کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۳ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں کمال اتاترک جیسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی خلافت کا نظام قابل عمل ہے ۔جہاں تک مصطفی کمال اتاترک جیسی اصلاحات کے نفاذ کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا نفاذ کسی بھی مسلمان ملک میں ممکن نہیں رہا، اس لیے کہ وہ اصطلاحات خود ترکی میں کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکیں اور ترک عوام ان اصلاحات کا جوا بتدریج اپنی گردن سے اتارتے جا رہے ہیں۔ ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد مصطفی کمال اتاترک نے ترکی میں اسلامی قوانین کو منسوخ کرنے اور عربی زبان پر پابندی لگانے کے علاوہ مساجد، خانقاہوں اور دینی درسگاہوں کی بندش اور اسلامی اقدار و روایات پر قدغن کی اصلاحات نافذ کی تھیں اور ترکی کو مکمل طور پر ایک ماڈرن یورپین ملک بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن ترک عوام اپنے عقیدہ اور دینیات پر ان پابندیوں کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکے اور گزشتہ صدی کے چھٹے عشرہ میں منتخب وزیر اعظم عدنان میندریس شہیدؒ کی قیادت میں ان میں سے بہت ہی اصلاحات کا جو گردن سے اتار پھینکا۔ جبکہ اس کے بعد بھی ترک مسلمان جناب نجم الدین اربکان اور طیب اردگان کی راہنمائی میں بتدریج ان اصلاحات سے پیچھا چھڑانے میں مصروف ہیں۔

کمال اتاترک کی اصلاحات اسلام کے عقائد و عبادات اور معاشرتی نظام سے انحراف اور بغاوت کا اظہار تھا جس کا کسی مسلم معاشرہ میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسلام کا دم بھرتے ہوئے اس کے احکام کے عملی نفاذ سے مسلسل گریز کو مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، مغربی دانشوروں کی پیروی کرتے ہوئے وہ عام مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ خلافت کا نظام آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہے اور اسلامی نظام آج کی دنیا کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ لیکن افغانستان میں طالبان نے اپنے پانچ سالہ دور میں اسلامی احکام و قوانین کے ذریعے جرائم پر قابو پا کر اور ایک منظم معاشرہ کی طرف پیشرفت کرکے اس پراپیگنڈا کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ مسلسل جنگ سے تباہ شدہ معاشرہ میں بھی اسلامی قوانین کے ذریعے نہ صرف امن قائم کیا جا سکتا ہے بلکہ سوسائٹی کو نظم و ضبط کا پابند بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ امیر المومنین ملا محمد عمر کے صرف ایک حکم سے ان کے زیر حکومت پورے علاقے میں پوست کی کاشت مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی اور اب طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد افغانستان میں پوست کی ریکارڈ کاشت کی خبریں بین الاقوامی اخبارات میں مسلسل منظر عام پر آرہی ہیں۔

اس لیے جنرل پرویز مشرف سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مغربی دانشوروں اور اسلام دشمن لابیوں کے پراپیگنڈا سے مرعوب نہ ہوں بلکہ اسلامی نظام کو ناقابل عمل قرار دینے کی بجائے دستور پاکستان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسلامی احکام و قوانین کے عملی نفاذ کی طرف پیشرفت کریں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر کہلانے کے بعد ان کی سب سے بڑی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔

درجہ بندی: