فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۹ اگست کو ستیانہ روڈ فیصل آباد کے سلیمی چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد آف کندیاں شریف نے کی اور خطاب کرنے والوں میں مولانا اللہ وسایا، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۱۲ اگست ۲۰۱۸ء

موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف

عام انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس ۲ اگست کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں طلب کیا جس میں بعض دیگر ہم خیال دینی راہنماؤں کو بھی خاص طور پر دعوت دی گئی تاکہ ان کی رائے اور مشاورت سے استفادہ کیا جا سکے۔ ان میں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمان ثانی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، اور مجلس احرار اسلام کے راہنما قاری محمد قاسم احرار نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف

۴ اگست ۲۰۱۸ء

گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں سیرت النبیؐ کی تقریب

گزشتہ روز گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، ڈاکٹر فضل الرحمان ہمارے محترم دوست ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے خصوصی متعلقین بلکہ خدام میں سے ہیں۔ ان کی دعوت پر کالج میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت ہوئی جس میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف کالجوں کے طلبہ اور طالبات کے درمیان تقریری مقابلہ کی نشست بھی تھی اور اس میں مجھے جج بنایا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں سیرت النبیؐ کی تقریب

۲ اگست ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

اگست ۲۰۱۸ء

’’ہنگ پارلیمنٹ‘‘

الیکشن گزر چکے ہیں، وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کی سرگرمیاں جاری ہیں، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیتے ہوئے حلف برداری کی تقریب کے بائیکاٹ اور احتجاجی مہم کی کال دے رکھی ہے، الیکشن کمیشن دھاندلیوں کے وسیع تر اور سنگین الزامات کی زد میں ہے، اور مختلف اطراف سے بیان بازی زور و شور کے ساتھ ہو رہی ہے۔ مگر اس ساری فضا میں ہمارا دکھ قدرے مختلف ہے کہ سب متعلقہ حلقے موجودہ صورتحال کو حالیہ انتخابات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ہنگ پارلیمنٹ‘‘

۳۱ جولائی ۲۰۱۸ء

پاکستان کے عام انتخابات / امریکی وزارت خارجہ کی مذہبی کانفرنس

عام انتخابات کے نتائج سے پیدا شدہ صورتحال پر اس سرسری تبصرہ کے بعد آج کے کالم میں ایک اور اہم مسئلہ پر کچھ عرض کرنا ضروری اور بروقت معلوم ہوتا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ مذہبی آزادی کے عنوان سے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی کانفرنس منعقد کر رہی ہے جس کا آغاز ۲۹ جولائی کو واشنگٹن میں ہوگا اور وہ مسلسل تین روز تک جاری رہے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جناب مائیک پومپیو کے اعلان کے مطابق چالیس سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ، مذہبی راہنما، دانشور، این جی اوز اور انسانی حقوق کے وکلاء اس میں شریک ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے عام انتخابات / امریکی وزارت خارجہ کی مذہبی کانفرنس

۲۸ جولائی ۲۰۱۸ء

عوامی نمائندگی اور سیرتِ طیبہؐ

انتخابات کے موقع پر عام طور پر یہ سوال زیربحث آجاتا ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی چلتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں عوام کی رائے اور ان کے نمائندوں کے چناؤ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اس سلسلہ میں کوئی راہنمائی ملتی ہے؟ آج اس حوالہ سے کچھ گزارش کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات تو معروف و مسلم ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جن معاملات میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی ان میں لوگوں سے مشورہ کر کے فیصلے کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عوامی نمائندگی اور سیرتِ طیبہؐ

۲۶ جولائی ۲۰۱۸ء

پارلیمنٹ کیسی ہونی چاہیے؟

گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مفتی محمد نعمان پسروری، قاری عبید اللہ عامر، مولانا عبد المالک فاروقی اور قاری محمد عثمان رمضان کے ساتھ فیصل آباد کے دورے پر تھا کہ دوران سفر مفتی محمد نعمان نے ایک پرانا کالم یاد دلایا جس میں عام انتخابات کے کسی موقع پر میں نے لکھا تھا کہ میں پارلیمنٹ میں کن حضرات کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کا تقاضہ تھا کہ وہ کالم دوبارہ شائع ہونا چاہیے مگر حالات میں تغیرات کی وجہ سے میں اپنے جذبات و احساسات کے دائرے میں اس حوالہ سے ازسرنو کچھ عرض کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کیسی ہونی چاہیے؟

۲۳ جولائی ۲۰۱۸ء

چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت

میرے نانا جی محترم مولانا محمد اکبرؒ کا تعلق راجپوت جنجوعہ فیملی سے تھا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا اور تو وہ موجودہ تھانہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کے عقبی محلہ کی ایک مسجد میں امام و خطیب تھے اور مسجد کے مکان میں ہی ان کی رہائش تھی۔ ان کی وفات تک یہ محلہ میرے کھیل کود اور بچپن کی سرگرمیوں کی جولانگاہ رہا۔ وہ قرآن کریم معروف لہجے میں اچھی طرز سے پڑھتے تھے جو اس دور میں کمیاب تھا۔ مطالعہ کے شوق کے ساتھ ساتھ اس کا عمدہ ذوق بھی رکھتے تھے، دہلی کا ماہنامہ برہان اور لکھنؤ کے دو رسالے النجم اور الفرقان ان کے پاس پابندی سے آتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت

۱۹ جولائی ۲۰۱۸ء

خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

آج ۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

۱۷ جولائی ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔