پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ نومبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
خواجہ سعد رفیق کی خدمت میں ایک ضروری گزارش

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی خدمت میں یکم اگست 2016ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے میں نے ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے۔

’’گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز اور جمعۃ المبارک جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ مسجد اب بھی بارونق و آباد ہے۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ مسجد کے تحفظ کے لیے بطور خاص حکم جاری فرمائیں تاکہ وہاں کے مستقل نمازی حسب سابق نمازیں ادا کر سکیں اور خانۂ خدا کا تقدس برقرار رہے۔‘‘

خواجہ صاحب محترم کی طرف سے تو اس خط کا کوئی جواب تا حال موصول نہیں ہوا مگر محکمہ ریلوے کی طرف سے وہاں تعمیر کیے جانے والے کمرشل پلازہ کا ایک نقشہ جاری کیا گیا جس میں مسجد کو ختم کر کے اس کی جگہ ’’گرین بیلٹ‘‘ دکھایا گیا۔ میں نے اپنے اس خط کی کاپیاں مختلف سرکردہ حضرات کو بھجوائی تھیں جن میں سے وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات شاہ اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے اس کی تائید میں خواجہ سعد رفیق کو خط لکھے اور ان کی کاپیاں مجھے بھی بھجوائیں جو میرے پاس موجود ہیں۔ خاصی دیر جواب کے انتظار کے بعد میں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) گوجرانوالہ کے صدر حاجی عبد الرؤف مغل ایم پی اے کو تفصیلی خط لکھا کہ وفاقی وزیر ریلوے کی طرف سے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا البتہ محکمہ ریلوے کے بعض افسران کی طرف سے ایک متبادل نقشہ دکھایا جا رہا ہے جس میں مسجد کی جگہ گرین بیلٹ کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد کے لیے متبادل جگہ تجویز کی گئی ہے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر تو ریلوے کے نئے ٹریک کے لیے مسجد کی جگہ کو تبدیل کرنا ضروری ہے یا جی ٹی روڈ کی توسیع کے لیے یہ جگہ درکار ہے تو مسجد کو متبادل جگہ میں منتقل کرنے کی بات سوچی جا سکتی ہے، لیکن اگر مسجد کو گرا کر اس کی جگہ کسی کمرشل پلازہ کا گرین بیلٹ بنانے کا پروگرام ہے تو یہ بات مسجد کے تقدس کے منافی ہونے کے باعث شرعاً درست نہیں ہوگی۔ اس لیے یہ تجویز ہمیں قبول نہیں ہے اور ہماری درخواست ہے کہ مسجد کو اس کی جگہ پر ہی برقرار رکھا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جو متبادل جگہ مسجد کے لیے تجویز کی گئی ہے وہاں ایک مسجد پہلے سے موجود ہے اور بارونق و آباد ہے اس لیے اس کے ساتھ متصل دوسری مسجد تعمیر کرنا بھی درست نہیں ہے۔

حاجی عبد الرؤف مغل صاحب سے جمعیۃ اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے ملاقات کر کے انہیں ذاتی طور پر بھی ہمارے اس موقف سے آگاہ کیا جس سے حاجی صاحب نے اتفاق کا اظہار فرمایا۔ کچھ دنوں کے بعد وفاقی وزیر ریلوے کے اسلام آباد آفس سے فون پر کسی صاحب نے مجھ سے بات کی اور کہا کہ آپ تسلی رکھیں مسجد کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ میں خواجہ سعد رفیق صاحب کی طرف سے اپنے خط کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔ البتہ اس فون کے بعد میں قدرے مطمئن ہوگیا کہ شاید مسجد کو گرانے کا یہ پروگرام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مگر ابھی دو روز قبل وہاں نئی تعمیر کی جانے والے کمرشل پلازہ کی بلڈنگ کے ایک افسر نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا کہ آپ وہاں آکر مسجد کی جگہ اور اس کا نقشہ دیکھ لیں۔ مجھے اس روز لاہور جانا تھا اس لیے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد اور جمعیۃ علماء اسلام (ف) کے ضلعی سیکرٹری جنرل چودھری بابر رضوان باجوہ کو وہاں بھجوایا کہ جا کر صورتحال معلوم کرلیں۔ وہ وہاں پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ مسجد کے لیے متبادل جگہ تجویز کی گئی ہے جبکہ پہلے سے موجود مسجد کی جگہ میں مجوزہ نقشہ کے مطابق گرین بیلٹ ہی بنے گا۔ اس پر دونوں حضرات نے متعلقہ افسر کو اپنے اس موقف سے دوبارہ آگاہ کیا کہ نیا ریلوے ٹریک بچھانے یا جی ٹی روڈ کی توسیع کے لیے تو مسجد کو منتقل کرنے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے لیکن مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ کسی کمرشل پلازہ کا گرین بیلٹ بنانے کا منصوبہ قابل قبول نہیں ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو گرانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے حالانکہ شہر کے بہت سے معززین اور تاجر برادری کا موقف اور مطالبہ یہ ہے کہ یہ ایک تاریخی بلڈنگ ہے جسے گرانے کی بجائے شہر کی پرانی یادگار کے طور پر قائم رکھا جانا چاہیے۔ ہم بھی تاجر برادری کے اس موقف سے اصولی طور پر اتفاق رکھتے ہیں البتہ ہماری زیادہ دلچسپی مسجد کے تحفظ میں ہے کیونکہ یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ یہ ساری صورتحال خواجہ سعد رفیق صاحب کے علم میں ہے لیکن وہ کوئی دلچسپی نہیں لے رہے اور نہ ہی کسی خط کا جواب دے رہے ہیں۔ اس لیے مجبورًا اس کالم کے ذریعہ ان کی خدمت میں اور دیگر متعلقہ حضرات تک اپنا موقف پہنچانے کے لیے یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں۔ جبکہ اس سلسلہ میں آئندہ لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے شہر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس 22 نومبر منگل کو ظہر کی نماز کے بعد مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں قدیمی ریلوے اسٹیشن کی مسجد کے تحفظ کے لیے باہمی مشاورت کے ساتھ پروگرام طے کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اگر خواجہ سعد رفیق کی بجائے ’’ڈائریکٹ حوالدار‘‘ قسم کے کوئی وفاقی وزیر صاحب اس طرح کرتے تو ہمیں گلہ نہ ہوتا مگر خواجہ محمد رفیق شہیدؒ کی گود میں پرورش پانے والے سیاسی کارکن سے اس طرز عمل کی کم از کم مجھے توقع نہیں تھی۔