khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

۱۰ جنوری ۲۰۱۸ء

صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم نے جس متفقہ موقف اور ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ قومی وقار اور حمیت کا ناگزیر تقاضہ ہے اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ بس! اب بہت ہو چکی ہے اور اس سے آگے کوئی بات قابل برداشت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ان کے بقول گزشتہ پندرہ سال کے دوران تینتیس ارب ڈالر دیے ہیں لیکن پاکستان نے دوغلے پن سے کام لیا ہے اور امریکہ کی توقعات کو پورا کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

۶ جنوری ۲۰۱۸ء

پاکستان نعت کونسل کے زیر اہتمام ’’نعت کانفرنس‘‘ میں شرکت

سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ہمارے لیے بڑی نعمتیں ہیں جن سے ہم باقی بہت سے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنوں اور اوقات کا حساب بھی طے کرتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کے احکام میں دونوں کا اعتبار کیا جاتا ہے چنانچہ رمضان المبارک، عیدین، لیلۃ القدر، یوم عرفہ اور دیگر ایام کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ نماز، روزہ اور مناسکِ حج کے اوقات سورج کی گردش کے حساب سے طے پاتے ہیں۔ شمسی سال کا موجودہ حساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور ’’عیسوی‘‘ اور ’’میلادی‘‘ کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان نعت کونسل کے زیر اہتمام ’’نعت کانفرنس‘‘ میں شرکت

۲ جنوری ۲۰۱۸ء

جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان

آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ اتوار کو گوجرانوالہ کینٹ میں اپنے آبائی شہر گکھڑ کے چند سرکردہ شہریوں کے ساتھ محفل جمائی۔ گکھڑ سے تعلق اور اس سے بڑھ کر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا فرزند ہونے کے حوالہ سے مجھے بھی شریک محفل کیا گیا اور جنرل صاحب محترم نے عزت افزائی سے نوازا ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ جنرل صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور ان کے بے ساختہ پن اور بے تکلفانہ انداز نے بہت متاثر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان

۲۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کا قانون تبدیل کیا جائے۔ توہینِ رسالتؐ پر سزا کا قانون، تحفظ ختم نبوت کی قانونی دفعات، نافذ شدہ چند شرعی قوانین اور دستور کی اسلامی دفعات ایک عرصہ سے بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بہت سے عالمی ادارے ہمارے ان قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

۲۰ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۱۷ء

استنبول اعلامیہ، متحدہ مجلس عمل اور دفاع پاکستان کونسل

گزشتہ ہفتہ کی تین اہم خبروں کے حوالہ سے آج کچھ گزارشات پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ پہلی خبر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے استنبول میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی ہے جس میں امریکہ کا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ’’القدس‘‘ فلسطین کا دارالحکومت ہے اور امریکی صدر کا یہ اعلان غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر استنبول اعلامیہ، متحدہ مجلس عمل اور دفاع پاکستان کونسل

۱۶ دسمبر ۲۰۱۷ء

دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہیدؒ اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

۱۳ دسمبر ۲۰۱۷ء

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

تحفظ ختم نبوت کا بحران اور قدرت کا سبق!

تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے دھرنے ختم ہوگئے ہیں لیکن اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو شاید خاصی دیر تک جاری رہے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس صورت حال کا نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس دوستوں کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ ہائی کورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر عدالت عظمٰی ہی کوئی فیصلہ کرے گی مگر اس سے ہٹ کر کچھ عمومی نوعیت کے سوالات پر چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ختم نبوت کا بحران اور قدرت کا سبق!

۶ دسمبر ۲۰۱۷ء

ختم نبوت کی جدوجہد کا ایک اور سنگِ میل

حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے درمیان معاہدہ اور اس کے نتیجے میں دھرنے کے اختتام پر پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ ختم نبوت جیسے نازک اور حساس مسئلہ پر ملک سنگین بحران او رخلفشار سے نکل گیا ہے اور تحریک ختم نبوت کے ایک بڑے تقاضے کی بھی بحمد اللہ تکمیل ہوگئی ہے، فالحمد للہ علٰی ذلک۔ اس میں جس نے بھی کسی مرحلہ میں کوئی کردار ادا کیا ہے وہ تحسین و تبریک کا مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کی جدوجہد کا ایک اور سنگِ میل

۲۹ نومبر ۲۰۱۷ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔