ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی ۔ ۔ ۔

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدۂ عمرانی کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے ۔ ۔ ۔

یکم جولائی ۲۰۱۷ء

فہم قرآن کا صحیح راستہ

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے ذوق کے مطابق اعمالِ خیر میں مصروف ہیں۔ روزے کے بعد اس ماہ مبارک کی سب سے بڑی مصروفیت قرآن کریم کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ کلام پاک اس مہینہ میں نازل ہوا تھا اور اسی میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، تلاوت اور سماعت کے ساتھ ساتھ فہم قرآن کریم کے ذوق میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے مختلف حلقے لگتے ہیں، اخبارات و جرائد میں مضامین کی اشاعت ہوتی ہے جبکہ سوشل میڈیا نے اس کے دائرہ کو بہت زیادہ تنوع کے ساتھ وسیع کر دیا ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۷ء

سوشل میڈیا میں زیر بحث چند سوالات کا مختصر جائزہ

رمضان المبارک کے دوران مختلف سوالات سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے جن میں سے بعض کے بارے میں راقم الحروف سے بھی کچھ دوستوں نے پوچھا، ان کے حوالہ سے جو گزارشات پیش کی گئیں ان کا ضروری خلاصہ نظر ثانی کے بعد قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ جون ۲۰۱۷ء

’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی سیاست اور رانا نذر الرحمان مرحوم

گزشتہ دنوں رانا نذر الرحمان بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آج کی نسل ان سے متعارف نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے انہیں کوچۂ سیاست میں چلتے پھرتے دیکھا ہے ان کے لیے وہ بھولنے والی شخصیت نہیں ہے۔ میں نے تو ان کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے، باہمی محاذ آرائی کا بھی اور پھر رفاقت اور دوستی کا بھی۔ جب عملی سیاست میں سرگرم ہوا تو صدر محمد ایوب خان مرحوم کا آخری دور تھا، ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت سے استعفیٰ دے کر ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کے نعرے پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بگل بجا دیا تھا ۔ ۔ ۔

۲۴ جون ۲۰۱۷ء

’’ریاست مدینہ‘‘ کا سماجی و تاریخی پس منظر

یہاں ایک تاریخی سوال سامنے آتا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ تو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے قریشیوں کے بے پناہ مظالم سے تنگ آکر پناہ لینے کے لیے یثرب کی طرف آئے تھے، یہ آتے ہی ریاست و حکومت کی صورت کیسے بن گئی؟ اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے ہجرت نبویؐ کے مقاصد اور اس کے ساتھ اس دور کے سماجی تناظر پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس وقت کے آثار و روایات کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہجرت کا مقصد صرف کفار مکہ کے مظالم سے نجات اور پناہ کی جگہ حاصل کرنا نہیں تھا ۔ ۔ ۔

۲۴ جون ۲۰۱۷ء

’’ ایک سو اَسی نفلوں سے جیت‘‘

مجھے کھیلوں سے اس حد تک کبھی دلچسپی نہیں رہی جو معمولات اور ضروری کاموں پر اثر انداز ہو مگر بہرحال کچھ نہ کچھ تعلق ضرور چلا آرہا ہے۔ لڑکپن کے دور میں گکھڑ میں میرے ہم عمر دوستوں نے کرکٹ کی دو ٹیمیں بنا رکھی تھیں یونین کلب اور آزاد کلب کے نام سے۔ ان میں سے ایک کے کپتان محمد یونس بھٹی اب مرحوم ہو چکے ہیں جبکہ دوسری ٹیم کے کپتان محمد عبد اللہ خالد بقید حیات ہیں۔ دونوں میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور خالد صاحب کی صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں ۔ ۔ ۔

۲۰ جون ۲۰۱۷ء

امریکہ بنام امریکہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تین امریکی ریاستوں کے جذبات اور اپیل کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی عوام بالخصوص وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو وہ تبدیلیاں ہضم نہیں ہو رہیں جو امریکہ کے موجودہ عالمی کردار کے تسلسل کی وجہ سے سامنے آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل واشنگٹن نے آزادی کےبعد امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکی حکومت کو تلقین کی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور خود کو امریکہ کے قومی معاملات تک محدود رکھے ۔ ۔ ۔

۱۷ جون ۲۰۱۷ء

مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

۱۵ جون ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز`

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ جون ۲۰۱۷ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں حوالہ جات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔