قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اپریل ۲۰۱۵ء

اکیسویں آئینی ترمیم کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر بحث رٹ کے دوران ایک جسٹس صاحب محترم نے یہ جملہ کہا کہ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کیا پارلیمنٹ کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم کوئی قانون بنانے کا حق حاصل ہے؟ اس کے بعد اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی طرف سے جو تحریری موقف پیش کیا اس میں یہ کہا گیا کہ دستور کا کوئی بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس پر ایک کالم میں ہم نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے اور ملک کے اندر ان کے ہمنوا سیکولر طبقات مسلسل اس مہم میں مصروف ہیں کہ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو ختم یا کم از کم بے اثر کر دیا جائے۔

ہم نے ایک عریضہ کے ساتھ یہ کالم ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے ملک کی اہم دینی، سیاسی اور علمی شخصیات کو بھی بھجوایا جس پر بہت سے حضرات و احباب نے ہمارے اس خدشہ کی تائید کرتے ہوئے فکرمندی کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں علمی و فکری محنت کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ راقم الحروف نے ایک گفتگو میں یہ خدشہ سابق صدر پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ صاحب کی خدمت میں بھی پیش کیا اور انہوں نے بھی اس پر صاد فرمایا۔ البتہ ہمارے فاضل دوست پروفیسر عبد الرؤف آف مظفر گڑھ نے درج ذیل تبصرہ کیا ہے کہ:

’’4 اپریل کی نوائے حق پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب دستور کے بارے میں اٹارنی جنرل کے بیان کی وجہ سے کافی متفکر اور متحرک نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں وہ سپریم کورٹ جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دستور پاکستان کا کوئی ایسا ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو‘‘۔ عرض یہ ہے کہ جب دستور حقیقتاً موجود اور نافذ ہے، اس کا بنیادی ڈھانچہ بھی موجود ہے، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، حکومت، اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر تمام ادارے اسی دستور کے مطابق موجود ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں، کسی اور کو اس بارے میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے تو روز روشن کی طرح ایسے حقائق کی موجودگی کے باوجود اٹارنی جنرل کے انکار کے ایک مبہم (جس کو حضرت مولانا بھی مبہم قرار دے رہے ہیں) سے بیان کی کیا اہمیت و حیثیت ہے۔ اس بیان کو اتنا اہم بنانے کی ضرورت محسوس تو نہیں ہوتی۔ پھر اٹارنی جنرل نے پورے دستور کی بات کی ہے، صرف قرارداد مقاصد کی بات تو نہیں کی۔ ایسی صورت میں خود اس مسئلے کو چھیڑنے اور بڑھانے سے کہیں ’’آبیل مجھے مار‘‘ اور ’’لینے کے دینے‘‘ والا معاملہ تو نہیں ہو جائے گا۔ اس لیے کہ سیکولر طبقے کی تو خواہش اور کوشش یہی رہتی ہے کہ قرارداد مقاصد کے طے شدہ معاملے کو کسی نہ کسی بہانے چھیڑ کر اور متنازعہ بنا کر اسے دستور سے خارج کرانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے۔‘‘

ہم پروفیسر عبد الرؤف صاحب کے ارشاد کو اصولی طور پر درست سمجھتے ہوئے بھی پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں ایک اچھی خواہش اور خوش فہمی ہی تصور کرتے ہیں۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’’قرارداد مقاصد‘‘ کے حوالہ سے ایک جھٹکا ہم پہلے سہہ چکے ہیں اور دوسرا جھٹکا سہنے کے لیے ذہنی طور پر خود کو تیار نہیں پاتے۔

یہ محترم جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم کے دور کی بات ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ’’حاکم علی کیس‘‘ کے عنوان سے ایک رٹ میں فیصلہ دیا تھا کہ چونکہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان میں بالاتر حیثیت حاصل ہے اور اس میں ضمانت دی گئی ہے کہ ملک کے دستور و قانون کی کوئی شق قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہوگی، اس بنیاد پر پاکستان کے تحت صدر پاکستان کا یہ اختیار شریعت اسلامیہ کے منافی ہے کہ وہ قصاص میں قاتل کی سزائے موت کو رحم کی اپیل میں مقتول کے ورثاء کی مرضی کے بغیر بھی معاف کر سکتے ہیں۔ اس لیے صدر پاکستان کے اس اختیار کو قرآن و سنت کے احکام کے منافی قرار دے کر ختم کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ جب عدالت عظمیٰ میں گیا تو چیف جسٹس جناب ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ مرحوم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو ملک کے دستور میں کوئی امتیازی حیثیت حاصل ہے اور اس کی بنیاد پر دستور کی کسی دوسری شق کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ عدالت عظمیٰ نے صدر پاکستان کے اس اختیار کو بدستور بحال رکھا۔

ہمارے خیال میں یہ صرف ایک کیس کی بات نہیں تھی بلکہ ملک کے دستور و قانون میں موجود خلافِ شریعت شقوں سے عدالتی پراسس کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کے تمام امکانات کا راستہ روک دیا گیا تھا۔ اور ہم نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے محترم وکیل سردار شیر عالم خان ایڈووکیٹ مرحوم اور چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ کے تفصیلی مضامین اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں ’’الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ‘‘ کی طرف سے کتابچہ کی شکل میں شائع کیے تھے جن میں ہمارے موقف کی وضاحت موجود تھی۔ اس لیے ہم اٹارنی جنرل کے مذکورہ بالا بیان سے مطمئن نہیں ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ اسی طرح کا کوئی ایک آدھ جملہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کا حصہ بن گیا تو ہم ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی باقی ماندہ حیثیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

کہاوت ہے کہ کوئی شخص ٹوکری میں کانچ کی چوڑیاں رکھے انہیں بیچنے کے لیے لے جا رہا تھا، راستہ میں اس نے ٹوکری ایک جگہ رکھی تو وہاں کھڑے پولیس مین نے ٹوکری کو ٹھوکر ما کر پوچھا کہ اس میں کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ سر! ایک ٹھوکر اور ما ردیں تو اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔

محترم پروفیسر عبد الرؤف سے گزارش ہے کہ ہمیں اس دوسری ٹھوکر سے ڈر لگ رہا ہے۔ اسے روکا جا سکتا ہے یا نہیں، مگر ہمیں اپنے ڈر اور خدشہ کا اظہار کرنے کے حق سے تو محروم نہ کریں۔