القدس کا تاریخی پس منظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ نومبر ۲۰۰۰ء

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ کے زیر اہتمام ’’القدس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری نے کی اور اس سے مولانا حافظ محمد اسحاق آف راولپنڈی، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا قاری عبد السلام، مولانا محمد عرفان غوری، مفتی زبیر ڈوڈا، مولانا محمد قاسم، مولانا حافظ محمد اکرم، مولانا مفتی محمد نذیر اور دیگر علماء کرام کے خطابات کے علاوہ راقم الحروف کو بھی بیت المقدس اور فلسطین کے مسئلہ پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان معروضات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بیت اللہ کی طرح بیت المقدس بھی سیدنا حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا اور اس کی تعمیر بیت اللہ کے چالیس سال بعد ہوئی۔ حضرت ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ تعمیر کر کے وہاں اپنے ایک بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو بسایا جبکہ فلسطین میں بیت المقدس تعمیر کر کے وہاں دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کو بسا دیا۔ حضرت اسحاقؑ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا عظیم الشان سلسلہ قائم فرمایا۔ ’’اسرائیل‘‘ حضرت یعقوبؑ کا لقب تھا اور انہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ اس خاندان کو اپنے دور میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی عظمتوں سے نوازا اور دین و دنیا کی شوکتیں عطا فرمائیں۔ ہزاروں نبیؑ اس خاندان میں پیدا ہوئے، چار بڑی آسمانی کتابوں میں سے تین یعنی تورات، زبور اور انجیل اس خاندان کے نبیوں پر نازل ہوئیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے دنیوی بادشاہت بھی ایسی عطا فرمائی کہ پھر ایسی حکومت کسی کو نہ مل سکی۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق حضرت سلیمانؑ نے دعا مانگی تھی کہ یا اللہ مجھے ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے۔ یہ دعا قبول کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے انہیں انسانوں، جنوں، جانوروں، ہوا اور سمندر پر حکمرانی عطا فرمائی اور بے پناہ قوت و اقتدار سے نوازا۔

لیکن جب یہی بنی اسرائیل سرکشی اور نافرمانی پر آگئے اور انہوں نے بغاوت کی ساری حدوں کو عبور کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسری اقوام کے ذریعہ سزا دی۔ بیت المقدس کئی بار ان کے ہاتھ سے نکلا اور دنیا کی متعدد جابر قوموں نے عذاب الٰہی بن کر بنی اسرائیل کو وقتاً فوقتاً برباد کیا۔ لیکن پہلے مرحلہ میں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنے گناہوں سے توبہ کی تو خالق کائنات نے ان کا ہاتھ تھاما اور ان کی مدد کر کے انہیں بیت المقدس کی حکمرانی پر بحال کر دیا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے دو جنگوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

ایک بار جب بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰؑ کی قیادت میں فرعون کے مظالم اور غلامی سے نجات ملی اور انہوں نے بحیرۂ قلزم عبور کرتے ہوئے سحرائے سینا میں پڑاؤ کیا جبکہ فرعون اپنے لشکر سمیت بحیرۂ قلزم میں غرق ہوگیا تو بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا کہ وہ بیت المقدس کو اس وقت کی جابر قوم سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کریں اور اس مقدس شہر پر اپنا اقتدار بحال کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم پیغمبر حضرت موسیٰؑ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے اپنی مدد کا وعدہ کیا اور جہاد میں کامیابی کی ضمانت دی مگر غلامانہ ذہنیت کی حامل قوم کی نظر ظاہری اسباب سے آگے نہ بڑھ سکی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین نہ آیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے صاف طور پر کہہ دیا کہ بیت المقدس پر قابض قوم بڑی طاقتور اور جابر ہے اور ہم کسی طرح اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے حضرت موسیٰؑ اور ان کا خدا دونوں جا کر جنگ کریں، جب وہ کامیاب ہو کر اس طاقتور قوم کو بیت المقدس سے نکال دیں گے تو ہم وہاں داخل ہو جائیں گے۔ اس وقت تک ہم یہیں بیٹھے ہیں اور جہاد کے لیے جانے کو قطعاً تیار نہیں ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چالیس سال تک بیت المقدس میں داخلہ حرام قرار دے دیا اور وہ چالیس سال تک صحرائے سینا میں بھٹکتے رہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی نئی نسل آئی جس نے حضرت یوشع بن نونؑ کی قیادت میں جہاد کیا اور بیت المقدس کو آزاد کرایا۔

دوسری جنگ جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے وہ جالوت بادشاہ کے زمانے میں ہوئی جو اپنے وقت کا ایک جابر اور ظالم حکمران تھا اور اس نے بنی اسرائیل پر مظالم کی انتہا کر دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوتؑ کو بنی اسرائیل کا بادشاہ بنا کر جالوت کے خلاف جہاد کا حکم دیا اور وہ عظیم الشان معرکہ بپا ہوا جس میں ایک طرف حضرت طالوتؑ کی کمان میں صرف تین سو تیرہ مجاہد تھے جبکہ دوسری طرف جالوت کم و بیش ساٹھ ہزار کے لشکر جرار کی کمان کرتا ہوا میدان میں تھا۔ اس جنگ میں خود جالوت کا مقابلہ حضرت داؤدؑ سے ہوا جو ابھی نوجوان تھے۔ جالوت سر سے پاؤں تک لوہے میں ڈھکا ہوا بکتربند لباس میں ملبوس تھا اور دو آنکھوں کے علاوہ اس کے آہنی لباس میں کہیں کوئی سوراخ نہیں تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ جبکہ حضرت داؤدؑ سادہ کپڑوں میں ’’گوپیا‘‘ ہاتھ میں پکڑے اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ گوپیا خاص طرز کی غلیل ہوتی ہے جس کی ڈوری کے سرے پر چھوٹا سا پتھر لپیٹ کر ڈوری کو گھماتے ہوئے اسے نشانے پر مارتے ہیں اور وہ پتھر گولی کا کام کرتا ہے۔ حضرت داؤدؑ سامنے آئے تو جالوت نے تلوار کا وار کیا جسے حضرت داؤدؑ نے پھرتی سے ناکام بنا دیا۔ پھر حضرت داؤدؑ نے گوپیا کی ڈوری گھماتے ہوئے جالوت کی آنکھ کا نشانہ لے کر پتھر مارا تو وہ سیدھا آنکھ کے سوراخ میں داخل ہو کر دماغ میں گھس گیا اور جالوت وہیں ڈھیر ہوگیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فتح سے ہمکنار کرتے ہوئے بتایا کہ اصل قوت ظاہری اسباب و وسائل میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت میں ہے۔

یہ وہ دور تھا جب بنی اسرائیل حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کے وارث اور علمبردار تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کفر و جبر کے مقابلہ میں ان کی بہت سے مواقع پر مدد کی۔ لیکن آج صورتحال برعکس ہے۔ بنی اسرائیل کے دونوں گروہ یہودی اور عیسائی آسمانی تعلیمات سے محروم ہو چکے ہیں اور انہوں نے نہ صرف وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کو تاریخ کے دھندلکوں میں گم کر دیا ہے بلکہ وہ انسانی سوسائٹی میں آسمانی تعلیمات کی عملداری سے اعلانیہ طور پر دستبردار بھی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انبیاء کرام علیہم السلام کے مولد و مسکن اور مرکز و مستقر بیت المقدس پر ان کا کوئی استحقاق باقی نہیں رہا ۔ بیت المقدس کے وارث صرف اور صرف وہ مسلمان ہیں جو آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں، انسانی سوسائٹی میں وحی الٰہی اور خداوندی قوانین کے نفاذ کے علمبردار ہیں، اور وحی الٰہی ان کے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس لیے صرف وہی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات و مشن اور بیت المقدس کے وارث ہیں اور ان شاء اللہ العزیز جلد یا بدیر بیت المقدس پر ان ہی کا اقتدار قائم ہو کر رہے گا۔

آج بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد کے حوالے سے ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک کے حکمران طبقات آسمانی تعلیمات سے دستبرداری اور انسانی سوسائٹی پر وحی الٰہی کی حکمرانی سے انکار کے معاملہ میں یہود و نصاریٰ کے ہم خیال ہو چکے ہیں وہ عملاً انہی کے کیمپ میں شمار ہوتے ہیں۔ اور وہ حضرت موسیٰؑ کے ان ساتھیوں جیسا کردار ادا کر رہے ہیں جنہوں نے جہاد سے انکار کر کے پیچھے بیٹھے رہنے کا معاملہ کیا تھا، اسی لیے ان سے ’’جہاد فلسطین‘‘ میں کسی مثبت کردار کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اور اس لحاظ سے اسلامی تحریکات کو بیک وقت دو محاذوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف یہود و نصاریٰ کی مشترکہ قوت ہے جبکہ دوسری طرف انہی کے مشن کی حامل نام نہاد مسلمان حکومتیں ہیں۔ اس لیے راستہ بڑا کٹھن اور جدوجہد بہت صبر آزما ہے لیکن اللہ تعالیٰ آج بھی وہی ہے جس نے جالوت جیسے آہن پوش کمانڈر کے مقابلہ میں حضرت داؤد علیہ السلام جیسے نہتے نوجوان کو فتح دی تھی۔ چنانچہ اگر آج بھی ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے طاقتور ’’پاور ہاؤس‘‘ کے ساتھ اپنا کنکشن جوڑ لیں اور ایمانی قوت کے ساتھ کفر اور منافقت کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں تو یقیناً دونوں محاذوں پر فتح ہوگی اور آج بھی صرف غلیل سے لڑنے والے مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس آزاد ہوگا بلکہ پورے عالم اسلام پر بھی خلافت کا پرچم ایک بار پھر آن بان کے ساتھ لہرا کر رہے گا۔

درجہ بندی: