم دیوبند نے اس کے مقابلہ کے لیے باقاعدہ شعبہ تبلیغ قائم کیا تھا اور دارالعلوم دیوبند کے مبلغین و مناظرین نے ملک گیر دورے کر کے بے شمار مسلمانوں کو شدھی تحریک کا شکار ہونے سے بچایا تھا۔

اس پس منظر میں تبلیغی جماعت کے قائدین سے بطور خاص ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنے پروگرام میں غیر مسلموں کو براہ راست اسلام کی دعوت دینے کا شعبہ بھی شامل کریں اور بڑے دینی مدارس سے ہم یہ درخواست کریں گے کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تبلیغ کی طرز پر اپنے ہاں مستقل شعبے قائم کریں اور مبلغین و مناظرین کو تربیت دے کر مسیحی مشنریوں اور دیگر غیر مسلم دعوتی اداروں کا شکار ہونے والے مسلمانوں کا ایمان بچانے کی فکر کریں کہ یہ کام وہی بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔

درجہ بندی: