چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

۳ مارچ ۲۰۱۸ء

سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات

انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات

۲۸ فروری ۲۰۱۸ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل

ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل

۲۵ فروری ۲۰۱۸ء

جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ

۱۸ فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور کی سالانہ تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ جامعہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے شاہدرہ لاہور میں امامیہ کالونی سے گزر کر عمرؓ چوک کے بائیں جانب محمود کالونی میں قائم کر رکھا ہے۔ علامہ صاحب خود تو مانچسٹر برطانیہ میں قیام رکھتے ہیں جبکہ ان کی نگرانی میں مفتی عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم اس ادارہ کو چلا رہی ہے۔ حضرت علامہ صاحب سال میں ایک بار تشریف لا کر چند ہفتے لاہور میں قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ

۲۱ فروری ۲۰۱۸ء

’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہوں۔ پھر پوچھا کہ دینی تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟ جواب دیا کہ ایک مکتب میں ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ علمِ حدیث کی کوئی کتاب اردو میں مطالعہ کی ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بیٹا خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

۱۵ فروری ۲۰۱۸ء

’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے حوالے سے ایک سوال

آج کا کالم ایک طالب علمانہ سوال کی نذر ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟ اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے حوالے سے ایک سوال

۹ فروری ۲۰۱۸ء

چند روز صوبہ سندھ میں

ششماہی امتحان کی تعطیلات کا بڑا حصہ حسبِ سابق اس سال بھی کراچی میں گزرا۔ میرے عزیز نواسے حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل و مدرس جامعہ نصرۃ العلوم رفیقِ سفر تھے۔ جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن اور مجلس صوت الاسلام کلفٹن میں علماء کرام کی مختلف نشستیں ہوئیں جن میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کا ناقدانہ جائزہ اور بیت المقدس کے مسئلہ کے تاریخی پس منظر کے علاوہ دورِ حاضر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات و روابط سے متعلقہ بعض فقہی مباحث موضوع گفتگو تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند روز صوبہ سندھ میں

۲ فروری ۲۰۱۸ء

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

۳۰ جنوری ۲۰۱۸ء

’’پیغامِ پاکستان‘‘

۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرینِ امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پیغامِ پاکستان‘‘

۲۰ جنوری ۲۰۱۸ء

کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟

قرآنِ کریم کا اسلوب کسی مسئلہ کے بارے میں سارے معاملات یکجا ذکر کرنے کا نہیں ہے بلکہ کسی ایک موضوع یا مسئلہ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر متنوع لہجوں میں متفرق ارشادات ملتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم مسلسل تئیس سال تک تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ہے اور موقع محل کے مطابق اس کے ارشادات میں اجمال و تفصیل اور اسالیب کا تنوع پایا جاتا ہے۔ اسی لیے تفسیرِ قرآن کریم میں ہمیں پہلا اصول یہ پڑھایا جاتا ہے ’’یفسر بعضہ بعضًا‘‘ کہ قران کریم کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر و تشریح کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟

۱۶ جنوری ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔