شریعت سے ہم آہنگ معاشی نظام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۱ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع شدہ ۲۴ جون ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب یاسمین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری خطرات سے نمٹنے کے لیے شریعت سے ہم آہنگ ٹھوس نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے اسلامی بینک اور ان کے صارفین دونوں حقیقی کاروباری خطرات کم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ گزشتہ روز کراچی میں ’’اسلامی مالیات میں پیش بندی اور پیش بندی کا معاہدہ‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا آغاز ہوا جس کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک فائنانشل مارکیٹ (IIFM) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے کیا ہے، اس ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے پروگرام میں مسلسل پیشرفت کے باعث یہ ضروری ہے کہ ملک کی عمومی معیشت کی پالیسیوں کو شریعت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔

اسلامی بینکاری نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے اور چونکہ وہ ابھی تجرباتی مرحلہ میں ہے اس لیے اس کے بارے میں شرعی اور معاشی دونوں حوالوں سے مختلف حلقوں کی طرف سے خدشات و خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو ایک فطری امر ہے، کیونکہ خدشات و خطرات، بحث و مباحثہ اور تجربہ و پیشرفت کے ایسے مراحل سے گزر کر ہی کوئی نظام معاشرہ میں صحیح مقام حاصل کر سکتا ہے اور مطلوبہ مقاصد تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

مگر یہ بات بہرحال خوشی اور اطمینان کی ہے کہ اسلام کے جس غیر سودی معاشی نظام کے بارے میں آج سے ربع صدی قبل تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آج کی دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ قابل عمل معاشی نظام نہیں ہے، اس نے نہ صرف معیشت کے شعبہ میں جڑ پکڑ لی ہے بلکہ وہ آج کے معاشی ماہرین سے اپنا وجود اور ضرورت و افادیت بھی تسلیم کروا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کے اس بتدریج پیشرفت کرنے والے نظام کی کمزوریاں دور کرنے، اسے شریعت کے مقاصد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ بنانے اور اس کی کامیابی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ہمارے دینی و علمی اداروں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے اور نظام کی اصلاح کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو اس کے لیے تیار کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ معیشت کی دنیا میں آج کے اس چیلنج کا صحیح طور پر سامنا کیا جا سکے۔